کاینات میں 117 نوری سال دوری پر، سرخ بونے ستارے کے گرد الٹا بنا ہوا (inside out) سیاروی نظام دریافت ہوا ہے جس نے فلکیاتی نظریات کو جھٹکا لگا دیا ہے، اس الٹی دنیا یعنی الٹی ساخت کے نظام کو دیکھ کر سائنس دان حیران رہ گئے ہیں۔
ماہرینِ فلکیات نے کاینات میں ایک ایسا سیاروی نظام دریافت کیا ہے جو سیاروں کے بننے کے موجودہ نظریات کے خلاف ہے، جو الٹی دنیا جیسے تصوراتی خیال جیسا ہے۔ اس نظام میں گیس والے سیاروں کے باہر ایک چٹانی سیارہ موجود ہے، حالاں کہ نظریے کے مطابق وہاں گیس والا سیارہ ہونا چاہیے تھا۔
یہ دریافت یورپی خلائی ادارے کی چیپس (Cheops) خلائی دوربین سے کی گئی۔ یہ نظام زمین سے 117 نوری سال دور برج لنکس (Lynx) کی سمت میں واقع ہے۔ یہ چار سیاروں پر مشتمل ہے۔ دو سیارے چٹانی ہیں اور دو گیس والے۔
یہ تمام سیارے ایک سرخ بونے ستارے ایل ایچ ایس 1903 کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ یہ ستارہ سورج کے مقابلے میں آدھی کمیت اور صرف 5 فیصد روشنی رکھتا ہے۔
سائنس دانوں کی توجہ سیاروں کی ترتیب نے حاصل کی، سب سے اندرونی سیارہ چٹانی ہے، اس کے بعد دو گیس والے سیارے ہیں، جب کہ چوتھا اور سب سے بیرونی سیارہ (جو نظریے کے مطابق گیس والا ہونا چاہیے تھا) درحقیقت چٹانی ہے۔ یہی بات سائنس دانوں کے لیے حیرت کا سبب بنی۔
محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے چوتھا سیارہ بعد میں بنا ہو، جب گیس کم بچی تھی۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اس کی گیس والی فضا کسی ٹکر کے باعث ختم ہو گئی ہو۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات تھامس ولسن، جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں اور جن کی تحقیق سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی، نے کہا ’’سیاروں کی تشکیل کے موجودہ نظریے کے مطابق میزبان ستارے کے قریب بننے والے سیارے عموماً چھوٹے اور چٹانی ہوتے ہیں، جن میں گیس یا برف نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے، جو گیس یا برف کو برقرار نہیں رہنے دیتا، اور جو فضا بنتی بھی ہے وہ ستارے کی شعاعوں سے ختم ہو سکتی ہے۔‘‘
انھوں نے کہا ’’اس کے برعکس زیادہ فاصلے پر بننے والے سیارے سرد علاقوں میں بنتے ہیں جہاں گیس اور برف کی بہتات ہوتی ہے، جس سے موٹی فضا والے گیس سے بھرپور سیارے وجود میں آتے ہیں۔ یہ نظام اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کیوں کہ یہاں گیس والے سیاروں کے باہر ایک چٹانی سیارہ موجود ہے۔‘‘
اِن سائیڈ آؤٹ نظام، کیا یہ قابل رہائش ہے؟
ولسن نے اسے ’’اِن سائیڈ آؤٹ بنا ہوا نظام‘‘ قرار دیا۔ ہمارے نظامِ شمسی میں چار اندرونی سیارے چٹانی ہیں جب کہ چار بیرونی سیارے گیس والے ہیں۔ پلوٹو جیسے چٹانی بونے سیارے جو گیس والے سیاروں سے بھی باہر گردش کرتے ہیں، ہمارے نظامِ شمسی کے سیاروں کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔
یہ چوتھا سیارہ دل چسپی کا مرکز ہے کیوں کہ اس کا درجہ حرارت تقریباً 60 ڈگری سیلسیس ہے۔ اس کی کمیت زمین سے 5.8 گنا زیادہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مستقبل میں جیمز ویب خلائی دوربین اس سیارے کے حالات کا مزید جائزہ لے سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت سیاروں کی تشکیل کے موجودہ نظریات پر نئی بحث چھیڑ سکتی ہے۔
نئے دریافت شدہ نظام کے چاروں سیارے اپنے ستارے کے اس سے بھی زیادہ قریب گردش کر رہے ہیں جتنا ہمارے نظامِ شمسی میں عطارد سورج کے قریب ہے۔ درحقیقت سب سے بیرونی سیارہ عطارد اور سورج کے درمیان فاصلے کے صرف 40 فی صد فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ سرخ بونے ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کے لیے یہ معمول کی بات ہے کیوں کہ یہ ستارے سورج کے مقابلے میں کہیں کم طاقت ور ہوتے ہیں۔
دونوں چٹانی سیاروں کو ’’سپر ارتھ‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ زمین کی طرح چٹانی ہیں لیکن کمیت میں زمین سے دو سے دس گنا زیادہ ہیں۔ دونوں گیس والے سیاروں کو ’’منی نیپچون‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ گیس سے بھرپور ہیں اور ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے چھوٹے گیس والے سیارے نیپچون سے چھوٹے مگر زمین سے بڑے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ سیارے ایک ہی وقت میں گیس اور گرد و غبار کی بڑی گردش کرتی ہوئی قرص میں نہیں بنے، بلکہ مرحلہ وار بنے۔ ممکن ہے چوتھے سیارے کی فضا بنانے والی گیس اس کے بننے سے پہلے ہی دوسرے سیارے استعمال کر چکے ہوں۔ ولسن کے مطابق چوتھا سیارہ غالباً ’’دیر سے بننے والا‘‘ سیارہ تھا۔ انھوں نے کہا ’’یہ دوسرے سیاروں کے بعد ایک ایسے ماحول میں بنا جہاں گیس کم تھی۔ اس سیارے کی تشکیل کے لیے مواد بھی زیادہ دستیاب نہیں تھا۔‘‘ ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ سیارہ ابتدا میں موٹی گیس والی فضا کے ساتھ پیدا ہوا ہو لیکن بعد میں کسی بڑے حادثے میں اس کی فضا ختم ہو گئی ہو اور صرف چٹانی مرکز باقی رہ گیا ہو۔
اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات اور تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو کیمرون نے کہا ’’کیا چوتھا سیارہ عین اس وقت بنا جب گیس ختم ہو رہی تھی؟ یا پھر کسی دوسرے جسم سے ٹکرانے کے باعث اس کی فضا چھن گئی؟ دوسرا امکان سننے میں عجیب لگتا ہے، لیکن یاد رہے کہ زمین اور چاند کا نظام بھی غالباً ایسی ہی ایک ٹکر کا نتیجہ ہے۔‘‘
یہ چوتھا سیارہ اپنی ممکنہ رہائش پذیری کے باعث بھی دل چسپی کا مرکز ہے۔ اس کی کمیت زمین سے 5.8 گنا زیادہ ہے اور اس کا درجہ حرارت تقریباً 140 ڈگری فارن ہائیٹ (60 ڈگری سیلسیس) ہے۔ ولسن نے کہا ’’60 ڈگری سیلسیس کا درجہ حرارت زمین پر ریکارڈ کیے گئے بلند ترین درجہ حرارت، یعنی 57 ڈگری سیلسیس (135 ڈگری فارن ہائیٹ) کے بہت قریب ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ یہ سیارہ رہنے کے قابل ہو۔ مستقبل میں جیمز ویب خلائی دوربین کے مشاہدات اس سیارے کے حالات کو واضح کر سکتے ہیں اور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ یہ کس حد تک قابلِ رہائش ہو سکتا ہے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


