The news is by your side.

Advertisement

تحقیق اورایجادات میں اضافے کے لیے کانفرنس کا انعقاد

کراچی: ملک میں تحقیق اور ایجادات کی شرح میں اضافے کے لیے جامعہ کراچی میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین نے شرکت کی۔

اوریک ( او آرآئی سی )آفس آف ریسرچ انو ویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ پروموشن ( آئی آر پی) کے تعاون سےجامعہ کراچی میں مورخہ 19 اور 20 دسمبر 2018ء کودو روزہ تیسری انویشن اینڈ اینیویشن سمٹ سندھ آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں منعقد ہوئی ، اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب مورخہ 19 دسمبر 2018 کو آرٹس ڈیپارنمنٹ کے آڈیٹوریم میں صبح 10 بجے منعقد کی گئی۔

اس تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب ڈاکٹر مظہر علی ناصر ، سینئر وائس پریزیڈنٹ ایف پی سی سی آئی تھے جبکہ صدارت کے فرائض جناب ڈائریکٹر اوریک جامعہ کراچی، ڈاکٹر ماجد ممتاز نے انجام دئیے، سمٹ کے انتظامیہ میں اووریک ڈاکٹر راشدہ زہرہ انچارج انوویشن سمٹ ،آئی آر پی، ڈائریکٹر اوریک جناح یونی ورسٹی فار وومین،ڈاکٹر اسما مینیجر ریسرچ آپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ،ڈاکٹر تسنیم سحر ایڈمنسٹریشن آفیسر اووریک، جاوید اخترمینجر انڈسٹریل لنکیج تھے، اس کے علاوہ دیگر اساتذہ اور طلبا و طالبات نے اس سمٹ کو کامیاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

سندھ سمٹ میں جناح یونیورسٹی فار وومین، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز، وفاقی اردو یونیورسٹی، فوڈ سائنسزاینڈ تیکنالوجی، ہمدرد یونیورسٹی، لمز یونیورسٹی، انڈس یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور دیگر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات نے اس نمائش میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ تیکنالوجی، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، تیکنالوجی ٹائمز، انسٹیٹوٹ آف بزنس مینجمنٹ، مہران یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ تیکنالوجی نے ایجادات اور جدیدیت کے موضوع پر 2 بجے سے 4 بجے تک سیشنز کا انعقاد کیا۔

اختتامی تقریب 20 دسمبر کو آرٹس ڈیپارنمنٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی۔ اختتامی تقریب کی صدارت جناب ڈائریکٹر اوریک جامعہ کراچی، ڈاکٹر ماجد ممتاز نے کی اور اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان تھے۔

انہوں نے اختتامی تقریب میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا لیونگ اسٹائل انڈیا سے بہت ہائی ہے کیونکہ ہم مرسڈیز خریدتے ہیں لیکن دوسرے ممالک انڈیا سمیت اپنی ساری توانائی ٹیکنا لوجی پر لگاتے ہیں ، ہمیں سسٹم بنانا ہے ہمارے پاس آئیڈیاز بہت ہیں لیکن ایک لائن آف آرڈر انہوں نے مزید کہا کہ ہم لیب میں جو ٹیکنا لوجی بنائی ان میں سے کوئی بھی انڈسٹری میں نہیں گئی، ہمارے اسٹوڈنٹس کو چاہیئے کہ وہ ٹیکنا لوجی بنایئں ، لیکن جب تک اسٹوڈنٹ کو مارکیٹ میں متعارف نہیں کروایا جائے گا ساری لیب ٹیکنا لوجی بیکار ہے، ہمیں ہاتھ بڑھانا چاہیئے اسٹوڈنٹ کی طرف اور انہیں ساتھ لیکر چلنا چاہیئے۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مدد کی امید طاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیئے کہ وہ اس طرف بھی توجہ دیں، انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر حکومت طالب علموں کی مدد کریں تو یقین جانئے ہم بھی امریکہ اور دیگر ممالک کی طرح ترقی کر سکتے ہیں۔

دیگر شرکاء میں انجنئیر جاوید علی میمن ریجنل ڈائریکڑ ایچ ای سی ، مس اکرام خاتون، چانسلر جناح وومین یونی ورسٹی ، پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو یونی ورسٹی نواب شاہ ، جناب جنید مکدا پریزیڈنٹ کے سی سی آئی، رئیر ایڈمرل (ر) مختار خان ڈائیریکٹر جنرل بحریہ یونی ورسٹی کراچی کیمپس اور ڈاکٹر ارم ظاہر ، ڈپٹی ڈائریکٹر اوریک ، جامعہ کراچی شامل تھے۔

سب سے آخر میں تمام شرکاء ، اسا تذہ اور مہمان تعلیمی اداروں کے طالب علموں کو انکی پوزیشنز کے تحت انعامی شیلڈ تقسیم کی گئیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں