The news is by your side.

شاعری کی آڑ میں!

ایک مشاعرہ کی صحبت تھی۔ نسیم (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی) بھی وہاں موجود تھے۔

شیخ ناسخ نے ان کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ پنڈت صاحب ایک مصرع کہا ہے، دوسرا مصرع نہیں سُوجھتا کہ پورا شعر ہو جائے۔

اُنہوں نے جواب دیا، فرمائیے۔ ناسخ نے مصرع پڑھا۔

“شیخ نے مسجد بنا مسمار بُت خانہ کیا“

اُن کے منہ سے مصرع نکلنے کی دیر تھی کہ یہاں دوسرا مصرع تیّار تھا۔

“تب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ کیا“

اس مصرع کا سُننا تھا کہ حاضرینِ جلسہ پھڑک اُٹھے اور ہر طرف سے نعرہ ہائے تحسین بلند ہوئے۔

شیخ ناسخ نے شاعری کی آڑ میں مذہبی چوٹ کی تھی لیکن نسیم نے خوب ٹھنڈا کر دیا۔

(مضامینِ چکبست سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں