متحدہ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اور ادب میں تازہ فکر اور نئے رجحانات کے سائے میں اپندر ناتھ اشکؔ بھی اپنے افسانوں کے ذریعے ہندوستانی معاشرے کو اس کا ہر وہ روپ دکھاتے رہے، جس میں ظلم، جبر، عیاری، درندگی، بے حسی اور ہر طرح کا استحصال شامل تھا۔ اپندر ناتھ اشک کو ہندوستانی معاشرے کا نباض اور ایک ناصح بھی کہا جا سکتا ہے جن کی کہانیوں پر اخلاقی رنگ غالب ہے۔
اردو اور ہندی زبان کے معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس اپندر ناتھ اشک 1996ء میں آج ہی کے روز چل بسے تھے۔ اشک نے 85 سال کی عمر میں الٰہ آباد میں وفات پائی۔ یادِ رفتگاں کے سلسلے کی اس تحریر میں آپ کو ان کی شخصیت اور فن سے آگاہی حاصل ہوگی۔ اپندر ناتھ اشکؔ نے طویل عرصہ تک ادب کے قارئین کو اصلاحی کہانیاں دیں اور اپنے وطن کی معاشرت میں پنپتی خامیوں، اور لوگوں کی کم زوریوں کی نشان دہی کرتے رہے۔ اشکؔ کے موضوعات میں سیاست کو بھی دخل رہا، لیکن یہاں بھی ان کا انداز ناصحانہ نظر آتا ہے اور وہ خرابیوں کو دور کرنے کی بات کرتے ہیں۔
اپندر ناتھ اشکؔ نے پنجابی زبان میں شاعری بھی کی۔ وہ ہندوستان میں اردو زبان و ادب سے وابستہ ایسے اہلِ قلم تھے جسے اپنی قوم، اپنی تہذیب اور روایات کا بڑا درد تھا اور جو اپنے لوگوں کی اصلاح اور ان کی خرابیوں کو دور کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اشک 14 دسمبر 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 1930ء تک وہ لاہور میں مقیم رہے اور پھر ہندوستان چلے گئے۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز تو پنجابی شاعری سے ہوا تھا لیکن پھر اشک نے نثر کا سہارا لیا اور مختلف اخبارات اور رسائل میں لکھنے لگے۔ اشکؔ کا پہلا ہندی کہانیوں کا مجموعہ جدائی کی شام کے گیت لاہور سے شائع ہوا تھا۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو میں ایک عرصہ گزارا اور جب بمبئی گئے تو وہاں فلم نگری سے وابستہ ہوگئے۔ ریڈیو کے لیے اشک کئی ریڈیائی ڈرامے اور اسکرپٹ لکھ چکے تھے اور فلموں میں ان کا یہ تجربہ کام آیا۔ انھوں نے فلمی کہانیاں اور اسکرین پلے تحریر کیے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں پنجاب کی روزمرہ دیہی زندگی کی عکاسی بڑے خوب صورت انداز میں کی ہے۔ ناقدین کے نزدیک افسانے پر ان کی مضبوط گرفت اور زبان کی روانی بہت متاثر کن ہے۔ اشک کے افسانوں میں پاپی، کونپل، پلنگ اور ڈراموں میں ‘چھٹا بیٹا، انجو دیدی اور قید بہت مشہور ہوئے۔ اردو کے بعد وہ ہندی کی طرف مائل ہوگئے تھے اور اپنے ایک انٹرویو میں اشک نے اس حوالے سے بتایا تھا، اُردو تو میں چھے جماعت پڑھا ہوں، ہندی ایک جماعت بھی پڑھا نہیں ہوں۔ براہمن ہوں۔ ماں نے سکھا دی تھی۔ پڑھ لیتا تھا۔ لکھ نہیں سکتا تھا۔ مگر میں بہت ہی ضدی اور ہٹی آدمی ہوں۔ ٹھیک ہے، لکھنے لگے اور چھپنے لگے، ساتھ ساتھ اُردو ہندی میں اور پھر ساتھ ساتھ دونوں زبانوں میں 1984 ء تک لکھتے رہے۔
معروف براڈ کاسٹر، محقّق اور مصنّف رضا علی عابدی نے ان پر ایک مضمون میں لکھا ہے: "یہ میرا بی بی سی لندن کی اردو سروس کا زمانہ تھا۔ اپندر ناتھ اشک الہٰ آباد سے چل کر لندن آئے اور بی بی سی کی تاریخی عمارت’بُش ہاؤس‘ میں تشریف لائے۔ اسی ادارے کی ہندی سروس میں ان کا بیٹا نیلابھ کام کرتا تھا، اس سے کہا کہ مجھے رضا علی عابدی سے ملواؤ۔ وہ باپ کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ یوں لگا جیسے بچپن میں اکٹھے کنچے کھیلنے والا کوئی دوست چلا آیا ہو۔ میں نے چاہا قدموں میں بیٹھوں۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سَر پر بٹھالیں۔”
"واپس الہ آباد چلے گئے مگر وہاں کی خبریں ملتی رہیں۔ پتہ چلا کہ اپندر ناتھ اشک کی کتابوں کی فروخت برائے نام رہ گئی ہے اور یہ کہ بددیانت افسر سرکاری اداروں کے لیے ان کی کتابیں نہیں خرید رہے۔ انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی مگر کوئی اثر نہ ہوا، یہاں تک کہ اتنے بڑے شاعر اور ادیب کی مالی حالت جواب دینے لگی۔ وہ ٹھہرے سدا کے ادیب اور شاعر۔ معاشرے کے منہ پر تھپڑ رسید کرنے کے لیے انہوں نے اپنے گھر کے باہر آٹے دال کی دکان کھول لی تاکہ اخباروں میں سرخی لگے کہ سرکردہ ادیب نے مالی حالات سے تنگ آکر پرچون کی دکان کھول لی۔ یہی ہوا۔ اخباروں کو چٹپٹی خبر مل گئی۔ کیسا عجب اتفاق ہوا کہ میں اپنے پروگرام ’جرنیلی سڑک‘ کی تیاری کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے دورے پر نکلا۔ چونکہ الہ آباد اسی سڑک پر واقع ہے، ایک صبح میں نے خود کو اپندر ناتھ اشک کے گھر پر پایا۔ باہر پرچون کی دکان کھلی ہوئی تھی اور ان کی بیگم کوشلیا سودا سلف بیچ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر کھل اٹھے اور بہت پیارا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


