The news is by your side.

Advertisement

یونیورسٹی طالبہ کو ہراساں کرنے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل

کراچی: نواب شاہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ کو ہراساں اور اس پر تشدد کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 3 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق کمیٹی پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ میں طالبہ کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ ڈاکٹر محمد جمن کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ ڈپٹی ہیلتھ سروسز شہاب الدین اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ممبر ہوں گے۔

3 رکنی ٹیم کل سے تحقیقات کا آغاز کری گی۔ کمیٹی کو 3 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمیٹی تمام ملوث عملے اور متاثرہ طالبہ کے بیانات قلمبند کرے گی۔ کمیٹی ثبوت اکٹھا کر کے رپورٹ وزیر صحت سندھ کو پیش کرے گی۔

ادھر نواب شاہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ پروین بلوچ کے ورثا مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ پروین بلوچ کے لیے پریس کلب کے سامنے 10 گھنٹے کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں ڈپٹی کمشنر عامر حسین پنھور، ایس ایس پی امیر مسعود مگسی اور وائس چانسلر گلشن میمن پہنچ کر طالبہ کے مطالبات مان کر دھرنا ختم کرایا۔

پی ایم یو کی طالبہ پروین بلوچ پر مبینہ تشدد و ہراسمنٹ کے خلاف پریس کلب کے سامنے متعدد افراد کا احتجاجی دھرنے میں موجود تھے۔ احتجاجی دھرنے میں میں پی آئی، سول سوسائٹی، قوم پرست جماعت کے کارکن بھی شامل تھے۔

ایس ایس پی شہید بے نظیر آباد امیر مسعود مگسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طالبہ کو ہراسمنٹ کرنے والا ڈائریکٹر غلام مصطفے راجپوت کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا، ڈائریکٹر کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

وائس چانسلر گلشن میمن کا کہنا تھا کہ وارڈرن فرین ڈاہری اور عاتکا معطل کردی گئیں، فریدہ وگن کو معطل کرنے کیلئے لیٹر ہائی اتھارٹی کو لکھ معطل کرنے کی سفارش کریں گے۔

واضح رہے کہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ پروین بلوچ نے ڈائریکٹر غلام مصطفے راجپوت پر ہراسمنٹ کا الزام عائد کیا جبکہ یونیورسٹی کی ورڈرن فرین اور عاتکا پر تشدد کا الزام عائد کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں