The news is by your side.

مرزا رسوا کے قصے کچھ اِدھر سے کچھ اُدھرسے

مرنے کے دن قریب ہیں شاید کہ اے حیات
تجھ سے طبیعت اپنی بہت سیر ہو گئی

جس نے موت کو دعوت ان الفاظ میں 31، 32 سال قبل دی تھی، اس کی شمعِ حیات واقعتاً اکتوبر 1931ء میں گُل ہوکر رہی۔ موت کو جب آنا ہوتا ہے جب ہی آکر رہتی ہے۔

شاعر کی طبیعت ممکن ہے حیات سے اسی وقت سیر ہو چکی ہو، لیکن خود حیات اس وقت شاعر سے سیر نہیں ہوئی تھی۔ موت تو جبھی آئی جب اسے آنا تھا اور جب آئی تو بہتوں نے یہ بھی نہ جانا کہ کس نام کے رسواؔ اور شعروادب کے رسیا کو اپنے ہم راہ لیتی گئی۔ سدا رہے نام اللہ کا۔

بقا نہ کسی شاعر کو نہ شاعری کو، نہ ادب کو، نہ ادیب کو، کیسے کیسے افسانہ گو اور افسانہ نویس آئے اور کیسی کیسی مزے دار کہانیاں سنانے بیٹھے مگر، دیکھتے ہی دیکھتے خود انہیں کی زندگی افسانہ بن گئی۔ باقی رہنے والا بس جو ہے، وہی ہے۔

ذاتِ معبود جاودانی ہے
باقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے

جو رونقِ محفل ہوتے ہیں وہ ایک ایک کرکے اٹھتے جاتے ہیں لیکن محفلِ کی رونق جوں کی توں! لسانُ العصر اکبر کے الفاظ میں،

دنیا یونہی ناشاد یوں ہی شاد رہے گی
برباد کیے جائے گی، آباد رہے گی

ناول نویسی کی عمر اردو میں مرزا سوداؔ کی عمر سے بڑی ہے۔ سرشارؔ اور شررؔ اور دوسرے حضرات اپنے اپنے رنگ میں اس چمنِ کاغذی کی آب یاری شروع کر چکے تھے۔ کہنا چاہیے کہ انیسویں صدی عیسوی کے ساتویں اور آٹھویں دہے میں انگریزی ناول بھی اردو میں خاصی تعداد میں منتقل ہو چکے تھے جب کہیں جاکر مرزا محمد ہادیؔ، مرزاؔ لکھنوی بی اے نے انیسوی صدی کے نویں دہے میں اس کوچہ میں قدم رکھا۔

آدمی پڑھے لکھے صاحبِ علم شریف خاندان سے تھے۔ شمار شہر کے متین و ثقہ طبقہ اور اہلِ علم میں تھا۔ ناول نویسی کا مشغلہ اس وقت تک کچھ ایسا معزز نہ تھا، غرض کچھ وضعِ قدیم کا پاس، کچھ اپنے علمی وقار کا لحاظ، داستان سرائی کرنے بیٹھے تو چہرہ پر ’’مرزا رسوا‘‘ کا نقاب ڈال لیا، حالاں کہ یہ نقاب تھا اتنا باریک کہ جو چاہے وہ ایک ایک خط و خال، ایک ایک بال باہر سے گن لے۔

اردو میں ناول بہتوں نے لکھے، اچھے اچھوں نے لکھے، پَر ان کا رنگ سب سے الگ، ان کا انداز سب سے جدا، نہ ان کے پلاٹ میں ’’سنسنی خیزیاں‘‘ نہ ان کی زبان میں ’’غرابت زائیاں‘‘ نہ ان کے اوراق میں ’’برق پیمائیاں‘‘ اور نہ ’’کوہ تراشیاں‘‘ نہ ان کے الفاظ ’’ترنم ریز‘‘ نہ ان کی ترکیبیں ’’ارتعاش انگیز‘‘ نہ ان کی تصویرِ رزم میں ’’برق پاشیاں‘‘ نہ ان کی داستانِ بزم میں ’’ابتسام آرائیاں۔‘‘

پلاٹ وہی روز مرّہ صبح و شام کے پیش آنے والے واقعات جو آپ ہم سب دیکھتے ہیں۔ زبان وہی گھر اور باہر کی ستھری اور نکھری بول چال جو ہم آپ سب بولتے ہیں۔ قصہ کے مقامات نہ لندن، نہ ماسکو، نہ برلن، نہ ٹوکیو۔ بس یہی لکھنؤ و فیض آباد، دہلیؔ و الٰہ آباد۔ افسانے کے اشخاص نہ لندھورؔ، نہ سند باد، نہ تاجُ الملوک نہ ملکہ زر نگارؔ، بس یہی حکیم صاحب اور شاہ صاحب، راجہ صاحب اور نواب صاحب، میر صاحب اور مرزا صاحب، عسکری بیگم اور عمدہ خانم، امراؤ جان اور بوا نیک قدم۔

کہتے ہیں کہ صاحب کمال لاولد رہ جاتا ہے، اس کی نسل آگے نہیں چلتی۔ اپنے طرز کا موجد بھی یہی ہوتا ہے اور خاتم بھی وہی۔ مرزا سوداؔ کا بھی کوئی خلفِ معنوی آج تک پیدا نہ ہوا۔

پیش رو اکثر اور معاصرین بیشتر تکلفات میں الجھ کر رہ گئے۔ رسواؔ تصنع سے پاک اور آورد سے بے نیاز۔ ابھی ہنسا رہے تھے، ابھی رلانے لگے۔ مزاح و گداز، سوز و ساز، شوخی و متانت سبھی اپنے اپنے موقع سے موجود، لیکن آمد و بے ساختگی ہر حال میں رفیق۔ شستگی و روانی ہر گوشۂ بساط میں قلم کی شریک۔ جو منظر جہاں کہیں دکھایا ہے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرصع ساز نے انگوٹھی پر نَگ جڑ دیا ہے، ہر نقل پر اصل کا گمان، ہر عرض میں جوہر کا نشان، تصویر پر صورت کا دھوکا، الفاظ کے پردہ میں حقیقت کا جلوہ۔

(یہ پارے جیّد عالمِ دین، بے مثل ادیب اور صحافی عبدالماجد دریا بادی کی تحریر سے لیے گئے ہیں جس میں انھوں نے اپنے وقت کے مشہور مصنّف اور ناول نگار مرزا ہادی رسوا کے فن و شخصیت کو سراہا اور تعریف کی ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں