ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

محمد حسن عسکری: ذکر ایک نابغۂ روزگار شخصیت کا

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادبیات میں محمد حسن عسکری ان کی غیرمعمولی تنقیدی بصیرت اور ان کی ژرف نگاہی کے لیے یاد کیا جاتا رہے گا۔ تنقید کے میدان میں عسکری صاحب کی حیثیت ایک معمار کی سی ہے جن کی تحریریں تنقید کے نظریاتی مباحث، اردو کی ادبی روایت، مشرق اورمغرب کی آویزش، جدیدیت اور مغرب کی گمراہیوں کے مباحث پر مخصوص نقطۂ نظر کی حامل ہیں۔ محمد حسن عسکری افسانہ نگاری اور تراجم کے علاوہ زندگی کے آخری برسوں میں اسلامی ادب کی نظریہ سازی میں بھی مشغول رہے۔

محمد حسن عسکری کی فکر اور تنقیدی بصیرت نے ان کے ہم عصروں کو بھی متأثر کیا تھا اور یہی وجہ ہے ان کے نام کی گونج ایوانِ اردو ادب میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔ اس بلند پایہ نقّاد اور نظریہ ساز شخصیت نے جدید مغربی رجحانات کو اردو داں طبقے میں متعارف کرایا جس نے اردو ادب کے دامن کو بے پناہ وسعت دی۔ محمد حسن عسکری انگریزی ادب کے استاد تھے اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں علم و ادب کا ذوق پیدا کرنے کا سبب بنے۔ انھیں درویش صفت اور سادہ انسان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ واقعہ ممتاز ادیب اور نقّاد سجاد باقر رضوی نے رقم کیا تھا، ملاحظہ کیجیے:

’’عسکری صاحب کو کئی بار کالج کی پرنسپلی کی پیش کش ہوئی، مگر وہ ہمیشہ انکار کر دیتے۔ کوئی بیس برس پہلے کی بات ہے، پرنسپل صاحب چھٹّی پر گئے تو انہیں بہ جبر و اکراہ چند دنوں کے لیے پرنسپل کا کام کرنا پڑا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ پرنسپل کی کرسی پر نہیں بیٹھتے۔ ساتھ کے صوفے پر بیٹھ کر کاغذات نمٹاتے ہیں۔

ایک صاحب سے نہ رہا گیا، پوچھا: ”عسکری صاحب! آپ کرسی پر کیوں نہیں بیٹھتے؟“

یار پھسلتی ہے۔“ عسکری صاحب نے کرسی کی مختصر مگر جامع تعریف کی۔‘‘

آج اردو کے اس بلند پایہ نقاد اور دانش ور کی برسی ہے۔ 18 جنوری 1978ء کو محمد حسن عسکری وفات پاگئے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے ہجرت کر کے لاہور میں سکونت اختیار کی مگر کچھ عرصہ بعد کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں ایک مقامی کالج میں انگریزی ادب کے استاد مقرر ہوئے اور تا عمر تدریس کے پیشے سے جڑے رہے۔ اردو کے علاوہ عسکری صاحب نے انگریزی زبان میں بھی لکھا۔ ان کے یہ مضامین ایک بڑا ادبی سرمایہ ہیں۔ انگریزی زبان و ادب پر محمد حسن عسکری کی گہری نظر تھی اور ان کا مطالعہ بھی خوب تھا جس نے انھیں تنقید کے میدان میں خوب فائدہ پہنچایا۔ انھوں نے کئی عالمی شہرت یافتہ ادیبوں کی تخلیقات انگریزی زبان میں پڑھی تھیں اور ان کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا جو زبان و بیان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہیں۔ فرانسیسی ادب کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد انھوں نے اپنے مضامین میں فرانسیسی ادبیات سے استفادہ کرنے پر بھی اصرار کیا۔

عسکری صاحب کا تعلق الٰہ آباد سے تھا۔ وہ 5 نومبر 1919ء کو پیدا ہوئے۔ 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی سند لی۔ یہاں حسن عسکری صاحب کو فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرّار حسین جیسے بلند پایہ تخلیق کاروں اور اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا جس نے حسن عسکری کی فکری راہ نمائی کی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھرنے کا موقع ملا۔ بطور ادبی تخلیق کار انھوں نے ماہ نامہ ساقی دہلی سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس رسالے میں عسکری صاحب کی پہلی تحریر دراصل انگریزی زبان سے ترجمہ کی گئی تھی۔ یہ 1939ء کی بات ہے۔ اس کے بعد کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر انھوں نے اپنے دو طویل مضامین شایع کروائے۔ 1943ء میں عسکری صاحب نے بعنوان جھلکیاں کالم لکھنے کا آغاز کیا۔

افسانہ نگاری بھی ان کا ایک بڑا حوالہ ہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شایع ہوا جب کہ تنقیدی مضامین ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ کے نام سے شایع ہوئے۔ ان کی دیگر کتب میں ’’جھلکیاں‘‘، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ شامل ہیں۔ ’’وقت کی راگنی‘‘ ان کی وہ کتاب تھی جس نے بتایا کہ محمد حسن عسکری بنیادی طور پر شعریات کے احاطے میں داخل ہو کر نئے نکات پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کتاب کے کئی مضامین ہمیں مغربی ادب کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں‌ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیرملکی ادیبوں کے اسلوب اور ان کی رمزیات پر محمد حسن عسکری کی گہری نظر تھی۔ ان مضامین میں ’’جنگِ عظیم دوم کے بعد برطانوی ادب‘‘، ’’جوئیس کا طرزِ تحریر‘‘، ’’فرانس کے ادبی حلقوں کی دو بحثیں‘‘، ’’یورپ کے چند ذہنی رجحانات‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

محمد حسن عسکری زندگی کے آخری برسوں میں اسلامی شعور اور اس کے زیرِ اثر مباحث کی جانب راغب ہوگئے تھے۔ اس دور میں انھوں نے اپنی تحریروں میں جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔ دراصل وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ کئی مغربی تصورات نے دین کے سلسلے میں بہت سی کئی گمراہیاں پیدا کی ہیں۔

عسکری صاحب کراچی میں دارالعلوم کورنگی کے احاطہ میں موجود شہرِ خموشاں میں آسودۂ خاک ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں