The news is by your side.

Advertisement

ابنِ انشا کا ایک ادیب دوست کے نام خط

8 اپریل، 1956،
کراچی

بھائی اعظمی

آداب

جس روز آپ کا تمغہ جمیل ”کاغذی پیرہن“ پہنچا ہے، اس روز میں نیم علیل، چھٹی لے کر گھر پر لیٹا ہوا تھا۔ سارا دن اسے پڑھتا رہا اور لطف لیتا رہا۔

ارادہ یہ تھا کہ ابھی اٹھوں گا اور آپ کو اس کے متعلق خط لکھوں گا، لیکن ایسا نہ ہوا۔ اور بات ایک مرتبہ ٹل جائے تو بہت دن لیتی ہے۔ جمیل جالبی کو کتاب پہنچا دی تھی، لیکن آج اتوار کے روز آپ کو خط لکھنے کے موڈ میں کتاب دوبارہ تلاش کرتا ہوں تو نہیں ملتی۔ یہیں بیٹھک میں رکھی تھی۔ جو آتا تھا دیکھتا تھا۔ میرا خیال ہے ممتاز حسین لے گئے۔ وہ کچھ مضامین لکھ رہے تھے اور شاعری کے مجموعے لینے میرے پاس آئے تھے۔ میرا خیال ہے میں نے انھیں دے دی۔ وہ تو واپس کر دیں گے، لیکن اگر کسی اور کے پاس ہے تو واپسی میں شبہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے کمرے میں کہیں دبی پڑی ہو یا پاس پڑوس کے کسی گھر میں گئی ہو۔

بہرحال اب اس کو ڈھونڈوں تو مطلب یہ کہ خط نہ لکھوں اور پھر وہی چکر چلے۔ آج کل کام بہت ہے۔ رات کو آٹھ بجے دفتر سے آتا ہوں اور وہاں سوائے دفتر کے کام کے کچھ نہیں ہوتا۔ خیر آپ باقاعدگی سے یاد کر لیا کریں تو میں بھی خیال سے غافل رہنے والا نہیں ہوں۔ کاغذی پیرہن ایک سچے شاعر کا مجموعہ جذبات ہے۔ میں نے دانستہ مجموعہ افکار کے بجائے مجموعہ جذبات کا لفظ لکھا ہے اور خود اپنے مجموعے کو میں یہی نام دینا پسند کروں گا، لیکن آپ کے ہاں تو جذبے مجھ سے کہیں زیادہ شدید ہیں۔

آپ میں مجھ کو اپنی بھٹکی ہوئی روح ملتی ہے اس لیے ان نظموں میں اور زیادہ اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت تفصیل تو کیا دے سکتا ہوں، مجموعہ سامنے نہیں، لیکن آپ کے مختصر اور حسین پیش لفظ سے لے کر (جس کے سامنے میرا مقدمہ بیکار ہے) آخر تک دل کے مسوسنے کے کئی مقام آتے ہیں۔

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے
جُز ترے غیر کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

میں اس کے متعلق آپ کو بھی لکھوں گا اور کسی پرچے میں لکھنے یا لکھوانے کی کوشش کروں گا۔ ایک دوست کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے مجموعے کے طور پر جس میں اس دور کی روح جھلکتی ہے، لیکن یہ بازیاب تو ہو لے۔ ریویو کے لیے ایک کتاب ماہ نامہ مہر نیم روز کو بھی بھیجیے جس کے ایڈیٹر ابوالخیر کشفی ہیں۔

میرے بھائی آپ نے آل احمد سرور کے تبصرے کا ذکر تو کر دیا، لیکن اردو ادب تو یہاں کبھی بھی نہیں آتا۔ آپ کو دو باتوں میں سے ایک کرنی ہوگی اور ضرور کرنی ہوگی۔ یا تو اردو ادب کا پرچہ خرید کر بھجوا دیجیے۔ یا اپنے پرچے میں سے کٹنگ بھیج دیجیے یا اس کو نقل کرا دیجیے یا کر دیجیے، لیکن اس تبصرے کا مجھ تک پہنچنا ضروری ہے۔
باقی کیا لکھوں۔ کنور صاحب کو سلام۔ ان کی غزل میں نے غالباً شاہراہ میں دیکھی تھی۔ بہت اچھی تھی۔ زبان بھی ہمارے مطلب کی تھی۔ شاہد مہدی صاحب چپ ہی سادھ گئے۔ وہ کیا کرتے ہیں؟ اور چوپال کیا چوپٹ ہو گیا؟ بڑا افسوس ہے۔ میں یہاں سرکاری ملازمت میں ہوں ورنہ آپ کی اس یادگار کو یہاں سے نکالتا اور وہ کام یاب رہتی۔

اس امید میں خط بند کرتا ہوں کہ آپ جلد جواب لکھیں گے۔

نوٹ: معروف ادیب، شاعر اور نقاد خلیل الرحمٰن اعظمی کا نام ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہنے والوں‌ میں‌ نمایاں‌ ہے۔ ان کا پیشہ تعلیم و تدریس تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں