لندن (18 اگست 2026): برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی نیو کاسل کے 2 پاکستان نژاد ماہرینِ تعلیم نے پاکستان میں ایسا پلانٹ تعمیر کرنے کے لیے فنڈنگ حاصل کر لی ہے، جو زرعی فضلے کو صاف توانائی میں تبدیل کرے گا۔
برطانوی حکومت نے تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کی گرانٹ اس منصوبے کے لیے جاری کی ہے، اس منصوبے کی اہم بات یہ بھی ہے کہ پنجاب میں خواتین کو زرعی فضلہ جمع کرنے اور فراہم کرنے کے عوض آمدن بھی دی جائے گی۔
نارتھمبریا یونیورسٹی کے اسکول آف انجینئرنگ، فزکس اینڈ میتھمیٹکس کے پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول اور ڈاکٹر جبران خالق اس منصوبے کے روح رواں ہیں اور اس منصوبے کو سیفر پلس کا نام دیا گیا ہے، جو کپاس کی ٹہنیوں اور گنے کے فضلے کو ایندھن میں تبدیل کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہر سال اس فضلے کی لاکھوں ٹن مقدار جلائی جاتی ہے، جو فضائی آلودگی اور موسمِ سرما کے دوران دھند اور سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔



