The news is by your side.

Advertisement

بے نامی جائیدادیں ضبط ہونا شروع

اسلام آباد : حکام نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے افراد کی بے نامی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردیا، ایف بی آر نے راولپنڈی میں 7 ہزار کینال اراضی ضبط کرلی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے خفیہ جائیدادیں رکھنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی جس کی معیاد 30 جون تک تھی جس میں آج رات تک توسیع کی گئی تھی، ایف بی آر بے نامی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈریل بیورو آف ریونیو کی جانب سے راولپنڈی میں بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 7 ہزار کینال اراضی ضبط کرلی ہے، سینیٹرچوہدری تنویرکی6ہزاربےنامی اراضی کاپتہ لگایاگیا، بےنامی جائیدادچوہدری تنویرنےاپنےملازمین کےنام بنارکھی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری تنویر نے جن ملازمین کے نام جائیدادیں کررکھی تھی ان میں عبدالعزیز، اظہر علی، موہن معروف، شاہ جہاں بیگم اور راجہ شکور شامل ہیں، ایف بی آرکی جانب سےملازمین کونوٹس بھی جاری کردئیے، سینیٹرچوہدری تنویرکاتعلق مسلم لیگ نواز سےہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈریل بیورو آف ریونیو کو کراچی میں بھی ایف بی آرکو8بےنامی جائیدادضبط کرنےکی اجازت مل گئی، بےنامی جائیدادوں میں کراچی سول لائنزمیں پلاٹ نمبر18/2شامل ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے خفیہ جائیدادیں رکھنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی جس کی معیاد 30 جون تک تھی جس میں بعدازاں توسیع کردی گئی تھی جس کی مدت آج رات ختم ہوجائے گی، اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان نے دو بار قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی پراپرٹیز کو قانونی بنائیں اور ملک کی مدد کریں۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم نہیں بلکہ اثاثے ظاہر کرنے کا قانون ہے، بے نامی ایکٹ 2017 کو لوگ نظر انداز کررہے ہیں، 2018 میں جو ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی گئی اُس میں بے نامی ایکٹ کو نافذ نہیں کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں