ہمارے معاشرے میں بیٹی یا بہن کی عمر جیسے ہی پچیس سال سے اوپر ہونے لگے، پورے گھر پر ایک غیر مرئی اور خاموش دباؤ مسلط ہو جاتا ہے۔ رشتے داروں کے سوالات، پڑوسیوں کی ہم دردی اور والدین کے چہروں پر بڑھتی ہوئی جھریاں خود لڑکی کو یہ احساس دلانے کے لیے کافی ہوتی ہیں کہ وہ شاید اب ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
اگر خدانخواستہ یہ عمر تیس سال کے ہندسے کو چھونے لگے اور کسی بھی گھریلو، مالی یا تقدیر کے فیصلے کی وجہ سے اس کے ہاتھ پیلے نہ ہو پائے ہوں، تو کنبے میں ایک عجیب سا جمود اور مایوسی پھیل جاتی ہے۔ لوگ فرض سے سبکدوش نہ ہونے کے غم میں اس حد تک مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ اس لڑکی کی موجودہ زندگی اور مستقبل کی سنگینی کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ ایسے نازک موڑ پر، جہاں روایت پسندی لڑکی کو گھر کے ایک کونے میں بٹھا کر اس کا مقدر رونے پر مجبور کرتی ہے، وہاں عقل مندی اور سرپرستی کا تقاضا کچھ اور ہی ہوتا ہے۔
جب ایک عورت تیس سال کی عمر کو پہنچ جائے اور غیر شادی شدہ ہو تو سب سے پہلے اس فرسودہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ اس کا واحد مقصدِ حیات صرف اور صرف شادی ہے۔ اگر حالات نے ابھی تک اس کے نصیب کا دروازہ نہیں کھولا، تو ایک ذمہ دار بھائی یا باپ ہونے کے ناتے آپ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اس کی ادھوری تعلیم کو ہر قیمت پر مکمل کروائیں۔ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو شعور، اعتماد اور کڑے وقت سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ تعلیم مکمل کروانے کے بعد اسے گھر کی چاردیواری تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مناسب اور باعزت ملازمت کے حصول میں مدد دیں۔ ایک اوور ایج اور غیر شادی شدہ عورت کا اپنے قدموں پر کھڑا ہونا کوئی شوق یا جدید دور کا فیشن نہیں، بلکہ یہ اس کی بقا کا معاملہ ہے۔ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، والدین کا سایہ ہمیشہ سر پر نہیں رہتا اور بھائیوں کی اپنی مصروفیات اور خاندان ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ مالی طور پر خود مختار نہیں ہوگی، تو مستقبل میں نہ صرف وہ خود کو بے بس محسوس کرے گی، بلکہ نادانستہ طور پر اپنے ہی بہن بھائیوں کے لیے ایک بوجھ بن جائے گی، جس سے اس کی اپنی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہوگی۔
معاشی خود مختاری عورت کو ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا ایک دوسرا اور انتہائی مثبت پہلو سماجی دائرہ کار کا بڑھنا بھی ہے۔ جب ایک خاتون ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے، تو وہ ایک نئی دنیا سے متعارف ہوتی ہے۔ گھر بیٹھے رہنے سے جو ذہنی گھٹن اور احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے، کام کی جگہ کا متحرک ماحول اسے اس سے نجات دلاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا معلوم قدرت نے اس کے نصیب کا جیون ساتھی اسی ملازمت کے دوران کسی موڑ پر رکھا ہو۔ جب وہ پیشہ ورانہ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی ہے، تو اس کا وقار اور سنجیدگی لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کام کرنے والی دوسری خواتین اس کی اخلاقیات، سلیقہ مندی اور حسنِ سلوک کو دیکھ کر اس کی گرویدہ ہو جائیں اور ان میں سے کوئی اسے اپنے بھائی کے لیے پسند کر کے اپنے گھر کی بھابھی بنانا چاہے۔ ملازمت کا ماحول صرف رزق کمانے کا ذریعہ نہیں بنتا، بلکہ یہ نئے اور مخلص رشتوں کے دروازے بھی کھولتا ہے۔
اس لیے وقت کی پکار کو سمجھیں اور روایتی معاشرتی خوف کا شکار ہو کر اپنی بہن یا بیٹی کے قیمتی سالوں کو مایوسی کی نذر نہ کریں۔ فرض سے سبکدوش ہونے کا مطلب صرف رخصتی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی سرپرستی میں اسے اس قابل بنا دیں کہ وہ زندگی کے کسی بھی طوفان کا تنہا مقابلہ کر سکے۔ اسے اپنے قدموں پر کھڑا کریں، اسے معاشرے کا ایک فعال اور مضبوط حصہ بنائیں، کیونکہ ایک پُراعتماد اور معاشی طور پر مستحکم عورت کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنتی، بلکہ وہ اپنے خاندان کا فخر بن کر ابھرتی ہے۔


