The news is by your side.

Advertisement

“ہمارے ہاں مینڈک کی کچھ قدر نہیں”

ہمارے ہاں تو بے چارے مینڈک کی کچھ قدر نہیں، لیکن دنیا کے اکثر ممالک میں انہیں نہایت رغبت سے کھایا جاتا ہے۔

فرانسیسیوں کا تو نام ہی اس لیے فراگ پڑ گیا کہ وہ مینڈکوں کے بے حد شوقین ہیں، لیکن ذرا کوریا، چین اور ویت نام وغیرہ جا کر دیکھیے جہاں مینڈک کڑاہی، مینڈک فرائی اور مینڈک پلاؤ وغیرہ نہایت پسندیدہ ڈشیں ہیں۔

پاکستانی ادیبوں کے وفد کے ساتھ چین جانے کا اتفاق ہوا تو ایک صبح ہوٹل کے ڈائننگ روم میں ناشتے کے لیے اترے، وہاں ایک جانب مغربی ناشتے کا اہتمام تھا اور برابر میں چینی ناشتا سجا ہوا تھا، میں نے سوچا کہ انڈہ ٹوسٹ وغیرہ تو کھاتے ہی رہتے ہیں کیوں نہ چینی ناشتا نوش کیا جائے۔

اب وہاں پہنچے تو کوئی شے ایسی نہ تھی جس سے کچھ واقفیت ہو۔ ایک تشتری میں سفید رنگ کے نہایت خوش نظر قتلے سجے تھے جو نہایت ذائقہ دار لگ رہے تھے۔

ذرا قریب ہو کر ملاحظہ کیا تو ہر قتلے کے سرے پر دو آنکھیں نظر آئیں جو شناسا سی لگتی تھیں، پھر یاد آگیا کہ انہیں کہاں دیکھا ہے، اپنے گاؤں کے جوہڑ کی سطح پر دیکھا تھا!

یعنی مینڈک تھے، جی تو چاہا کہ ذرا ٹرائی کر لیے جائیں، لیکن آس پاس اپنی ادیب برادری تھی جس نے پاکستان واپسی پر مشہور کر دینا تھا کہ جی یہ تارڑ تو وہاں دن رات مینڈک کھاتا رہتا تھا۔

یہ بھی شنید ہے کہ آپ جس جانور کا گوشت کھائیں آپ میں اس کی خصلتیں پیدا ہو جاتی ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وطن واپسی پر گھر میں اچھلتے پھریں اور بچہ لوگ کو بھی پتہ چل جائے کہ والد صاحب تو ڈڈو کھاتے ہیں۔

ویسے اس کا امکان تو نہ تھا کیوں کہ یہ مفروضہ درست نہیں کہ انسان جس جانور کا گوشت کھائے اس میں اسی جانور کی خصلتیں نمودار ہو جاتی ہیں۔

وہ جو کہتے ہیں کہ مینڈکی کو زکام ہونا تو اس کے علاوہ ایک اور محاورہ ہے جس سے آپ واقف نہیں ہوں گے کہ مینڈک چلا مینڈک کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔

یہ اس لیے معرضِ وجود میں آیا کہ دنیا بھر میں ہر مینڈک کی چال الگ الگ ہوتی ہے، چال سے مراد ان کا اچھل اچھل کر سفر کرنا ہے۔

ہر مینڈک کے اچھل کر آگے جانے کا فاصلہ کسی اور مینڈک سے مختلف ہوتا ہے۔ کئی بار کوئی مینڈک کسی خوش رفتار مینڈک کی اچھل کود کی کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بری طرح ناکام رہتا ہے۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو کہیں سے دو مینڈک حاصل کیجیے اور پھر جب وہ اچھلنے لگیں تو ان کی چھلانگوں کا فاصلہ ناپیے، آپ دیکھیں گے کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

(مستنصر حسین تارڑ کے “ڈڈو” سے انتخاب)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں