The news is by your side.

Advertisement

بھارت پھر ناکام، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی شدید مذمت

نیویارک : بھارت کا پروپیگنڈا ناکام ہوگیا ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کی متفقہ طور پر مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولتکاروں کو قانون کے شکنجے میں لانے پرزور دیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پردہشت گرد حملےکی مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین اور حکومت پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

سلامتی کونسل کی جانب سے بیان میں دہشت گردوں، سہولت کاروں اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کیخلاف کوششوں میں پاکستان سے تعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مذمتی بیان کامطالبہ چین کیجانب سےکیاگیا ، سلامتی کونسل کے تمام اراکین کی متفقہ طورپرمذمتی بیان کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت

بھارت کی جانب سےبیان کورکوانےکی تمام ترکوششیں ناکام ہوئی اور سلامتی کونسل کےمذمتی بیان سے بھارتی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارتی میڈیااس معاملے پر سلامتی کونسل کی خاموشی کا پروپیگنڈاکررہا تھا۔

مذمتی بیان دنیا کیجانب سے ملک کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کی تائید ہے جبکہ پاکستان واضح کہہ چکا ہے دہشت گردی کےواقعےمیں بھارتی خفیہ ادارے ملوث ہیں ، بھارتی منفی رویے کے باوجود صدر،سیکریٹری جنرل اور دیگرممالک پہلے ہی مذمتی بیان جاری کرچکے ہیں۔

یاد رہے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے میں پاکستانی حکومت اور وہاں کے عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کے اتحاد کا اظہار کیا۔

واضح رہے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پردہشت گردوں کاحملہ ناکام بنا دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں چاردہشت گرد مارے گئے جبکہ حملہ آوروں سے مقابلے میں سب انسپکٹر اورتین سیکیورٹی گارڈزشہید ہوئے۔

ہلاک دہشت گردوں کےقبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بی بی سی کے مطابق کالعدم تنظیم بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں