لکھنؤ: بھارت میں اترپردیش کے پارا علاقے میں ایک آٹو ڈرائیور نے ساتویں جماعت کی طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا، ملزم معصوم بچی کو اسلحہ کے زور پر زبردستی جنگل لے گیا اور ظلم کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر، عصمت دری کے مزید سنگین الزامات اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (POCSO) پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت چھیڑ چھاڑ کے معاملات شامل کئے، جبکہ ملزم آٹو ڈرائیور کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ساتویں جماعت کی طالبہ متاثرہ بچی اکثر اپنے بھائیوں کو اسکول چھوڑنے جاتی تھی، راستے میں بدھیشور کا ایک آٹو ڈرائیور دیپک اپنے دوستوں کے ساتھ اسے روکتا اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا تھا۔
گزشتہ ماہ ملزم دیپک نے طالبہ کو دھمکی دی اور اسے زبردستی جنگل لے گیا۔ وہاں اس نے نابالغ کو اسلحہ سے ڈرایا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق والدہ نے بچی سے پوچھا تو وہ رو پڑی اور واقعہ سے متعلق بتایا، اہل خانہ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ابتدائی طور پر چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج کیا۔
چلتی وین میں لڑکی سے اجتماعی زیادتی، ملزمان گرفتار
پولیس کے مطابق متاثرہ کے طبی معائنے میں زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کی بنیاد پر، عصمت دری کے الزامات اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (POCSO) ایکٹ کو کیس میں شامل کیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


