واشنگٹن (30 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم کو حاصل کرنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کے لیے ایک فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، جو ایک پیچیدہ اور خطرناک مشن ہوگا اور ممکنہ طور پر امریکی افواج کو کئی دن یا اس سے زیادہ عرصے تک ایران کے اندر رہنا پڑ سکتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت امریکی فوج کو ایران میں داخل ہو کر یورینیم کو محفوظ کر کے وہاں سے نکالنا ہوگا، حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے ابھی تک اس کارروائی کا حکم دینے کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
تاہم حکام کے مطابق صدر عمومی طور پر اس خیال کو قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں، کیوں کہ اس سے ان کا بنیادی مقصد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سفارتی حل پر بھی زور دے رہے ہیں، جس کے تحت ایران سے مذاکرات کے ذریعے یورینیم حوالے کروایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
یہ تجویز ظاہر کرتی ہے کہ جاری جنگ کے دوران امریکا کس حد تک غیر معمولی اقدامات پر غور کر رہا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات جاری ہیں اور دوسری طرف براہِ راست فوجی کارروائی کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں تاکہ ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو ختم کیا جا سکے۔
اخبار کے مطابق یہ آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، کیوں کہ اس میں خصوصی امریکی دستوں کو ایرانی تنصیبات میں داخل ہو کر یورینیم کو محفوظ طریقے سے نکالنا ہوگا، جب کہ انھیں ایرانی دفاعی نظام اور ممکنہ حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


