تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور -
The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

یہ کہتے ہوئے میں نے دا دا جی کے چہرے پر دیکھا۔ وہ سرخ تھا۔ اس وقت میں قطعاً یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ، ان کے چہرے پر یہ سرخی کس طرح کے جذبات کی وجہ سے ہے، محبت کا کوئی اثر تھا یا نفرت کے باعث،وہ اپنے سامان
سمیت ہماری طرف بڑھ آئے تھے۔ سب کی نگاہیں دادا جی نور محمد پر تھیں۔ میں نے خاص طور پر امرت کور کے چہرے پر دیکھا۔ وہ کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری دکھائی دے رہی تھی۔ لٹھے کی مانند سفید چہرہ، کھلی آنکھیں،
وہ پلک تک نہیں جھپک رہی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا۔ جیسے وہ ٹرانس کی حالت میں آگئی ہو۔ لوہا ہو اور مقناطیس کی جانب کھنچا چلا آرہا ہو۔ شاید اسٹیشن پر ہونے والے شور سے بھی زیادہ ان کے اندر طوفان اٹھا ہو۔ اس کی شدت کیا
ہے۔ میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ صرف بھان سنگھ مجھ سے ملا مگر باقی سب پہلے دادا جی ہی سے ملے۔ ایک تو وہ میرے ساتھ تھے دوسرا وہ سب ان کی تصویر کمپیوٹر پر دیکھ چکے تھے۔ وہ سب گلے لگ کر ملے لیکن امرت کور
اسی ٹرانس کی حالت میں دادا جی کو تکے چلی جارہی تھی۔ وہ سب مل چکے تو دادا جی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ امرت کور ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”مجھے معاف کر دے نور محمد…. میں تیری طلب گار تھی، شاید اس لیے گناہ گار ہوں“۔
”یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں امرت، آؤ چلیں….“ دادا جی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”نہیں نور محمد …. جب تک تُو مجھے معاف نہیں کرے گا، میں تیرے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں۔ یہ وائے گرو کی مہر ہے کہ مجھے یہ موقع مل گیا کہ تجھ سے معافی مانگ لوں، آگے تیری مرضی، تُو جو چاہے“۔ وہ ہاتھ جوڑے یوں کھڑی رہی تھی جیسے وہ نہیں، اس کے اندر سے کچھ اور ہی بول رہا ہو۔ اس کا جسم جیسے مٹی کا بت ہو اور آواز کسی دوسرے کی ہو۔ دادا جی چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتے رہے، پھر اس کے دونوں ہاتھ الگ کرتے ہوئے بولے۔
”میں نے تجھے اسی دن معاف کر دیا تھا، جب تُو نے حاجراں کی قبر بنا دی تھی۔ اس کا نشان پھر سے زندہ کر دیا“۔
شاید دادا جی کے لفظوں میں کوئی جادو تھا یا کوئی جیون منتر، وہ پہلے ایک دم ساکت ہوئی، پھر اس کے چہرے پر خوشی بھری لہرابھری، آنکھیں حیرت سے جھپکیں اور پھر وہ دادا جی کے سینے سے لگ گئی۔ اس کا بدن ہولے ہولے
کانپ رہا تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی، یوں لگا جیسے برسوں کے رکے ہوئے آنسو آج ہی بہا دے گی۔ سبھی ان کے اردگرد کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے۔ دادا جی خاموش تھے مگر ان کی آنکھوںسے آنسو جاری تھے۔ امرت کور
ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ تقریباً پانچ منٹ تک یہی جذباتی کیفیت چلتی رہی۔ تبھی میں نے بھان سنگھ کے ساتھ کھڑی پریت کور کو اشارہ کیا۔ وہ سمجھ گئی اور آگے بڑھ کر امرت کور کو دادا جی سے الگ کیا۔
”میرا خیال ہے چلیں اب“۔ میں نے کہا تو وہ کافی حد تک نارمل ہو گئے۔ میں نے امرت کور کا سامان اٹھایا اور اسٹیشن سے باہر کی طرف چل دیا۔ بھان، پریت اور امرت کور میرے ساتھ آن بیٹھے۔ جبکہ پردیپ سنگھ اور جسیمت کور
دادا جی کے ساتھ چل دیئے۔ ہم آگے پیچھے چلتے ہوئے نکلے۔ لاہورا اسٹیشن ایشیا کا دوسرا بڑا اسٹیشن ہے اور اس کی عمارت بہت پرانی ہے۔ ہم باتیں کرتے ہوئے گھر کی طرف چلتے چلے گئے۔
پاپا اور ماما نے ان کا استقبال خالص پنجابی انداز میں کیا۔ وہی دروزے پر تیل گرانا، مہانوں کو خوش آمدید کہنا، آنچل کی چھاؤں کرنا اور ایسی ہی رسمیں۔ چونکہ پاپا اور ما ما کو امرت کور کے بارے میں معلوم تھا۔ اس لیے اسے خصوصی
مہمان کی حیثیت حاصل تھی۔ اوپری منزل پر سبھی کمرے ان کے لیے مخصوص کر دیئے گئے تھے۔ رات کے کھانے پر خاصا اہتمام تھا، انہوں نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ اس لیے زیادہ باتیں نہ ہو سکیں
اور وہ جا کر سو گئے۔
ناشتے سے فراغت کے بعد سبھی ڈرائنگ روم میں موجود تھے۔ سب مہمان فریش تھے اور خوشگوار باتیں چل رہی تھیں۔ تبھی میں نے بھان سے پوچھا۔
”اٹاری میں تم لوگوں کو بہت دیر لگ گئی؟“
”ہاں امیگریشن میں بہت وقت لگتا ہے نا، وہاں سے میں نے فون بھی اسی لیے کیا تھا کہ پاکستان میں واہگہ پر وقت ہی نہیں ملنا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ انڈیا سے آنے والے پاکستانی تو وہاں سے سمجھوتہ ایکسپریس کو چھوڑ سکتے ہیں، مگر
بھارتی نہیں اور پھر یاتریوں کارش بھی تو بہت تھا“۔
”ہاں یہ تو ہے“۔ میں نے بات سمجھتے ہوئے سر ہلا کر کہا تو پردیپ سنگھ بولے۔
”ہمارے پاس صرف ایک ہفتہ ہے، اس میں سے تین دن ہم نے جنم استھان پر گزارنے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف یاترائیں ہیں۔ اس کے بعد آ کر ہم آپ کے مہمان ہوں گے“۔ ان کے یوں کہنے پر دادا نے کہا۔
”پردیپ ….! تم تو یہ تکلف والی بات کر رہے ہو، پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی تم ہمارے مہمان ہو، کیسے اجنبیوں کی طرح باتیں کر رہے ہو۔ تجھے ساری یاترائیں میرا یہ شیر پوتا کروائے گا، تم فکر کیوں کرتے ہو“۔
”نہیں….! وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ تین دن بے چارہ کہاں پھنسا رہے گا، ہمارا وہاں انتظام ہے۔ ہاں پھر باقی یاترائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔ ویسے میں آپ کو اپنا پروگرام بتا رہا ہوں“۔ انہوں نے عام سے انداز میں کہا۔
”ٹھیک ہے جیسے تم چاہو“۔ یہ کہہ کر وہ جھتوال گاؤں میں موجود مختلف لوگوں کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جسیمت چاچی اور پریت کور گاہے گاہے کسی بات میں حصہ لے رہی تھیں مگر امرت کور بالکل خاموش تھی۔ کسی
گہری پُرسکون اور ساکت جھیل کی مانند۔ وہ دادا جی کی طرف ہی دیکھے چلی جارہی تھی۔ شاید وہ دیکھ دادا جی کی طرف رہی تھی اور ذہن میں نہ جانے کون کون سے تصور اور خواب زندہ ہو گئے تھے۔
دوپہرسے قبل تک نہ جانے کتنی باتیں ہو گئیں۔ یاد نہیں کون کون سے موضوع چھڑے تقسیم ہندوستان، تقسیم کے بعد کے حالات، سکھوں کی سیاسی ومعاشرتی زندگی، خالصتانی تحریک، بھارتی سیاسی فضا، اندراگاندھی کی
سیاست، آپریشن بلیوسٹار، دہلی میں سکھوں کا ہولوکاسٹ، پاک بھارت تعلقات، جھتوال میں پرانے لوگوں کے احوال اور نہ جانے کیا کیا۔ میں نے پوری طرح محسوس کیا کہ دادا بہت سکون سے بات کرتے کرتے اچانک جذباتی
ہو جاتے اور خود بخود فوراً خود پہ قابو بھی پالیتے۔ میں حیران اس بات پر تھا کہ اس ساری گفتگو میں سبھی بڑے جوش سے اور اپنی معلومات کے مطابق بات کرتے رہے، لیکن امرت کور نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، وہ بالکل خاموش
رہی تھی۔ اس کی ساری توجہ کا مرکز بس دادا جی کی ذات تھی۔ میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی تھی کہ وہ ایک ٹک دادا جی کے چہرے کی طرف دیکھے چلی گئی تھی کہ جیسے دادا جی کا وجود ہی اس کے لیے سب کچھ تھا۔ تبھی مجھے
خیال آیا کہ امرت کور اور دادا جی کو تنہائی میں کچھ وقت دینا چاہئے تاکہ ان کے دلوں میں جو بھڑاس ہے وہ نکال لیں۔ وہ اگر ایک دوسرے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ لیں۔ میں اپنے طور پر اس ہونے والی ملاقات بارے تعین کر
رہا تھا۔ جبکہ پردیپ سنگھ ننکانہ صاحب جانے کے لیے نہ صرف پرتول چکا تھا بلکہ وہ جلدی جانے پراصرار بھی کر رہا تھا۔ پھر یہ طے پا ہی گیا کہ وہ اپنا وزٹ پورا کرلیں، بعد میں وہ ہمارے پاس رہیں گے۔ دوپہر کے بعد میں نے ایک
بہترین اور آرام دہ کوسٹر سے انہیں ننکانہ صاحب روانہ کر دیا۔ بھان سنگھ سے رابطے کے لیے میں نے ایک سیل فون بھی اسے دے دیا۔
شام کے وقت میں اور دادا جی لان میں تھے۔ وہ خاموشی سے چائے پی رہے تھے۔ حالانکہ ایسا ہوتا نہیں تھا، وہ میرے ساتھ یا کسی کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے چائے پیتے تھے۔وہ نہ جانے کیا سوچ رہے تھے اور مجھے پورا یقین
تھا کہ ان کی سوچ امرت کور اور اس سے جڑے واقعات کے گرد گھوم رہی ہو گی۔ تبھی میں نے ماحول کی اداسی ختم کرنے کے لیے ان سے پوچھا۔
”دادا جی جب تک آپ امرت کور سے نہیں ملے تھے تب، اور اب جبکہ آپ اس سے مل چکے ہیں، کیا فرق محسوس کیا ہے آپ نے ….؟“
”فرق….!“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے سوچتے رہے، پھر سنجیدہ لہجے میں بولے۔ ”یار، میں اصل میں اس سے بہت نفرت کرتا تھا۔ جب تک تم نے جھتوال جانے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں تھیں، تب تک میں امرت کور
ہی کو قصور وار سمجھتا رہا تھا۔ میرے دھیان میں یہی تھا کہ اس نے رگھبیر سنگھ کو بھڑکایا اور وہ جھتوال کے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے پر تل گیا۔ میں اسے امرت کور کا انتقام ہی سمجھتا رہا، لیکن ایک بات ذہن میں کھٹکتی رہی اوروہ تھی
رگھبیر سنگھ کا قتل، جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔ وہ رات اور وہ قتل میں آج تک نہیں بھول سکا۔ اس رات کا ایک ایک لمحہ مجھے یاد ہے۔ جب اس کے بارے میں سوچتا تو وہ مجھے اتنی قصور وار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ کیونکہ اس
رات میں نے جتنی نفرت کا اظہار امرت کور سے کیا تھا، وہ چاہتی تو مجھے قتل کر سکتی تھی۔ میں تو بندھا ہوا بے بس تھا اور پھر جب تمہارے احساس دلانے پر اس نے حاجراں کی قبر بنا دی، تب سے میرے دل میں اس کے لیے نفرت
نہیں رہی، بلکہ احترام آگیا ہے“۔
”اور…. یہی محبت کا آغاز ہوتا ہے….“ میں نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے امید تھی کہ وہ مسکرائیںگے لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ وہ مزید سنجیدہ ہو گئے اور بہت گہرے لہجے میں بولے۔
”او نہیں پتر….! محبت ہو جانے میں اور محبت کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ تقسیم ہندوستان کے دور کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے، لیکن اس سے پہلے جب امن کا دور تھا، اس کے بارے میں تم یوں سوچ سکتے ہو کہ رشتوں ناتوں
اور تعلق میں احترام اور عزت ایک ایسا حصار تھا، جس میں غلاظت کو راہ نہیں ملتی تھی۔ بہت سادہ دور تھا۔ ہر رشتہ، ہر تعلق شیشے کی مانندواضح ہوتا تھا ۔ اس وقت تو مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ محبت ہوتی کیا شے ہے“۔
”اب تو سمجھتے ہیں آپ….؟“ میں نے بھی سنجیدگی سے پوچھا۔
”وقت نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے پتر، محبت اور روحانیت کوئی الگ الگ شے نہیں ہیں۔ محبت کا تعلق براہ راست روح سے ہوتا ہے ، جسم سے نہیں، امرت کور کے نزدیک محض جسم کی پیاس بجھانے کا نام ہی محبت تھا۔ اس وقت
مجھے یہ بہت بُرا لگا تھا، لیکن اب میں سوچتا ہوں تو وہ مجھے قصور وار دکھائی نہیں دیتی“۔
”کیوں؟“ میں نے تیزی سے پوچھا۔
”اسے خود محبت کے مفہوم سے آشنائی نہیں تھی۔ کچی عمر میں جو تصورات اس کے ذہن میں تھے۔ وہ اسی کا اظہار کرتی رہی۔ ظاہر ہے اس کے ذہن میں جو تھا، وہ اسی کے ماحول سے ہی اخذشدہ تھا۔ جو اس کے ماحول نے دیا اور جیسا
اس کے ذہن میں محبت کا تصور بنایا، اس نے اظہار بھی ویسا ہی کرنا تھا۔ وہ جو کشش میرے بارے میں محسوس کرتی تھی۔ وہ اس کشش کا ٹھیک سے اظہار نہیں کر پائی۔ اس کے بدن کی زبان اس پر حاوی ہو گئی“۔
”بدن کی پکارر گھبیر سنگھ بھی سن سکتا تھا، اس کے ساتھ امرت کو کا وہ تعلق نہیں بنا….“
”وہی تو…. اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود میں ہی اسے یاد کیوں رہا؟ اس نے شادی کیوں نہیں کی؟ اس کے جسم کی پکارنے اسے نہیں ستایا، اس نے اپنے واہ گرو سے ناطہ کیوں جوڑا….؟ ایسے بہت سارے سوال ہیں میری جان،
مجھے اب اس کی حالت اور تڑپ کا اندازہ ہو رہا ہے“۔ انہوں نے دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے کہا۔
”ایسا کیوں ہوا؟ یہی تو میں سمجھنا چاہ رہا ہوں؟“
”جب جسم الگ الگ ہوتے ہیں نا تو روح سے ناطہ جڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ یہی تو جسم سے روح تک کا سفر ہے اور یہ سفر اسی وقت طے ہوتا ہے جب کشش میں خلوص اور پاکیزگی ہو“۔ انہوں نے سکون سے کہا ۔
”واواد….! کیا آپ کو اس رات احساس نہیں ہوا امرت کور کی محبت کا؟“ میں نے ایک نئے رخ سے پوچھا۔
”نہیں وہ لمحے تھے ہی ایسے، اﷲ نہ کرے تمہیں زندگی میں ایسا کوئی منظر دیکھنے کو ملے۔ تم اس قدر شدت سے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میرے سامنے میرا گھر جل رہا تھا، میرے اپنے قتل ہو گئے تھے۔ میں بے بس پڑا تھا اور
موت میرے سر پر کھڑی تھی۔ اس وقت انسان کی ذہنی حالت کیا ہو سکتی ہے؟ ان لمحات میں امرت کور ہی سارے معاملات میں قصور وار دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں محبت نہیں، میرے اندر سے نفرت ابل رہی تھی۔ تب
اس سے محبت نہیں نفرت ہی کی جا سکتی تھی، جس کا میں نے اظہار کیا اور یہی نفرت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ رہی“۔
”اب آپ نے کیا محسوس کیا، امرت کور کے اندر کی حالت کیا ہو سکتی ہے“۔ میں نے یونہی تجسس سے پوچھا۔
”لگتا ہے اب وہ محبت کے اصل مفہوم تک جا پہنچی ہے۔ وہ کس مقام پر ہے، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا، اور اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ اصل میں سوچ اور من کی پاکیزگی ہی محبت کے اصل مفہوم تک رسائی دیتی ہے۔ میں اب اس
کے بارے میں نہیں جانتا“۔ دادا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”ہوں….!“ میں نے سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ پھر میں نے ان سے کوئی مزید سوال نہیں کیا۔ اگرچہ میں ان سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا اور کئی سوال میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے مگر یہاں وہ حد آن پہنچی تھی، جہاں ادب
مانع تھا۔ مجھے یہ سوچ کر سنسنی محسوس ہونے لگی کہ ایسے ہی سوال اگر میں امرت کور سے پوچھوں تو اس کے پاس کیا جواب ہوں گے؟
تیسرے دن میں جنم استھان کے مین گیٹ پر تھا۔ سہ پہر ہو چکی تھی۔ بھان سنگھ سے میری بات ہو گئی تھی۔وہ میرا منتظر تھا اور اس کے پاس سامان دھرا ہوا تھا۔ میں نے ڈرائیور سے سامان رکھنے اور گاڑی عارضی پارکنگ میں
لگانے کا کہا۔ ڈرائیور سامان سنبھالنے لگا ۔ میں اور بھان اندرچلے گئے۔ سفید اور پیلی عمارت جس میں بسنتی رنگ نمایاں تھا اس کے اطراف میں جدید عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع تھا۔ فوارے کے پاس سے ہم شمال کی جانب ایک
راہداری کے اندرچلے گئے ۔ جہاں یاتریوں کے ٹھہرنے کی جگہ تھی۔ وہیں انہیں کاٹیج نما کمرے ملے ہوئے تھے۔ وہ خصوصی یاتریوں کے لیے تھے ۔ورنہ عام یاتریوں کو اِدھر اُدھر ٹھہرایا جاتا ہے۔ یا پھر وہ خود اپنا بندوبست کرتے
ہیں۔ وہاں اتنا زیادہ رش نہیں تھا۔ یاتری اردگرد کے گرودادرں کی یاترا کے لیے نکل گئے ہوئے تھے۔ میں نے وہاں یہ محسوس کیا کہ ہرمندر صاحب اور جنم استھان میں شاید یہ فرق ہے کہ ہرمندر صاحب بھارت میں ہے اور
وہاں سکھوں کی کثیر تعداد ہونے کی وجہ سے وہاں پر زیادہ رش ہوتا ہے۔ یا پھر اسے اہمیت زیادہ دی جاتی ہے۔ بہر حال وہ سب تیار تھے۔ ان کے چہروں پر ہلکی ہلکی تھکن تھی۔ ان کے پاس سامان تو تھا نہیں، اس لیے آخری بار ماتھا
ٹیکنے کے لیے گرودوارے کے اندر چلے گئے۔ ڈیوڑھی سے گزر کر کنویں کے پاس آئے تو اندر صحن کی وسعت کا اندازہ ہوا۔ سامنے ہی شیشے کے پار گرنتھ صاحب پڑی ہوئی تھی۔ قریب ہی ایک سیوک چھور صاحب ہلا رہا تھا۔ ان
سب نے باری باری گرنتھ صاحب کو ماتھا ٹیکا اور پھر اس درخت کے پاس چلے آئے جو کسی نہنگ سنگھ پر ہونے والے ظلم کی داستان سنا رہا تھا۔ وہیں پر معلوم ہوا اس سنگھ کو وہاں پر زندہ جلا دیا گیا تھا ، یہ وہی درخت تھا جہاں اس سنگھ کو
باندھ کر جلایا گیا۔ وہیں کھڑے کھڑے پردیپ سنگھ نے مجھے بتایا کہ وہ گرودوارہ بھی ملکیت کی وجہ سے اور کچھ دوسری وجوہات کے باعث لہو لہو ہوا ہے۔ جس فرش پر ہم کھڑے تھے۔ اس فرش نے بھی انسانی خون کا ذائقہ چکھا
ہوا ہے، مجھے جھرجھری آگئی۔ مذہب کے نام پر انسان کیا کچھ کرتا رہا ہے۔
ہم وہاں سے واپس ہوئے اور یہی باتیں کرتے ہم جنم استھان سے باہر گاڑی میں آبیٹھے۔ وہ بہت آرام دہ کوسڑتھی۔ ڈرائیور مستعد تھا ۔ تبھی میں نے ان سے پوچھا۔
”اب بتائیں کیا پروگرام ہے؟“
”یہاں کی تو سب یاترا ہو گئی ہے۔ اب پنجہ صاحب جانا ہے“۔ پردیپ سنگھ نے کہا تو میں نے انہیں سفر کی ترتیب بتائی کہ واپس لاہور سے جا کر حسن ابدال جانا ہے، یا پھر وہیں سے چلیں تو انہوں نے کہا۔ ”نہیں پنجہ صاحب ہی
چلیں۔ رات کہیں ٹھہر جائیں گے“۔
”کہیں کہاں ٹھہرنا ہے، پنڈی اپناگھر ہے نا…. حسن ابدال ہم صبح چلیں جائیں گے“۔ میں نے کہا اور ڈرائیور کو پنڈی چلنے کا کہا۔ وہاں بہت پہلے ہی سے ہم نے گھر خریدا ہوا تھا۔ وہ ہمارے منیجر کے زیر استعمال تھا۔ جسے میں نے
مطلع کر دیا۔ یونہی گپ شپ کرتے ہم پنڈی کی طرف روانہ ہو گئے۔
رات کے سائے پھیل چکے تھے ۔ جب ہم پنڈی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں۔ منیجر اعجاز لودھی ہمارا منتظر تھا۔ جلد ہی فریش ہو کر کھانا کھایا۔ باقی سب تو تھکن کے باعث سو گئے مگر میں اور بھان باہر لان
میں آبیٹھے۔ وہ مجھ سے زویا کے بارے میں پوچھتا رہا۔ زویا کو ان کی آمد بارے خبر تھی۔ پریت نے تو بہت پہلے اس سے ملنے کی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔ ہم دونوں رات گئے تک بریڈفورڈ، جھتوال پھر ننکانہ صاحب کی باتیں کرتے
رہے۔
صبح ہم تقریباً گیارہ بجے کے قریب حسن ابدال پہنچ گئے۔ ہمیں سے کافی پہلے ہی کوسٹر پارک کرنا پڑی۔ وہاں سے ہم پیدل ہی تنگ سی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے گرودوارہ کی جنوبی دیوار کے ساتھ ساتھ صدر دروازے تک
آئے۔ دروازہ پار کر کے ہم اندر گئے تو کافی رش تھا۔ باہر سے اندر کی وسعت کا اندازہ نہیں ہوا تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ گرودوارہ کی ایک خاص طرز تعمیر ہے۔ تالاب کی جنوبی طرف میں ایک پتھر پر گرونانک جی کا پنجہ بنا ہوا
تھا۔ ایک بات مجھے وہاں پر کچھ عجیب سی لگی۔ وہیں تالاب کنارے اور پنجہ والے پتھر کے نزدیک فرش پر جو ٹائلیں لگی ہوئی تھیں۔ ان پر ان لوگوں کے نام کندہ تھے جنہوں نے کچھ نہ کچھ رقم دان کی ہوئی تھی۔ اس کی وجہ کچھ بھی
رہی ہو، لیکن یوں پاؤں کے نیچے لوگوں کا نام آنا کم از کم مجھے اچھا نہیں لگا۔ میں ان کے ساتھ وہاں تک گیا، جہاں کیرتن ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی رسمیں وغیرہ کیں اور تقریباً ایک بجے وہاں سے فارغ ہو گئے۔ چونکہ وہیں
گردوارے میں لنگر کا انتظام تھا اس لیے وہیں سے جی بھر کے لنگر کھایا۔
واپسی پر ہم کہیں بھی نہیں رکے۔ ہمارا رخ لاہور کی طرف تھا۔ راستے میں پردیپ سنگھ نے مجھے پنجہ صاحب کی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے جو کہانی مجھے سنائی، وہ بہر حال حلق سے نیچے نہیں اتری۔ میں چونکہ محقق نہیں
تھا اور نہ ہی پوری طرح جانتا تھا۔ اس لیے خاموش رہا۔ کیونکہ یہ منسوب کہانیاں عوامی ہوتی ہیں۔ ان میں بہت کچھ ایسا شامل ہوتا ہے ، جس کی سند کہیں سے دستیاب نہیں ہو سکتی اور باباگرونانک کی سوانح میں ایسی بہت سی باتیں
ہیں، جو بہر حال ایسا ہی رنگ رکھتی ہیں۔ چونکہ ان باتوں میں ان کی عقیدت اور مذہبی رنگ شامل تھا، اس لیے میں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جس وقت ہم لاہور کے قریب شاہدرہ کے پاس پہنچے تو عصر اور مغرب کے درمیان کا
وقت ہو رہا تھا۔ تب میں نے کہا۔
”پردیپ انکل….! اگر آپ چاہیں تو ابھی راجہ رنجیت سنگھ کی مڑھی گھوم لیں، اس طرح آپ کا پوراایک دن بچ جائے گا“۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”نہیں یار….! ابھی ہمارے پاس دو دن باقی ہیں۔ کل آجائیں گے یہاں۔ خوب گھومیں پھریں گے“۔ انہوں نے سکون سے کہا تو پہلی بار امرت کور نے اپنی رائے دی۔
”نہیں پردیپ ویر نہیں….! کل میں نے یہاں نہیں آنا، آپ چاہو تو آجائیں۔ میں نے کل کچھ زیارتوں کے لیے جانا ہے، بلال کو میں نے پہلے دن ہی بتا دیا تھا“۔
”کہاں کی زیارتیں؟“ پردیپ سنگھ نے پوچھا تو امرت کور نے خاصے جذباتی لہجے میں کہا۔
”میں نے بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر جانا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بانیاں شری گرنتھ صاحب میں ہیں جسے ہم ماتھا ٹیکتے ہیں، تو پھر ان کے مزار پر ماتھا ٹیکنے کیوں نہ جاؤں“۔
”ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے تایا جی، اگر ہم شری گرو گرنتھ صاحب کو ماتھ ٹیکتے ہیں تو ظاہر ہے بابا فرید کے کلام کو بھی ماتھا ٹیکتے ہیں“۔ پریت کورنے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا تو امرت کور نے رسان سے کہا۔
”مجھے حضرت میاں میرؒ کے مزار پر بھی جانا ہے، آپ کو پتہ ہے کہ ہر مندر صاحب کی پہلی اینٹ انہوں نے رکھی تھی“۔
”ہاں میں جانتا ہوں“۔ پردیپ سنگھ نے کہا۔
”اور پھر مجھے بابا بلھے شاہ جی کے مزار پر بھی حاضری دینا ہے، جن کا کلام میں پڑھتی آئی ہوں“۔ امرت کور نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو پردیپ سنگھ بولا۔
”چلو ٹھیک ہے، ہم بھی چلیں گے…. لیکن یہ سب ایک دن میں ہو جائے گا، ہم تینوں جگہوں سے ہولیں گے….؟“ انہوں نے میری طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔
”امید تو ہے لیکن اگر ہم کل صبح سورج نکلنے سے پہلے گھر سے نکل پڑیں تو….“ میں نے کہا تو چاچی جسیمت کور بولی۔
”ٹھیک ہے، اگر رات دیر بھی ہو گئی تو کیا ہوا۔ چل اب راجہ صاحب کی مڑھی چلیں…. کتنی دور ہے یہاں سے؟“
”بس قریب ہی ہے“۔ میں نے کہا۔ کیونکہ انہی باتوں کے دوران ہم آزادی چوک پہنچنے ہی والے تھے۔ شام کے سائے رات میں ڈھل گئے۔ جب ہم شاہی مسجد، شاہی قلعہ اور رنجیت سنگھ کی مڑھی دیکھ کر لوٹے۔ واپس گھر
پہنچتے تک میں تھک کر چور ہو چکا تھا۔ اس لیے کھانا کھاتے ہی جو سویا تو صبح مجھے جگایا گیا۔ اس وقت سورج نہیں نکلا تھا۔
ہمارا پہلا پڑاﺅ، حضرت میاں میر بالا پیرؒ کے مزار پر تھا۔ وہ سب اپنے طور پر نہ جانے کیا پڑھتے رہے۔ میں نے فاتحہ پڑھی اور صحن میں آگیا۔ اس وقت تک دھوپ اچھی خاصی نکل آئی تھی۔ اس کے بعد ہمارا رخ قصور کی جانب ہو
گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم حضرت بابا بلھے شاہ جی سرکار کے مزار پر تھے۔بہت پہلے میں ایک بار اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں گیا تھا تو مزار پرانی طرز کا تھا، لیکن اب جدید انداز میں تکمیل کے مراحل میں تھا۔ لگ رہا تھا کہ
نقشے کے مطابق بہت زیادہ کام ہونے والا ہے۔ وہیں صحن میں قوال حضرات قوالی گا رہے تھے۔ جب میں فاتحہ پڑھ کر پلٹا تو امرت کور ان کے قریب جا کر بیٹھ گئی ہوئی تھی اور انہیں کچھ کہہ رہی تھی۔ قوال نے بڑے غور سے اس
کی بات سنی اور پھر تان بدل کر یہ قوالی گانے لگا۔
دِل لُوچے ماہی یارنُوں
اک ہس ہس گلاں کردیاں
اک روندیاں دھوندیاں مردیاں
کہو پھلی بسنت بہارنوں
دل لُوچے ماہی یارنوں
قوال جس طرح اس کافی کے بول اٹھا رہے تھے۔ امرت کور اسی طرح جذب میں آتی چلی جارہی تھی۔
(محبت کے کھلے راستوں میں جو ہجر و وصال کا راستہ ہے۔ میں اپنے قدموں کے ہمراہ من چاہے یار کے قدموں کی آہٹ چاہتی ہوں۔ راہِ وصل پر چلنے والیاں جب بات کرتی ہیں تو لبوں سے ہنسی پھوٹتی ہے۔ ایک وہ ہیں جو ہجر کے
راستوں پر روتے ہوئے چلتی ہیں اور اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ بسنت بہار آگئی ہے۔ جس کی خوشبو میں مست ہو کر میں تم سے مخاطب ہوں۔ مجھ سے ٹکرا کر میرے بدن کا پیغام میرے محبوب تک لے جاؤ۔)
میں نہاتی دھوتی رہ گئی
اک گنڈھ ماہی دل بہہ گئی
پھاہ لائیے ہار سنگھار نوں
دل لوچے ماہی یارنوں
(ہائے….! میں خواہش وصل کی برسات میں بدن نہلا کر رہ گئی۔ من چاہے محبوب کے دل میں پڑی گرہ ڈھیلی نہ ہو سکی۔ تو پھر مجھے بار سنگھار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔کیونکہ میرا دل تو ماہی کی تلاش میں ہے)
میں کملی کیتی دوتیاں
دکھ گھیر چوپھیروں لتی آ
گھر آماہی دیدار نوں
دل لوچے ماہی یارنوں
(میں تو دو نینوں کے ہاتھوں پاگل ہو گئی ہوں۔ ایسی پاگل کہ جو دیدار نہ ہونے کے باعث چاروں سمت سے دکھوں میں گھر جاتی ہے۔ میرے دل کے ویران آنگن میں آجاؤ۔ کہ میرا دل ماہی کی تلاش میں ہے)
بلھا شوہ میرے گھر آیا
میں گھٹ رانجھن گل لایا
دکھ گئے سمندر پارنوں
دل لوچے ماہی یارنوں
(آخر کار مبارک دن آگیا۔ بلھے شاہ کے آنگن میں رانجھن نے پاﺅں دھرا۔ عشق کے سائے کو میں نے اپنے سینے کے ساتھ پوری شدت سے لگالیا۔ تب مجھے یوں لگا جیسے میرے سارے دکھ سمندر کے نیلے پانیوں میں کسی سیال کی
مانند ہو کر بہہ گئے ہیں کہ میں ماہی کی تلاش میں ہوں۔)
قوال حضرات اپنے راگ راگنیوں، سُر اورسُرتیوں میں کلام بلھے شاہؒ پڑھ رہے تھے۔ ان کی آواز میرے کانوں میں بھی پڑ رہی تھی، لیکن میری نگاہ میں امرت کور کا چہرہ تھا۔ وہاں کئی رنگ آ اور جارہے تھے۔ اس کی آنکھیں بند
تھیں۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے کہیں دور پہنچی ہوئی تھی۔ وہ جذب کے کس مقام پر تھی، میں نہیں جانتا تھا، لیکن اس کے جذب کا احساس ضرور تھا۔ جیسے ہی قوالی ختم ہوئی، اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ وہ خوش ہو کر قوالوں
کو انعام وغیرہ سے نوازنے لگی بالکل انہی لمحات میں، ایک خیال خوشبو کی مانند میرے ذہن میں آیا تو میں حیران رہ گیا۔ یہ بات پہلے میری سمجھ میں کیوں نہیں آئی تھی۔ اس خوشبو بھرے خیال کو میں جس قدر سوچتا چلا جارہا تھا۔
میرے اندر خوشگواریت کے ساتھ خوشی پھیلتی چلی جارہی تھی۔ اس خوش کن خیال نے مجھے امربیل کی مانند اپنے حصار میں لے لیا۔ میں اس خیال کی رنگینی میں کھویا ہوا تھا کہ بھان سنگھ نے مجھے ٹہوکا دیتے ہوئے کہا۔
”او چلو، کہاں گم ہو“۔
”اوئے….! ایک بڑا خوبصورت خیال میرے ذہن میں آیا ہے، لیکن تجھے ابھی نہیں بتاؤں گا۔ کل اس پر بات کریں گے“۔ میں نے مسکراتے ہوئے رسان سے کہا تو وہ میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے حیرت سے بولا۔
”خیرتو ہے نا….؟“
”ہاں….! خیر ہی ہے…. آؤ چلیں“۔ میں نے بہت مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور پھر مزار کے احاطہ سے باہر نکلتا چلا گیا۔
پاک پتن میں میرے پاپاکے ایک دوست منشی محمد علی نرالا رہتے تھے۔ پاپا نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ان کے ہاں سے ضرور ہو کر آنا، میں نے انہیں فون کر دیا ہے اور وہ انتظار کریں گے۔ راستے میں نرالا صاحب سے رابطہ بھی ہو
گیا۔ انہوں نے کہہ دیا کہ لنچ انہی کے ہاں کرنا ہے تو میری مجال کیا تھی۔ دوپہر کے بعد ہم ان کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے ہماری بہت عزت کی۔ ہم انہیں زیادہ وقت نہیں دے پائے۔ لنچ لینے اور پھر قدرے فریش ہونے کے بعد
ہم دربار شریف چلے گئے۔
عام سطح سے کافی اونچائی پر بابا جی کا مزار ہے۔ سہ پہر ہو چلی تھی۔ اس وقت لوگوں کی آمدورفت اتنی نہیں تھی۔ اس لیے اتنا زیادہ رش دیکھنے کو نہیں ملا۔ مرد حضرات تو مزار کے اندر چلے گئے۔ خواتین باہر ہی رہیں۔ تقریباً ایک
گھنٹہ وہاں گزرنے کے بعد ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا ۔ جتنی دیر ہم وہاں پر رہے، امرت کور اتنی دیر جذب کی حالت میں رہی۔ ایک لمحے کو تو مجھے لگا جیسے وہ شو آف کر رہی ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا، میں نے اگر جھتوال میں اس کا جذب
نہ دیکھا ہوتا تو یہی سمجھتا۔ واپسی پر وہاں سے شکر کی کافی ساری تھیلیاں لیں، جو تبرک کے طور پر وہ اپنے ساتھ جھتوال لے جانا چاہتے تھے۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی جب ہم وہاں سے نکلے۔ ہمارا رخ لاہور کی جانب تھا۔
اگلے دن میں ، بھان اور پریت لاہور کے سب سے مہنگے ریستوران میں زویا کا انتظار کرتے ہوئے اپنی گپ شپ کر رہے تھے۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ زویا بھی آگئی۔ پریت اور زویا پہلی بار ملی تھیں، لیکن زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ
وہ آپس میں بے تکلف ہوگئیں۔ پھر فضا اس وقت نارمل ہو ئی جب زویا نے بھان کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”مجھے نہیں لگتا تھا کہ تم وہی بریڈفورڈ والے گٹ اپ میں ہو گے“۔
”کیوں، کیسے گٹ اپ کی توقع کر رہی تھی؟“ اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا۔
”یہی کہ وہاں تو تم اسی حالت میں تھے، مطلب کلین شیو، میں اب یہ تصور کر رہی تھی کہ تم نے اپنے سر پر وہی سکھوں والی مخصوص پگڑی رکھی ہو گی، یہ داڑھی بڑھائی ہو گی اور پورے روایتی سکھ دکھائی دے رہے ہو گے“۔
”اور ….تم….تم…. بھی تو روایتی مسلم دکھائی دے رہی ہو۔یہ …. یہ حجاب….“ وہ تیزی سے بولا۔
”میں تو وہاں بھی ایسے ہی رہتی تھی۔ میں تو روایتی مسلمان دکھائی دے رہی ہوں۔ تم روایتی سکھ کیوں نہیں؟“ زویا نے اپنی بات کی وضاحت کی تو پریت کور نے آہستگی سے کہا۔
”میرے خیال میں زویا، یہ تم نے لفظ ”گٹ اپ“ استعمال کیا ہے نا، یہ بالکل درست کیا، اب دیکھو،ایک جھوٹاانسان جتنا بھی روپ بدل لے، وہ جھوٹا ہی ہو گا۔ ایک سچا انسان چاہے جیسا بھی رہے، وہ سچا ہی رہے گا، جیت ہمیشہ
سچائی کی ہوتی ہے“۔
”تم ٹھیک کہتی ہو پریت ….! لیکن ان کے درمیان ایک اور صورت بھی ہے اور وہ ہے منافق، دنیا کا ذلیل ترین اور کمینہ انسان ہوتا ہے وہ اس سے بھی کریہہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر محض کاروبار کریں۔میں
کئی ایسے مذہبی لوگوں کو جانتی ہوں، وہ چاہے پوپ ہوں، پادری ہوں، مولوی ہوں، پنڈت ہوں، سکھ گیانی ہوں، پروہت، سادھو سنت…. جو جیسا ہے، اسے ویسا ہی دکھائی دینا چاہئے“۔ زویا نے رسان سے کہاتو بھان سنگھ بولا۔
”تمہاری ایک غلط فہمی دور کردوں۔ یہ جو تم روایتی سکھ کا ایک نقشہ اپنے دماغ میں لیے بیٹھی ہونا ، ضروری نہیں کہ وہ ایساہی گٹ اپ رکھے، مثلاً کیس، کڑا، کرپان وغیرہ۔ باباجی شری گرونانک کی یہ تعلیم نہیں تھی۔ یہ تو بعد کے
گروؤں نے اضافے کیے ہیں“۔
”قدرتی طور پر سکھ مت، اسلام کے قریب تر ہے۔ واحدانیت ہے اس میں، آپ جپ جی دیکھ لیں، نرمی واحدانیت ہے۔ جس طرح ہندو مت میں بت پوجا اور….“ پریت کور نے کہنا چاہا مگر میں نے ہاتھ کے اشارے سے
روک دیا، پھر ملائمت سے بولا۔
”یار یہ تم کن باتوں میں پڑ گئے ہو، میرے خیال میں ہم چاروں اتنے عالم نہیں ہیں کہ مذاہب جیسے نازک مسئلے پر بات کر سکیں۔ ہمیں اپنی باتیں کرنی چاہئیں“۔
”جیسے تمہاری مرضی“۔ پریت کور نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا، پھر لمحہ بھر بعد نرم سے لہجے میں بولی۔ ”چلو یہ باتیں کرتے ہیں کہ تمہاری اور زویا کی شادی کب تک ہو رہی ہے؟“
”میری طرف سے توڈن ہے، لیکن زویا کوئی گرین سگنل نہیں دے رہی ہے۔ بس اسی کے انتظار میں ہیں“۔ میں نے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بات موڑنے کی کوشش کی۔ ”ویسے تمہاری اور بھان کی شادی اب تک کیوں نہیں
ہوئی، تمہاری طرف تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے؟“
میرے یوں کہنے پر بھان سنگھ نے مسکراتے ہوئے عام سے انداز میں کہا۔
”ہماری تو گھر کی بات ہے۔ بس میں نے ہی روکا ہے اس شادی کو، تھوڑی مستقبل کی پلاننگ کر لوں، پھر کر لوں گا۔ کچھ فیصلوں میں اپنا حق بھی جتایا جاتا ہے…. کیوں زویا….“
شاید بھان سنگھ نے اشارے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی، ممکن ہے ، وہ کوئی جواب دیتی مگر انہی لمحات میں اس کا فون بج اٹھا۔ وہ دوسری طرف سے سنتی رہی اور ہاں ناں میں جواب دیتی رہی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس
وقت کن کے ساتھ ہے اور کہاں پر ہے۔ پھر خوشگوار موڈ کے ساتھ فون بند کر دیا۔ پھرسب کی طرف دیکھ کر بولی۔
”پاپا کا فون تھا، انہوں نے بلال کے پاپا کو فون کیا اور ….“ وہ کہنا چاہ رہی تھی کہ بھان سنگھ نے انتہائی مسرت سے کہا۔
”مطب وہ مان گئے، تمہارا اور بلال کا رشتہ پکا….“
”رہے نا سکھ کے سکھ…. پوری بات تو سن لو، ایویں شور مچا دیا ہے“۔ زویا نے تیزی سے کہا۔ پھر پریت کور کا خیال کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر معذرت خواہانہ لہجے میں بولی۔ ”سوری پریت…. ہم میں چلتا ہے“۔
”کوئی بات نہیں، میں جانتی ہوں کہ آپ لوگ آپس میں بے تکلف ہیں، خیر بتاؤ، بات کیا ہے؟“ پریت نے رسان سے پوچھا ۔ تو زویا بولی۔
”میرے پاپا نے بلال کے پاپا کو فون کر دیا ہے کہ جھتوال سے آئے مہمانوں کے ساتھ ڈنر پر آئیں۔ یہ دعوت قبول کرلی گئی ہے اور اب آج رات سب ڈنر میرے گھر پر کریں گے“۔
”اوہ….! تو یہ بات تھی “۔ بھان سنگھ نے جان بوجھ کر منہ بسورتے ہوئے کہا۔
”کیوں تمہیں خوشی نہیں ہوتی میرے گھرآنے پر“۔ زویا نے تنگ کر پوچھا تو وہ مسکراتا ہوا بولا۔
”مجھے حقیقی خوشی اس دن ہو گی جب بلال دولہا اور میںشہ بالا بنا تمہارے گھر آﺅں گا۔ ویسے کیا ہی اچھا ہوتا، اس تقریب میں تمہاری اور بلال کی منگنی ہو جاتی۔ یا کم از کم ہاں ہی ہو جاتی، یقین جانو، بالکل وہی فلموں والا سین ہوتا۔
ویسے خیر….! یہ بریک تھرو تو ہے…. اب یہ خیال ویسے کیوں آگیا؟“
”میں نے پاپا کو بتایا تھا کہ میرا ایک کلاس فیلو آیا ہے اپنی فیملی کے ساتھ، میں انہیں کھانے پر بلانا چاہتی ہوں میری خواہش پر انہوں نے خود سے یہ سارا اہتمام کر لیا۔ ویری سمپل ….“ زویا نے خوشی سے لبریز لہجے میں کہا۔ تبھی
میں نے سب کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے بڑے ڈرامائی انداز میں کہا۔
”سنو….! میں تم لوگوں سے ایک خیال شیئرکرنا چاہتا ہوں۔ مگر ایک شرط ہے، نہ تو میرا مذاق اڑایا جائے، اور نہ ہی کوئی اس سے ناراض ہو گا، میرے خیال کے ردِ عمل میں جو بھی کسی کو خیال آئے، وہ پوری دیانت داری سے
مجھے اس کے بارے میں بتائے گا۔ تاکہ میں کسی فیصلے تک با آسانی پہنچ سکوں“۔
”بولو….!“ بھان سنگھ نے کہا، پھر ایک دم سے چونکتے ہوئے بولا۔ ”او ئے ….! یہ وہ والا خیال تو نہیں ہے جو بابا جی بلھے شاہ سرکار کے مزار پر تم نے مجھ سے ذکر کیا تھا؟“
”ہاں….! بالکل وہی ہے، اگر اجازت ہو تو کہوں؟“ میں نے خواہ مخواہ سنسنی پیدا کرنے کے لیے اجازت چاہی۔ اس پرکوئی نہیں بولا۔ اس پر میں نے خاموشی کو رضا مندی خیال کرتے ہوئے مزار پرامرت کور کے کافی سننے اور
جذب کے بارے میں پوری تفصیل بتا کر کہا۔ ”اس دوران مجھے جو خیال آیا وہ یہ ہے کہ امرت کور اور دادا نور محمد کی شادی کروا دی جائے؟“
میرے یوں کہنے پر وہ تینوں ایکدم سے بھونچکارہ گئے۔ وہ میری طرف یوں دیکھنے لگے جیسے میں نے دنیا کی انہونی اور ناقابلِ یقین بات کہہ دی ہو۔ کافی دیر تک ہم میں خاموشی چھائی رہی۔ جیسے وہ اس حیرت سے نہ نکل پائے ہوں۔
کافی دیر بعد پریت کور نے کہا۔
”جہاں تک خیال کی بات ہے، وہ تو جیسا چاہے سوچا جا سکتا ہے جیسے تم اور زویا خیالوں ہی خیالوں میں نہ جانے کتنی بار شادی کر چکے ہو گے یا پھر سچی بات ہے میں پتہ نہیں خیالوں ہی خیالوں میں بھان کی کتنی بار دلہن بن چکی ہوں، نہ
جانے کتنی بار اپنی پسند کا عروسی جوڑا پہنا ہے، لیکن ….! خیال محض خیال ہوتے ہیں۔ حقیقی زندگی کی دنیا کچھ اور طرح کی ہے۔ جہاں سارے ہی خیال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے….“
”پر ایک بات ہے پریت….“ بھان سنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”جب میاں بیوی راضی ہوں تو پھر قاضی کیا کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں اصل مسئلہ ان دونوں کی شادی ہونے یا نہ ہونے کا نہیں۔ بلکہ ان دونوں کے مان
جانے کا ہے۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ دونوں اس شادی کے لیے مان جائیں گے“۔
”یہ بھی ممکن نہیں ہے بلال، وہ اگر مان بھی جائیں تووہ دونوں عمر کے اس حصے میں ہیں، جہاں انہیں خود سے زیادہ اپنے خاندان کا خیال ہو گا“۔ زویا نے اپنی رائے دی تو میں نے تحمل سے کہا۔
”تم سب اس رشتے کو دو اور دو چار کر کے دیکھ رہے ہو، جبکہ یہ نارمل کیس نہیں ہے ۔ بلکہ معمول سے ہٹ کر ہے اور ہمیں ویسے ہی پہلو سے دیکھناچاہئے۔ بالفرضِ محال، دونوں خاندان راضی ہو جائیں تو پھر….؟“
”مذہب سب سے بڑی رکاوٹ ہو گی“۔ پریت نے آہستگی سے کہا، تب زویا بولی۔
”مطلب، نہ دادا نور محمد سکھ ہو سکیں گے اور نہ امرت کور مسلمان ہو گی“۔
”نہیں، یہاں ایک راہ نکل سکتی ہے“۔ بھان سنگھ نے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا اور پھر میری طرف دیکھا۔
”میں نے تیزی سے پوچھا“۔
”وہ کیا ….؟“
”دیکھنا یہ ہے کہ شدت کس طرف ہے؟ یہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ شدت بے شک امرت کور کی طرف سے ہے۔ اس کے خیالات اور ارادے میں یہ تک تھا کہ اسے مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کے لیے جو کچھ بھی
ہے وہ نور محمد ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آیا نور محمد کے دل میں امرت کور کی کوئی جگہ ہے؟“
”مگر سوال یہ ہے بھان، کہ کیا امرت کور کے دل میں اب بھی وہی پرانے خیالات موجود ہیں یا وہ اب اپنے مذہب پر پختہ ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے وہ جوانی کا دور تھا۔ اس میں نہ تو اس کے خیالات پختہ تھے اور دوسرا اس کے من میں جو
محبت تھی، اس میں بلا کی ہلچل تھی۔ اب وہ پختہ عمر کی ایک سمجھ دار عورت ہے“۔ پریت کور نے اپنا خیال بتایا تو بھان سنگھ بولا۔
”پریت، تم اپنی ہی بات کی تردید کر رہی ہو، کچھ عرصہ قبل تم اسی عورت کو پاگل گردان چکی ہو۔ بلکہ اسے اب تک پاگل کہتی رہی ہو۔ تمہارے نزدیک وہ ایک بے عقل عورت تھی۔ اس کا اظہار تم نے بلال کے سامنے بھی کیا
تھا۔ اب تم اسے سمجھ دار کہہ رہی ہو“۔
”تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟“ پریت نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ کہتا چلا گیا۔
”انسانی نفسیات جس قدر آسان دکھائی دیتی ہے۔ یہ دراصل اسی قدر پیچیدہ ہے۔ یہاں ہم اپنے ہی خیالوں کے بنائے دلائل دیتے چلے جارہے ہیں۔ ان دونوں کے اندر کیا ہے؟ وہ کس طرح سوچتے ہیں؟ اس کی وضاحت ہم کر ہی
نہیں سکتے، تم کہہ سکتی ہو کہ ہم اندازہ تو لگا سکتے ہیں، لیکن نہیں، ہم ایسا بھی نہیں کر سکتے، خیر….! یہ جو پیار، محبت اور عشق کے معاملات ہوتے ہیںنا،ان کے سامنے نہ مذہب آڑے آتا ہے اور نہ اونچ نیچ، مثال تمہارے سامنے
ہے، یہ زویا تمہارے سامنے ہے۔ یہ اونچی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بلال اس سے قدرے، بلکہ اس سے مقابلتاً کم درجے ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دونوں کا ملن صرف ذات پات کی وجہ سے اٹکا ہوا ہے۔ حالانکہ ان کے
مذہب میں تو مساوات ہے۔ ذات پات کا تصور تک نہیں۔ یہاں مذہب نہیں، یہاں برصغیر کی تہذیب اور تمدن بول رہا ہے۔ ذات پات تو سکھ از م میں بھی نہیں ہے، پھر ہم رندھا دے، گل اور گریوال کیوں دیکھتے ہیں۔ امرت
کور نے تو مذہب نہیں دیکھا، میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی اس کے دل میں نور محمد کے لیے وہی چنگاری موجود ہے، جو اس وقت جوانی میں تھی۔ سرحدیں اور مذہب ان کے درمیان رکاوٹ نہیں ہیں“۔
”بھان سنگھ….! اوئے تم تو تقریر بھی اچھی خاصی کر لیتے ہو“۔ زویا نے خوشگواریت سے کہا تو پریت کور نے اپنی بات منوانے کی خاطر کہا۔
”چلیں….! ہم یہ تجربہ بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں“۔
”پریت، میری جند، میری جان، اس میں جذباتی ہونے یا غصہ کرنے والی بات نہیں ہے۔ ہم ہونی کو نہیں ٹال سکتے۔ زندگی جس دھارے پر بہہ رہی ہے۔ اسے بہنے دیا جائے۔ بابا جی شری گرونانک مہاراج نے بھی اسے ویسا ہی
چلنے کے لیے کہا ہے۔ کیونکہ ہم ان دھاروں کو موڑنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بلکہ اس کے ساتھ بہنے میں ہم قدرت کے معاملات میں اس کا حصہ بن جاتے ہیں“۔ اس بار بھان نے واقعتاً بڑے تحمل سے کہا۔ تب پریت کور میری
طرف دیکھ کر بولی۔
”بھان خود جذباتی ہو رہا ہے۔ مگر میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ میں اسے یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ جب تک ہم ان دونوں کو ٹریک پر نہیں لائیں گے۔ ان کے اندر سے انہیں، نہیں ابھاریں گے تو یہ کیسے ممکن ہو گا۔
ورنہ وہ تو اپنی اپنی جگہ پر جمے رہیں گے پتھر کی طرح….“
”یہ ایک الگ بات ہے…. بلکہ اب تم خود سمجھنے کے ٹریک پر آئی ہو“۔ میں نے پریت سے کہا۔
”بالکل….!“ بھان نے کہا تو لمحہ بھر بعد زویا نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
”بات یہ بھی نہیں….! دیکھو، میں اس الجھن کو حل کرتی ہوں، ہمارا سوچنا، یا پھر ہمارا ایک فیصلے پر متفق ہو جانا ایک الگ بات ہے، مگر امرت کور اور دادا نور محمد کا سوچنا ایک الگ بات…. ہم صرف اپنے ماحول کے ان عوامل کی
بات کر ر ہے ہیں جو رکاوٹ بن سکتے ہیں، مثلاً مذہب، خاندان، ماحول، عمر وغیر ہ وغیرہ۔ میرے نزدیک ان پر با ت کرنا، وقت کا ضیاع ہے۔ اصل شے یہ ہے کہ وہ دونوں کیا سوچتے ہیں؟“
”اس کا پتہ کیسے چلے….؟“ پریت کور نے تیزی سے پوچھا۔
”میں تمہیں سمجھاتی ہوں، دیکھو….! ہم انہیں فورس نہیں کریں گے۔ اگر ہم انہیں فورس کر کے مجبور کریں گے تو یہ الگ بات ہو گی، ان کے اندر کا حال معلوم کر نے کے لیے انہیں ماحول دیا جائے۔ مطلب ان کے اندرونی
جذبات کھل کر کے باہر آجائیں۔ وہاں سے ہمیں جو اشارے ملیں، ان کی بنیاد پر ہم کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں“۔
”تمہارا خیال ٹھیک ہے، میں اس سے پوری طرح اتفاق کرتی ہوں“۔ پریت نے اس کی بات کو مانتے ہوئے کہا۔ تبھی میں نے بحث کو ایک نیارخ دیتے اور سمیٹ لینے کے لیے کہا۔
”کیا ماحول دینا، ایک طرح سے ان دیکھی فورس نہیں ہو گی؟ لیکن خیر، ہم اس بحث کوسمیٹتے ہیں اور ایک نئے پہلو پر بات کرتے ہیں“۔
”کیا ہے وہ پہلو؟“ زویا نے دھیرے سے پوچھا۔
”وہ یہ کہ ان کے ملن میں کیا کیا رکاوٹیں آسکتی ہیں اور کون سے ایسے پہلو میں جن کی وجہ سے ان کے ملن میں آسانیاں ہو سکتی ہیں“۔
”بلال….! یہ بحث فضول ہو گی، کیونکہ یہ باتیں پہلے ہو چکی ہیں اور پھر آنے والے وقت کو کس نے دیکھا ہے۔ اگر ہم سنجیدہ ہیں تو ہمیں صرف یہ فیصلہ کرنے پر توجہ دینی چاہئے کہ ان دونوں کی شادی ہو جانی چاہئے یا نہیں۔ یا
پھر تمہارا خیال یہیں پر ناقابل عمل قرار دے کہ ختم کر دیا جائے“۔ پریت کور نے حتمی لہجے میں کہا۔
”تو چلو، پھر تمہی کہو کیا کہتی ہو؟ “ میں نے بال اس کورٹ میں پھینک دی ۔ تو وہ کاندھے اچکا کر بولی۔
”میں تو کہہ چکی ہوں، اپنا خیال ظاہر کر چکی ہوں۔ آپ اپنا بتائیں، تب فیصلہ ہو جائے گا“۔
”میرا خیال ہے، انہیں بھر پور موقعہ دیا جائے۔ اب ان کے اندر سے کیا کچھ اٹھتا ہے۔ یہ بعد کی باتیں ہیں کہ ان کا ملن ہو سکتا ہے یا نہیں“۔ زویا نے اپنا اظہار کر دیا تو بھان بولا۔
”ڈن….! جو پریت نے کہا، وہی میرا خیال ہے“۔ اس نے منہ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
”تو پھر فیصلہ یہ ہوا کہ ہم انہیں ماحول دیں گے۔ انہیں فورس نہیں کریں گے۔ ان کے ساتھ گپ شپ کر کے اس طرف توجہ دلائیںگے۔ آگے ان کے جذبات کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں“۔ میں نے کہا تو ان تینوں نے تائید کر دی۔
میرے سر سے ایک بوجھ اتر گیا۔
کچھ دیر بعد ہم اپنی باتوں میں یوں کھو گئے۔ جیسے کہ کچھ دپر پہلے ہم نے کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا، یونہی گپ شپ کی ہے۔ ایک پُرتکلف کھانے کے بعد ہم وہاں سے اٹھ گئے۔ دراصل یہ کھانا پریت اور زویا کی ملاقات کے لیے تھا اور
ان دونوں کی ملاقات بہت خوب رہی تھی۔ جس کا اظہار واپسی پر پریت نے بہت اچھے انداز میں کیا۔
میں اس دن پہلی بار زویا کے ہاں جانے کے لیے تیار ہوا تھا۔ ماما پاپا کو بھی احساس تھا کہ میرے زویا کے بارے میں کیا جذبات ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں جانے کے لیے خوب اہتمام کیا گیا۔ پانچ گاڑیاں آگے پیچھے ان کے گیٹ پر
جارکیں۔ ماما اور پاپا الگ الگ گاڑی میں، ماما نے امرت کور اور جسیمت کور اور پاپا نے صرف پردیپ سنگھ کو اپنے ساتھ لیا۔ فرحانہ نے پریت کور کو، میں اور بھان سنگھ الگ گاڑی میں تھے۔ جبکہ دادا جی اپنے ڈرائیور کے ساتھ سب
سے آگے تھے۔ ان کے ساتھ مٹھائیوں کے ٹوکرے تھے جو نہ جانے انہوں نے کیا سوچ کر منگوائے تھے۔ اگر ہم نے اس قدر اہتمام کیا تھا تو انہوں نے بھی مہمانوں کے استقبال کے لیے خاصا انتظام کیا ہوا تھا۔ باوردی دربان
گیٹ پر موجود تھے۔ جنہوں نے پورچ تک ہماری راہنمائی کی۔ وہیں زویا، اس کی ماما اور پاپا مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ وہ بہت پیار سے ملے۔ خاص طور پر جب میرے اورزویا کے پاپا آمنے سامنے ہوئے تو ان
میں خاصی گرم جوشی دکھائی دی۔ جس پر بھان سنگھ نے واضح طور پر محسوس کرتے ہوئے مجھے ٹہو کا دیا۔ میں نے زویا کی طرف دیکھا، وہ پریت اور فرحانہ کے ساتھ مصروف تھی۔ خلاف ِمعمولی وہ عبایہ میں نہیں تھی۔ اسکاف کی
جگہ اس نے بڑا سارا آنچل لیا ہوا تھا، جو عبایہ اور اسکارف دونوں کا کام دے رہا تھا۔
”آئیں پلیز….!“ زویا کے پاپا نے دادا جی سے نہایت احترام سے کہا۔ پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر ڈرائنگ روم کی جانب بڑھے۔ ہم ان کے سجے ہوئے اور امارت کو بھر پورانداز میں ظاہر کرنے والے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔ تبھی
ہمارا ڈرائیور، ان کے دو ملازمین کے ساتھ وہ سارے تحائف اٹھائے اندر آیا جو ہم اپنے ساتھ خاص طور پر لے کر آئے تھے۔
”ان کی کیا ضرورت تھی“۔ شاہ صاحب نے کافی حد تک حیرت سے کہا۔
”آپ نے تو اس قدر تکلف کیا“۔ مسز شاہ کہاں پیچھے رہنے والی تھیں۔ تب ماما نے بڑے رسان سے کہا۔
”نہیں مسز شاہ ، یہ تکلف نہیں، یہ ہماری روایت ہے اور پھر یہ مہمان بھی آپ کے لیے تحائف لائے ہیں۔ اب میں انہیں منع تو نہیں کر سکتی“۔
”ہماری بیٹی ہے زویا….! اگر ہم اپنی بیٹی کے لیے کچھ لائے ہیں تو یہ ہماری بیٹی کا حق ہے“۔
پردیپ سنگھ نے کہا تو شاہ صاحب نے وہ تحائف ایک طرف رکھ دینے کا اشارہ کیا۔ جس میں کم از کم میرے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ دیر باتیں کرنے اور سوفٹ ڈرنک سے تواضع کرنے کے بعد شاہ صاحب نے کہا۔
”آئیں….! باہر لان میں تشریف لے چلیں آپ سب، وہیں ڈنر پر باتیں ہوں گی“۔
ہم سب اٹھ کر باہر کی جانب چل پڑے۔
کچھ روشنی، کچھ ملجگا اندھیرا، سرخ قالین اور باوردی بیرے، انہوں نے ڈنر پر خاصا اہتمام کیا ہوا تھا۔
ایک میز پر شاہ صاحب، داداجی، پاپا اور پردیپ سنگھ بیٹھ گئے، دوسری پر مسز شاہ، ماما، امرت کور، چا چی جسیمت کور ، ظاہر ہے تیسری میز نوجوان پارٹی کے لیے لگائی گئی تھی۔ پہلے تو فرحانہ ہماری طرف بڑھی، پھر نہ جانے اس کے
من میں کیا آئی، وہ ماما کے پاس ہی جا کر بیٹھ گئی۔
”یہ الگ الگ میز لگانے کا آئیڈیا کس کا تھا؟“ میں نے اپنے سامنے بیٹھی زویا سے پوچھا۔ تب تک دائیں بائیں بھان سنگھ اور پریت کور بیٹھ چکے تھے۔
”میرا….“ اس نے اختصار سے کہا اور پھر بیروں کو اشارہ کر دیا۔ وہ سب حرکت میں آگئے۔ تبھی پریت نے زویا سے کہا۔
”زویا….! یہ جو تم نے بڑا سا آنچل لیا ہوا ہے، بہت پیاری لگ رہی ہو اس میں ، کیوں بلال؟“
”اوئے….! یہ تو ہمیں ہر حال میں قبول ہے، بس درمیان میں وہ سامنے بیٹھی ہوئی ”دنیا“ حائل ہے۔ وہ مان جائے تو چاہے یہ اسکارف لے، یا ٹوپی مارکہ برقع، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے“۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھرتے
ہوئے کہا تو بھان سنگھ ہنستے ہوئے بولا۔
”یہ دنیا، تم نے خوب کہا، ورنہ وہ فلموں والا ولن، یا پھر ظالم سماج نہیں کہہ دیا“۔
”اچھا فضول نہ بولو….! تم مہمان ہو تو مہمان ہی بن کر رہو۔ میں پریت کی وجہ سے تمہاری عزت کر رہی ہوں۔ ورنہ…. “ زویا نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
”ورنہ…. اب تک یہ گلاس کھینچ کر تمہاری ماتھے پر مار چکی ہوتی….“ میں نے کہا تو بھان سمیت وہ بھی کھل کر ہنس دی۔ تبھی بھان نے اچانک پوچھا۔
”ہاں یاد آیا یار….! یہ زویا نے اس انگریز کے گلاس مارا یا پلیٹ….“
”نہ گلاس نہ پلیٹ….! کافی کا خالی مگ تھا….“
”مجھے بتاﺅ، کیابات ہوئی تھی“۔ پریت کور نے تجسس سے پوچھا تو بھان سنگھ نے بتایا۔
”ہم سب کینٹین میں تھے، یونہی باتیں کر رہے تھے، ایک برٹش لڑکا آیا اور اس نے اسکارف کے حوالے سے کوئی بات کی…. یا اس نے اسکارف بھی کھینچا تھا۔ اس پر زویا نے اپنے سامنے پڑا ہوا کافی کا خالی مگ اٹھایا اور اس کے
دے ماراوہ بھاگ گیا….“
”اوے واہ….! یہ بات تم نے پہلے بتائی نہیں“۔ پریت نے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
”خیر….! چھوڑو….! ایک بات کہوں….“ زویا نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔
”بولو….!“ میں نے ذرا آگے جھک کر کہا تو وہ بھان کی طرف دیکھ کر بولی۔
”میں چوتھی میز بھی لگوانے والی تھی“۔
”وہ کیوں؟“ وہ بولا۔
”دادا نور محمد اور امرت کور جی کے لیے۔ دونوں سکون سے بیٹھ کر باتیں کرتے۔ تم لوگ تو خود ظالم سماج، ولن، دنیا اور نہ جانے کیا کیا بنے ہوئے ہو ان دونوں کے لیے میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ تم سب نے انہیں
تنہائی میں بیٹھنے کا موقعہ ہی نہیں دیا ہو گا۔ بولو….؟“زویا نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو پریت نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
”کیا بات ہے تمہاری۔ خوب پکڑا انہیں۔ بالکل بھی نہیں، ایک بار بھی تنہائی میں بیٹھنے کا موقعہ نہیں ملا انہیں، میں نے فرحانہ سے پوری معلومات لے لی ہیں۔ پھر میں بھی تو یہیں ہوں“۔
”مطلب ، یہاں بھی جاسوسی سے باز نہیں آئی ہو“۔ بھان سنگھ نے خوشگواریت سے کہا۔ تبھی بیرے کھانا لگانے لگے۔ تب میں نے سوچتے ہوئے کہا۔
”تو پھر کیا کریں یار….! یہ تو کل دوپہر سے پہلے چلے جائیں گے“۔
”میں نے سوچ لیا ہوا ہے“۔ زویا نے لبوں سے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ ”بھان اور پریت، دونوں مل کر امرت کور کو گھر سے باہر لائیں گے۔ یہی سیر وغیرہ کے بہانے۔ تب تم دادا کو مسجد سے نکلتے ہی اغوا کر لو، دونوں کو
گاڑی میں بٹھاؤ اور پارک میں لے جاؤ۔ دو تین گھنٹے بہت ہیں ان کے لیے، یہ جو آج تم نے فیصلہ کیا ہے، اس کی شروعات ہیں یہ ….“
”ڈن ہو گیا“۔ میں نے پُر جوش انداز میں کہا اور پھر ہم سب کھانے میں مصروف ہو گئے۔ ہماری باتوں کا موضوع بدل گیا تھا۔
تقریباً تین گھنٹے گزرنے کے بعد ہم لان سے اٹھ کر واپس ڈرائنگ روم میں آگئے۔ وہاں بیٹھ کر چائے پی گئی۔ جس کے دوران پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات ہوتی رہی۔ شاہ صاحب کی باتوں کا زیادہ رحجان تجارت کی
طرف تھا۔ جس پر پاپا موثر انداز میں ان کی راہنمائی کر رہے تھے۔
”بھان سنگھ جی، آپ نے کیا سوچا ہے اب، یہ بلال تو اپنے پاپا کے ساتھ کام کر رہے ہیں“۔ اچانک شاہ صاحب نے پوچھا۔
”فی الحال تو کچھ نہیں۔ مگر دو آپشن ہیں میرے پاس ، امرتسر میں اپنا بزنس یا پھر لندن“۔
”شاہ جی، میں نے سوچا ہے اب تک تو یہ پڑھتا رہا ہے، پھر کام پر لگ گیا تو کہاں فرصت ملنی ہے اس کو، سوچا چار دن موج کرے“۔ پردیپ سنگھ کے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اور بلال، تم ٹھیک ایڈجسٹ ہو گئے ہو“۔
ان کے سوال کرنے کا مطلب میں سمجھ گیا تھا۔ دادا نے آنکھوںہی آنکھوں میں سمجھا دیا کہ مجھے کیا کہنا ہے، بس پھر میں نے ”چھوڑنا“شروع کر دیں۔
”بس انکل….! میں پاپا کے ساتھ بزنس میں آتو گیا ہوں، لیکن میرا الگ سے ایک سیٹ اپ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ جس کا پیپرورک میں نے کر لیا ہے“۔
” یہ کس لیے“۔ انہوں نے پوچھا۔
”میں اپنے آپ کو تو آزماؤں۔ اتنا پڑھنا کس کام کا…. ممکن ہے، یہ سیٹ اپ امرتسر اور لاہور کے درمیان ہو، یا پھر لندن، یا پھر ان کے مضافات میں بہت جگہ ہے جیسے رچڈل وغیرہ۔ بھان پیپرورک کر رہا ہے اور میں بھی جلد
ہی کچھ نہ کچھ شروع کر دیں گے“۔
”جو کچھ تم سوچ رہے ہو بلال، اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے“۔ شاہ صاحب نے الجھتے ہوئے کہا تو دادا بولے۔
”شاہ صاحب….! میرا ایک ہی پوتا ہے اور میں نے اس کے باپ کو کہہ دیا ہوا ہے اس کے پاپا نے اتنا سرمایہ اس کے لیے الگ کرلیا ہوا ہے کہ یہ کل ہی اپنا شمار صنعت کاروں میں کر سکتا ہے“۔
”اصل میں شاہ صاحب….! جب یہ بلال پڑھنے کے لیے گیا، میں نے تبھی سے اس کے لیے پلاننگ کر لی تھی،اور الحمدﷲ، سب کچھ ہے اس کے پاس“۔ پاپا نے رہی سہی کسر پوری کر دی تو امرت کور بولی ۔
”یہ جب دونوں وہاں جھتوال میں تھے نا تو میرے بھائی سریندر پال سنگھ نے پورے یقین سے کہا تھا کہ اگر یہ دونوں مل کر کام کریں تو بہت ترقی کریں گے۔ اس کا بیٹانہیں ہے کوئی۔ وہ چاہتا ہے کہ ان کا داماد بھی ان کے ساتھ
شامل ہو جائے ۔میرے دوسرے بھائی کا بیٹا ہے، وہی اس کا داماد بنے گا“۔
”مطلب، آپ لوگوں کی دوستی تو آگے تک چلے گی“۔ شاہ صاحب نے میری طرف دیکھ کر کہا۔
”ارادہ تو یہی ہے“۔ میں نے زویا کی طرف دیکھ کر کہا۔ مقصد میرا یہی تھا کہ وہ میرے اشارے کو سمجھ لے۔ اب پتہ نہیں وہ سمجھے تھے کہ نہیں، بہر حال کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد ہم وہاں سے واپس چل دیئے۔ یوں
رات گئے ہم وہاں سے لوٹ آئے۔
صبح جب میں نے بھان سنگھ کو جگایا تو دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے دادا کے کمرے میں جا کر دیکھا، وہ نہیں تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی تک مسجد سے واپس نہیں ہوئے۔ میں نے بھان کو بتایا۔ اپنی گاڑی نکالی اور مسجد
سے آنے والے راستے پر کھڑا ہو گیا۔ میں نے بھان کو سمجھا دیا تھا کہ وہ امرت کور کے لے کر کدھر جائے۔دوسرے نمازیوں کے ساتھ جب دادا مسجد سے باہر نکلے تو مجھے یوں کھڑا دیکھ کر ایک دم سے پریشان ہو گئے۔ جلدی سے
میرے پاس آ کر تشویش سے پوچھا۔
”اوئے، خیر تو ہے، یوں کیسے کھڑا ہے؟“
”آپ بیٹھیں“۔ میں نے اختصار سے کہا اور پسنجرسیٹ والا دروازہ کھول دیا۔ وہ ہاتھ میں تسبیح لئے دوسری طرف سے آ کر بیٹھ گئے۔
” اوئے تو بولتا کیوں نہیں ہے، بات کیا ہے؟“
”میں نے آپ کو اغوا کرلیا ہے“۔ میں نے گاڑی بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ سکون کا سانس لیتے ہوئے بولے ۔ ”اوئے پتیندرا….! وہ کیوں؟“
”ابھی پتہ چل جائے گا“۔ میں نے کہا اور تیزی سے اس راستے پر آگیا، جہاں بھان اور امرت کے ساتھ پریت سے ملاقات ہونے والی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر وہ تینوں مجھے دکھائی دیئے۔ انہیں دیکھ کر دادا کچھ نہیں بولے۔ میں نے
گاڑی پارک طرف چلا دی۔
گاڑی پارکنگ میں لگانے کے بعد ہم اکٹھے ہی پارک میں داخل ہوئے۔ کچھ دیر پیدل چلتے رہنے کے بعد ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گئے۔ پھر طے شدہ منصوبے کے مطابق فوراً ہی ہم اٹھ گئے۔
”ہم ناشتے کا کہہ دیں، ابھی آتے ہیں“۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے، ہم آگے بڑھ گئے۔ بلاشبہ وہ پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ ان سے کافی فاصلے پر جا کر ہم واپس پارکنگ میں آئے۔
”اب کہاں جانا ہے؟“ بھانے پوچھا۔
”یہاں مارکیٹ میں بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر اس جوڑے کے لیے ناشتہ لے جائیں گے، بھوکے پیٹ باتیں تو نہیں ہوتی نا“۔
”چل پھر….!“ بھان نے کہا تو پریت نے یاد دلایا۔
”گھر والوں کو فون کر کے بتا دو، وہ کہیں پولیس اسٹیشن ہی پہنچے ہوں ہماری گمشدگی کے لیے“۔
”ہاں، یہ ٹھیک یادد لایا تم نے ….“ یہ کہتے ہوئے میں نے سیل فون نکالا اور پاپا کو بتا دیا کہ ہم کچھ دیر بعد آئیں گے۔ دادا اور امرت کور ہمارے ساتھ ہیں۔
تقریباً دو گھنٹے بعد ہم واپس ان کے پاس چلے گئے۔ ہم نے دور ہی سے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے۔ مجھے تھوڑا سکون ہوا کہ دادا ناراض نہیں ہوں گے۔ میں نے جاتے ہی زبردست انداز میں
جھوٹ بولا۔
”دادا جی….! یہاں آس پاس میں کہیں بھی اچھا ناشتہ نہیں مل رہا ہے۔ اگر آپ کہو تو پھر اندرون شہر کی طرف چلیں وہاں سے ناشتہ کرتے ہیں“۔
”وہاں جاتے ہوئے دو گھنٹے لگ جانے ہیں۔ تم ایسا کرو واپس گھر چلو، ہم گھر جا کر ناشتہ کرلیں گے“۔ انہوں نے کہا اور اٹھ گئے۔ اس کے ساتھ ہی امرت کور بھی اٹھ گئیں۔ ہم سب پارکنگ کی طرف بڑھ گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں