یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کے اقدام خودکشی کے واقعے میں شامل تفتیش نوجوان کو بیان ریکارڈ کرکے کلیئر کردیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق نواب ٹاؤن پولیس نے نوجوان کو تفتیش میں کلیئر ہونے پر رہا کردیا، نوجوان کی واقعے میں کوئی ذمہ داری یا غفلت ثابت نہیں ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ مکمل ذاتی نوعیت کا ہے کسی دوسرے کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا، اویس کی خودکشی اور طالبہ کا اقدام خودکشی نوعیت اور وجوہات میں مختلف ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے پر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کال ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
یہ پڑھیں: یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ مکمل ہوش میں آگئی
ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
اس سے قبل لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے واقعے کے حوالے سے پولیس تفتیش میں معاملہ مبینہ طور پر پسند کی شادی کا نکلا تھا۔
اس سلسلے میں پولیس نے نارنگ منڈی سے احمد بلال نامی لڑکے کو حراست میں لیا تھا، فاطمہ اپنی پسند کے لڑکے احمد بلال سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
پولیس ذرائع کا بتانا تھا کہ لڑکا نارنگ منڈی کا رہائشی ہے لیکن اہلخانہ اس شادی کے لیے راضی نہیں تھے اور وہ طالبہ کو تعلیم جاری رکھنے پر مجبور کر رہے تھے، پسند کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے دلبراشتہ ہونے پر فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کی۔
حسن حفیظ ایک نوجوان صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز لاہور کے لئے صحت، تعلیم اور ایوی ایشن سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں


