The news is by your side.

Advertisement

فیل ہونے کے فوائد!

طنز و مزاح

“بشارت کہتے ہیں کہ بی اے کا امتحان دینے کے بعد یہ فکر لاحق ہوئی کہ اگر فیل ہو گئے تو کیا ہو گا۔ وظیفہ پڑھا تو بحمدِللہ یہ فکر تو بالکل رفع ہو گئی، لیکن اس سے بھی بڑی ایک اور تشویش لاحق ہو گئی۔ یعنیٰ اگر خدانخواستہ پاس ہو گئے تو؟”

“نوکری ملنی محال۔ یار دوست سب تتر بتر ہو جائیں گے۔ والد ہاتھ کھینچ لیں گے۔ بے کاری، بے روز گاری، بے زری، بے شغلی۔ زندگی عذاب بن جائے گی۔

انگریزی اخبار فقط wanted کے اشتہارات کی خاطر خریدنا پڑے گا۔ پھر ہر کڈھب اسامی کے سانچے میں اپنی کوالیفیکیشنز کو اس طرح ڈھال کر درخواست دینی ہو گی گویا ہم اس عالمِ رنگ وبُو میں صرف اس ملازمت کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔

اک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنا ہو گا۔ روزانہ دفتر بہ دفتر ذلّت اٹھانا پڑے گی۔ تا وقتے کہ ایک ہی دفتر میں اس کا مستقل بندوبست نہ ہو جائے۔ ہر چند کہ فیل ہونے کا قوی امکان تھا، لیکن پاس ہونے کا خدشہ بھی لگا ہوا تھا۔”

“کبھی کبھی وہ ڈر ڈر کے مگر سچ مچ تمنّا کرتے کہ فیل ہی ہو جائیں تو بہتر ہے۔ کم از کم ایک سال اور بے فکری سے کٹ جائے گا۔ فیل ہونے ہر تو بقول مرزا، صرف ایک دن آدمی کی بے عزتی خراب ہوتی ہے۔ اس کے بعد چین ہی چین۔

بس یہی ہو گا نا کہ جیسے عید پر لوگ ملنے آتے ہیں، اسی طرح اس دن خاندان کا ہر بزرگ باری باری برسوں کا جمع شدہ غبار نکالنے آئے گا اور فیل ہونے اور خاندان کی ناک کٹوانے کی ایک مختلف وجہ بتائے گا۔ اس زمانے میں نوجوانوں کا کوئی کام، کوئی فعل ایسا نہیں ہوتا تھا جس کی جھپیٹ میں آ کر خاندان کی ناک نہ کٹ جائے۔”

(نام وَر ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی شوخئِ قلم)

Comments

یہ بھی پڑھیں