The news is by your side.

Advertisement

اردو کے بارے میں گنوار کی رائے

فراق گورکھپوری ایک عہد ساز شاعر اور نقّاد تھے۔ اردو زبان کے جن شعرا نے جدید شاعری میں اپنی انفرادیت کے سبب جو شہرت اور مقبولیت سمیٹی، ان میں فراق کا نام سرِ فہرست ہے۔

فراق کے بارے میں‌ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی کا کہنا ہے کہ، اگر فراق نہ ہوتے تو ہماری غزل کی سرزمین بے رونق رہتی، اس کی معراج اس سے زیادہ نہ ہوتی کہ وہ اساتذہ کی غزلوں کی کاربن کاپی بن جاتی یا مردہ اور بے جان ایرانی روایتوں کی نقّالی کرتی۔ فراق نے ایک نسل کو متاثر کیا اور نئی شاعری کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

ہندوستان میں‌ اردو اور ہندی زبان کا تنازع نیا نہیں۔ آج بھی بھارت میں‌ اردو کی مخالفت میں‌ آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہاں ہم ایک ایسا ہی واقعہ نقل کررہے ہیں‌ جس میں‌ ہندی کے چند مصنّفین نے فراق کے سامنے اردو کی مخالفت کی تھی اور سخت جواب پایا تھا۔ ملاحظہ کیجیے۔

ایک مرتبہ ہندی کے چند ادیبوں کی محفل میں فراق کا جانا ہوا، ادھر ادھر کی باتوں کے بعد گفتگو کا رخ ہندی اور اردو کی طرف مڑ گیا۔ ہندی کے ایک ادیب نے کہا۔

’’فراق صاحب! اردو بھی کوئی زبان ہے۔ اس میں گل و بلبل کے علاوہ اور ہے ہی کیا؟ ہلکی پھلکی اور گدگدی پیدا کرنے کے علاوہ سنجیدہ اور اونچے قسم کی فلاسفی سے متعلق باتیں اس زبان میں ادا نہیں کی جاسکتیں۔ آپ بڑے شاعر ضرور ہیں ، لیکن اردو ایک گھٹیا زبان ہے۔‘‘

فراق نے تحمّل اور سنجیدگی سے ان کی بات سنی، پھر ایک سگریٹ سلگایا اور کہا: ’’ہر گنوار انسان، خوب صورت چیز کے بارے میں وہی کہتا ہے، جو آپ نے اردو کے بارے میں فرمایا ہے۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں