تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور -
The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

ہم دس بجے کے قریب گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا جو ہمارے گھر کے سامنے سے نکلا۔ زویا اور اس کے والدین بھی آگئے ہوئے تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو گاڑی پلیٹ فارم پر لگی ہوئی تھی۔ کئی دوسرے سکھ یاتری بھی اس میں بیٹھ رہے تھے۔ بھان اور میں نے سارا سامان رکھا۔ کچھ ہمارے ڈرائیور نے مدد کی۔ پھر کچھ دیر بعد ہی الوداع ہونے کا وقت آگیا۔ یہ خاصے جذباتی لمحات تھے۔ سب سے پہلے چا چی جسیمت کور کے آنسو نکلے۔ وہ سب سے مل کر جب مجھے گلے لگا کر زور زور سے رونے لگی۔
”دیکھ اگر تُو بھان کی شادی پر نہ آیا نا تو میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔ میں تیرا انتظار کروں گی۔ واہ گرو تیری ساری خوشیاں پور ی کرے“۔
پھر ایک ایک کر کے سارے بیٹھتے چلے گئے۔ بالکل آخر میں امرت کور رہ گئی۔ وہ ایک ٹک دادا جی کو دیکھے چلے جارہی تھی۔ میں ان کے قریب چلا گیا اور بڑے نرم لہجے میں کہا۔
”گاڑی کا وقت ہو گیا ہے“۔
”مجھے معلوم ہے پتر….! پر میں نور محمد کو جی بھر کے دیکھ تو لوں، پھر نہ جانے میں اس سے مل بھی سکوں گی یا نہیں“۔ اس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو میں نے مسکراتے ہوئے دادا جی کی طرف دیکھ کر کیا۔
”ہم جلد ہی جھتوال آئیں گے، آپ ہمارا انتظار کرنا“۔
”انتظار….! “اس نے درد بھری مسکراہٹ سے کہا، پھر بولی۔ ”ساری زندگی اسی میں ہی تو گزر گئی ہے“۔ اس نے حسرت بھرے انداز میں کہا تو دادا ملائمت سے بولے۔
”چل امرت….! اب تُو جا قسمت، میں ہوا تو دوبارہ مل لیں گے“۔
تبھی امرت کور نے دادا کے دونوں ہاتھ پکڑے ، اپنے ماتھے سے لگائے اور پلٹ کر گاڑی کی جانب یوں بڑھ گئی جیسے اب پیچھے مڑ کر دیکھے گی تو پتھر کی ہو جائے گی۔ وہ اپنی سیٹ پر جا بیٹھی۔ مجھے اس نے بالکل ہی نظر انداز کر دیا۔ وہ مجھ سے ویسے ملی ہی نہیں جیسے چا چی جسیمت کور ملی تھی۔ میں بھان کے ساتھ بوگی کے اندر چلا گیا۔ امرت کور آنکھیں بند کیے سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے اسے اردگرد کی خبر ہی نہ ہو۔ اس کے گالوں پر آنسو رواں تھے۔ میں نے بڑے پیار سے ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ میرا لمس پاکر اس نے آنکھیں کھول دیں۔
”میں سمجھتا ہوں، اس وقت آپ کی جذباتی کیفیت کیا ہے۔ میں جلد آؤں گا“۔


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


تب اس نے اپنی آنکھیں میرے چہرے پر جماتے ہوئے بڑے جذباتی لہجے میں کہا۔
مندا سنتو کھ سرم پت جھولی
دھیان کی کرہِ بھبھوت
کھنتھا کال کاری کائیا
جگت ڈنڈا پرتیت
آئی پنھتی سگل جمائی
من جیتے، جگ جیت
(قناعت کرنا ہی تیر ی ریافت ہو اور اس کے باعث تیرا دامن صبر سے بھر جائے۔ اپنے بدن پر راکھ اور بھبھوت کی بجائے دھیان کا لباس پہن لے۔ پاک کنواری کی مانند تیرا بدن ہو۔ جب تو موت کا کفن پہن لے گا۔ صدق اور یقین کا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ اور شک کو مار دے۔ جس طرح جو گیوں کا ایک خاص گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ سب انسان ایک ہیں، سارے فرقے ایک ہیں۔ اسی طرح جب تو اپنے من کو پاک کر لے گا تو پھر سمجھ لے تُو نے سارا جہان جیت لیا)۔
پھر جیسے وہ ایک دم ہوش میں آگئی، وہ اٹھی اور مجھے گلے لگا کر چند لمحوں تک یونہی کھڑی رہی جیسے اپنا سکون مجھے دان کر رہی ہو۔ میرا ماتھا چوما، سر پر پیار دیا اور الگ ہو کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
”پتر….! میں تمہارا انتظار کروں گی، لیکن وعدوں سے پہلے آجانا“۔
”میں جلد از جلد آنے کی کوشش کروں گا“۔ میں نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے تیزی سے کہا۔ پھر فضا میں ٹرین کی وسل کا شور پھیل گیا۔ اس نے مجھے چھوڑا اور اپنی سیٹ پر ڈھے سی گئی۔ میں نے سب کی طرف دیکھا، ہاتھ ہلایا اور اس وقت گاڑی رینگنے لگی تھی، جب میں بوگی سے نیچے اتر آیا۔ تھوڑی دیر بعد جیسے لمحے گزرے، ویسے ہی سمجھوتہ ایکسپریس نگاہوں سے اوجھل ہوتی چلی گئی۔
اگلے دو دن میرے شدید قسم کی مصروفیت میں گزرے۔ بھان سنگھ نے جھتوال پہنچ جانے کی اطلاع دے دی تھی۔ میں نے سوچا کہ فری ہو کر ہی ان سے تفصیل کے ساتھ گپ شپ کروں گا۔ پھر تیسرے دن کی شام مجھے موقع مل گیا۔ میں سرِ شام ہی دادا جی کے کمرے میں جا گھسا۔ وہاں سکون تھا۔ میں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا۔ اس وقت زویا آن لائن تھی۔ کچھ دیر پہلے میں نے اسے بتایا تھا، اس نے فوراً ہی پریت کور کو فون کر دیا۔ پھر اس کے ساتھ بھان سنگھ بھی آن لائن ہو گیا۔ پاکستان ٹور اور اس کے بارے میں جوان کے احساس اور جذبات تھے، وہ مجھے بتاتے رہے۔ پریت نے جو خاص بات مجھے بتائی، وہ یہ تھی کہ امرت کور تمام راستے روتی ہوئی آئی تھی، اس کے آنسو نہیں تھمے تھے۔ جھتوال آجانے تک اس کا یہی حال رہا تھا۔ یہی بتاتے ہوئے اچانک اس نے سوال کر دیا۔
”کیا تم نے امرت کور بارے دادا جی نور محمد سے بات کی ؟“
اب اس نے یہ بات مزاح میں کہی تھی یا پھر وہ پوری طرح سنجیدہ تھی، میں بارے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، تاہم میں نے اسے جواباً لکھ دیا۔
”نہیں پریت ابھی نہیں، لیکن ممکن ہے کہ میں آج ہی بات کرلوں، کیا تم نے امرت کور سے اس بارے بات کر لی ہے؟“ میرے اس سوال کا اس نے نفی میں جواب دیا۔ پھر کچھ دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ داداعشاءپڑھ کر کمرے میں آگئے۔
”اوئے….! تُو ادھر بیٹھا ہوا ہے، ادھر تیر ی ماں تجھے کھانے کے لیے پوچھ رہی ہے“۔
”میں آپ کا انتظار کررہا تھا، میں آج آپ کے ساتھ کھانا کھاؤں گا“۔ میں نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا۔
”اوئے خیر تو ہے نا پتندرا“۔ انہوں نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
”خیرہی ہے، صبح چھٹی ہے، کئی دن ہو گئے آپ سے گپ شپ نہیں ہوئی۔ اس لیے آج آپ کے ساتھ کافی وقت گزرنے کا موڈ ہے“۔ میں نے بیڈ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ہوں….! “ انہوں نے ہنکارا بھرتے ہوئے کہا، پھر میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ ”ادھر گھر ہی میں کھائے گا یا کہیں باہر چلیں“۔
”جیسے آپ کی مرضی، جو کہنا ہے آپ خود ہی ماما سے کہہ دیں“۔ میں نے باہر جانے کے لیے پر تولتے ہوئے کہا۔
”چل باہر ہی چلتے ہیں، نکال گاڑی“۔ انہوں نے حتمی انداز میں کہا اور باہر کی جانب چل پڑے۔ ہمیں یوں آتا دیکھ کر ماما نے پوچھا۔
”خیریت تو ہے نا…. یوں دادا پوتا ساتھ ساتھ میں ہیں…. کہیں جارہے ہیں؟“
”کھانا کھانے ، آج تھوڑا عیاشی کا موڈ ہے“۔ میں نے سکون سے کہا تو ماما ایک دم سے بولیں۔
”کہیں بھی نہیں جانا، آج ویک اینڈ ہے، میں نے کافی سارا اور بہت اچھا کھانا بنایا ہے ۔ ادھر بیٹھیں اور کھائیں۔ کوئی ضرورت نہیں باہر جانے کی“۔
”پاپا آگئے ہیں؟“ میں نے ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
”جی بالکل….! صاخبرادے، اور وہ اباجی کا انتظار کر رہے ہیں۔ کھانا لگ رہا ہے میز پر آجائیں“۔ ماما نے حکم صادر کیا اور ڈائننگ روم کی طرف چل دیں۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ماما کے پیچھے چل دینے۔ اب گھر میں کھانا کھانے کے سوا چارہ نہیں تھا۔
خوشگوار ماحول میں کھانا شروع ہوا۔ اسی دوران پاپا نے زویا کے پاپا کے بارے میں دادا کو بتاتے ہوئے کہا۔
”ابا جی، وہ آج شاہ صاحب آئے تھے آفس، کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے“۔
”جہاں تک میرا اندازہ ہے، وہ یہی معلوم کرنے آیا تھا کہ تمہارا کاروبار کیسا ہے، دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ تفتیش پر نکلا تھا“۔دادا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تو پاپا اس سے اتفاق کرتے ہوئے بولے۔
”بالکل،مجھے بھی ایسا ہی لگا، ان کی گفتگو کا محوریہی کاروبار تھا۔ میں نے بھی سب سچ بتا دیا۔ میں نے یہی اندازہ لگایا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ روپے پیسے کے معاملے میں ہماری حیثیت کیا ہے“۔
”یہ بات تو ہے پتر….!ان کے مقابلے میں ہم اتنی حیثیت نہیں رکھتے۔ مگر مجھے اپنے پوتے پر مان ہے“۔
دادا نے انتہائی پیار سے لبریزلہجے میں کہا۔ تب ماما نے سوچتے ہوئے لہجے میں پایا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں پوری تسلی کر لینے دیں۔ جب وہ اپنے اطمینان کا اشارہ دے دیں گے تو ہی ہم مزید بات کریں گے“۔
”ہو گا تو ایسے ہی اور میرے خیال میں ایسے ہی ہونا چاہئے۔ وہ اپنی پوری تسلی کرلیں۔ پھر ہم بھی پورے اعتماد سے بات کر پائیں گے“۔ پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”مگر آپ ان سے رابطہ ضرور رکھنا، گاہے بگاہے ان کے بارے میں معلوما ت لیتے رہنا۔ تاکہ پتہ تو چلے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں“۔ ماما نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
”یہ میں نہیں کر سکتا، یہ جاب آپ اپنے پتر بلال کو دیں تاکہ وہ زویا سے معلومات لیتا رہے۔ اصل میں ان دونوں کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی کرنے کی بجائے والدین کی مرضی کو ترجیح دی۔ میرا دل کہتا ہے کہ بات بن جائے گی۔ باقی اﷲ کی مرضی“۔ انہوں نے مطمئن انداز میں کہا اور کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
”اوکے بن جائے گی بات، فکرنہ کرو ، روٹی کھاؤ“۔ دادا نے لاپروایانہ انداز میں کہا اور سب کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
کھانے کے بعد میں دادا جی کی چائے لے کر ان کے کمرے میں چلا گیا۔ وہ لیٹے ہوئے تھے اور میرا لیپ ٹاپ ان کے بیڈ کے ایک طرف پڑا تھا۔ میں نے وہ اٹھا کر میز پر رکھ دیا۔ پھر چائے انہیں تھمائی اور ان کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموشی سے چائے پیتے رہے، پھر میں نے آہستگی سے کہا۔
”پھر کیا باتیں ہوئیں امرت کور سے….“
میری یہ بات سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر گہری سنجیدگی سے بولے۔
”بس پرانی یادیں تھیں۔ وہ اپنا پاگل پن دہراتی رہی اور میں سنتا رہا۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ تجھے اپنے پاگل پن سے کیا ملا، ایک طویل انتظار، بس اس جمع تفریق میں لگے رہے“۔
”مطلب ، اس کے پاگل پن نے سے کچھ نہیں دیا۔ اس نے جو محبت کی، وہ رائیگاں گئی“۔ میں نے باقاعدہ بحث کرنے والے انداز میں کہا تو وہ دھیرے سے بولے۔
”اب میں اس پر کیا کہہ سکتا ہوں۔ وہ اس کا کرم تھا، جس کا پھل اسے مل گیا“۔
”یہی تو مصیبت ہے دادا، آپ اس کی محبت سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ماناکہ یہ اس کا پاگل پن تھا، لیکن وہ اپنی محبت میں حق بجانب ہے۔ آپ کسی کی محبت کا انکار تو کر سکتے ہیں۔ مگر کسی کو محبت کرنے سے روک تو نہیں سکتے“۔ میں نے اپنی طرف سے دلیل دی۔
”تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔ اب میں اور تم، دونوں میں جو محبت ہے ان میں سے کوئی ایک، دوسرے کی محبت کا انکار کر دے تو کیا ہو سکتا ہے“۔ دادا نے انتہائی تحمل سے پوچھا۔
”نہیں دادا، ہم میں یہ تعلق اور محبت فطری ہے، اس میں خون کی کشش بھی شامل ہے، لیکن میں بات کر رہا ہوں آپ کی اور امرت کور کی محبت کی….“ میں نے تصحیح کرتے ہوئے جان بوجھ کر الٹ بات کی۔
”نہیں پتر، میری نہیں، صرف امرت کور کی محبت، اگر تمہیں پاگل پن کا لفظ اچھا نہیں لگتا، تو میں اسے مجبوراً محبت کہہ دیتا ہوں“۔ انہوں نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا۔
”چلیں، یونہی سہی، آپ ایک طرف مانتے ہیں کہ اس کی محبت ہے اور دوسری طرف اے رائیگاں بھی کہہ رہے ہیں۔ کیا واقعتا اس کی محبت رائیگاں گئی، میں تو یہ پوچھنا چاہتا ہوں“۔ میں نے جذباتی اندا میں پوچھا۔
”نہیں پتر….! محبت ہو، تو محبت رائیگاں نہیں جاتی۔ سچی محبت کا پھل ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن اس کی تاثیر اچھی ہوتی ہے ۔ اب سنو….! اس کی محبت میں خالص پن نہیں تھا۔ ایسا اگر نہ ہو تو پھر پاگل پن ہی ہوتا ہے نا، اب ہوا یوں ہے پتر، کہ اس کی محبت یا پاگل پن، جو کچھ بھی تھا۔ فقط ایک کے لیے تھا، اس نے کسی دوسرے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ غور کرنا بلال، یہاں ایک نکتے کی بات ہے جب بندہ ایک سے زیادہ کے بارے میں سوچے گا نا تو منفی جذبے خواہ مخواہ درآتے ہیں ۔ سوچوں میں۔ لالچ، خود غرضی، فریب، دھوکا اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب آجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ بھی ایسے کرنے لگتا ہے۔ ایک خدا کو دوسرے خدا پر ترجیح دیتا ہے۔ سبھی خداؤں کو خوش کرنے کے چکر میں رہتا ہے اور انسان اس قدر خود غرض ہو جاتا ہے کہ جہاں سے اسے نفع کی توقع ہو گی، اس کو مانتا ہے، لیکن جو ایک ہی کو ماننے والا ہے، وہ بھٹکتا نہیں۔ خیر ہو یا شر ہو۔ مصیبت ہو یا خوشی، نفع ہو یا نقصان، اسے ایک ہی در سے امید ہوتی ہے۔ وہاں لالچ نہیں ، خلوص ہوتا ہے، وفاداری ہوتی ہے، جب ایک ہی در سے امید لگتی ہے تو وہیں سے شروعات ہوتی ہیں۔ اسے یاد رکھنا“۔ یہ کہہ کر وہ ذرا سانس لینے کے لیے رکے اور پھر کہتے چلے گئے“۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے اس سے محبت تھی اور اب بھی ہے، لیکن اب اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ مجھے مانگتے مانگتے وہ اس کی ہو گئی ہے۔ جس سے وہ مجھے مانگ رہی تھی۔ میں اس کے لیے کبھی گم نہیں ہوا تھا۔ نگاہوں سے اوجھل تھا لیکن خیالوں میں سامنے تھا۔ وہ ایک کی ہو کر رہی۔ اس لیے آج اس کے چہرے پر نور ہے۔ اس کی محبت رائیگاں اس طرح نہیں گئی کہ اس نے وہ گیان پا لیا جو کسی عام بندے کو نہیں ملتا،جس نے محبت نہ کی ہو“۔ انہوں نے کہا تو میں نے ان کا موقف سمجھنے کے لیے پوچھا۔
”اب آپ اعتراف کر رہے ہیں کہ آپ کو امرت کور سے محبت تھی اور ہے پہلے تو مجھے اس محبت کے بارے میں بتائیں کہ وہ ہے بھی اور نہیں بھی، یہ معمہ میری سمجھ میں نہیں آیا، دوسری بات میں آپ سے بعد میں پوچھوں گا؟“
”میری محبت میں احترام شامل تھا اور اب بھی ہے۔ وہ میری دشمن نہیں تھی، پھر مجھے لگا کہ وہ میری دشمن ہے اور اس نے انتقام میں میرا نقصان کیا۔ یہ غلط فہمی تھی دور ہو گئی۔ اس نے اتنے لوگوں میں مجھے چاہا۔ اس نے مجھے اہمیت دی، یہ الگ بات ہے کہ اس کی محبت کا رخ کوئی دوسرا تھا۔ پھر اس نے اچھا کام کیا۔ یہ احترام بڑھ گیا۔ اب میری محبت ویسی نہیں تھی، جیسا وہ چاہی رہی تھی“۔
”یہ محبت ، محبت میں فرق ہوتا ہے“۔ میں نے پوچھا۔
”یار….! جیسا بیج ڈالو گے، پھل تو ویسا ہی آئے گا،پھر ضروری نہیں ہر پھل کا ذائقہ ایک جیسا ہو۔ اب دیکھو ، آم ہے، ایک درخت پر لگا ہوا ہے، اس کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہو گا ، آم کے جتنے بھی دانے ہوں، وہ سب آم ہیں، لیکن اپنے ذائقے میں مختلف ہیں۔ محبت تو محبت ہی ہوتی ہے، اس میں بندے کی سوچ اسے ایک الگ قسم کی بنا دیتی ہے“۔ دادا جی نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا تو میں نے ہٹ دھرمی سے کہا۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”دادا جی….! یہ کیسا گیان ہے جو بندے کو سارے زندگی کے لیے تنہائی کا شکار بنا دے“۔ اگرچہ یہ سوال ایسا تھا، جو اس گفتگو میں کوئی مقصد نہیں رکھتا تھا، لیکن میں گفتگو میں دادا جی کو اس سطح پر لے آنا چاہتا تھا، جہاں سے میں اپنی بات منوانے کے لیے کوئی دلیل دے سکوں اور میں نے یہ سوال سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ تب انہوں نے بڑے سکون سے کہا۔
”تجھے کس نے کہا کہ وہ تنہائی کا شکار تھی۔ اس کے اندر تو ایک ہجوم بہتا رہا ہے۔ اسے تو اپنے آپ سے فرصت نہیں تھی جو وہ کسی دوسرے کو دیکھ سکے۔ اسی کو تو گیان کہتے ہیں کہ بندہ اپنے من میں ڈوب جاتا ہے۔ کیا تُو نے یہ نہیں تھا کہ وہ کسی سے بات تک نہیں کرتی تھی۔ گیان اسے اب بھی ہے یہ تو وہاں جا کر تُو نے اس کا دھیان توڑا، ورنہ تو وہ اپنے وجدان میں ڈوبی ہوئی تھی“۔ دادا نے کہا تو مجھے یوں لگا اب میرے پاس باتوں کے لیے لفظ ختم ہو گئے ہیں۔ میں اب سوچنے لگا کہ ان سے کیا کہوں، پھر وہی ہٹ دھرمی سے بولا۔
”گیان، دھیان اور وجدان،ضرور اہم ہوں گے، میں انہیں سرے سے فضول نہیں کہنا، مگر دادا، ان کی اپنی معاشرتی زندگی تو نہ رہی۔ اس کا اپنا خاندان، اس کے بچے، وہ تو عورت ہونے کے ناطے اپنی تکمیل بھی نہیں کر سکی۔ کیا یہ شرط ہے کہ گیان، دھیان اور وجدان فقط انہی لوگوں کو ملتا ہے جو محبت میں ناکام ہوں گے، ان کی کوئی معاشرتی زندگی نہیں ہوتی، کیا یہ سب کچھ انہیں نہیں ملتا، جو ازدواجی زندگی گزارتے ہیں؟“
”تم نے ایک ہی سانس میں کئی سارے سوال کر دیئے ہیں پتر…. خیر….! میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا انسان کی ازدواجی زندگی ہی سے اس کی تکمیل ہو جاتی ہے؟ پیدا ہوئے، جوان ہوئے، شادی کی، بچے پیدا کئے اور مر گئے“۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں، فقط یہی زندگی کی تکمیل نہیں ہے“۔ میں نے تیزی سے کہا تو وہ میری تصحیح کرتے ہوئے بولے۔
”نہ پتر…. بھٹکو نہیں، میں زندگی کی نہیں انسان کی بات کر رہا ہوں“۔
”ہاں، وہی انسان….!“ میں نے خود کو درست کر لیا۔
”حیوان بھی یہ سب کرتے ہیں اور زندگی وہ بھی جی رہے ہیں۔ تم نے مجھے خود بتایا کہ لوگ اس کی راہ میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اس سے اپنی مراد میں مدد چاہتے ہیں اور تم بذات خود بریڈ فورڈ سے جھتوال صرف اس مقصد کے لیے گئے تھے۔ لوگ اسے عزت، احترام اور مان دیتے ہیں اور کیا ہوتی ہے معاشرتی زندگی؟“ انہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ میں خاموش رہا تو وہ بولے۔” اور جہاں تک عورت کی تکمیل والی بات ہے نا پتر، رانجھا، رانجھا کرتے ہوئے جب کوئی خود رانجھا ہو جاتی ہے نا تو وہاں پر صنف نہیں رہتی۔ نہ کوئی مرد، نہ کوئی عورت، وہاں فقط انسان ہوتا ہے اور صرف انسان اور رب کا تعلق ہوتا ہے۔ جسم کے نچلے دھڑ، جیسے پیٹ کو ساری عمر بھرتے رہیں تو وہ نہیں بھرتا، بالکل ایسے ہی انسان کی جنسی ضرورت بھی ہے۔ ساری زندگی پوری کرتے رہو،نہیں پوری ہوتی، مگر یہ نری حیوانیت ہے۔ اسی حیوانیت سے نکلنے کا نام ہی تو انسانیت ہے۔ بدن کی پکار عورت اور مرد کی صنف کو الگ الگ خانوں میں بانٹتی ہے، لیکن جب انسان، انسانیت کی معراج تک جانے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے تو انسان اور رب کا تعلق جڑ تا ہے۔ تب وہاں صنف نہیں، بندہ اور خدا ہوتا ہے اور تعلق ہو جاتا ہے“۔ دادا نے سنجیدگی سے سمجھایا۔ میں بہت کچھ سمجھ تو گیا لیکن مجھے تو یہی ظاہر کرنا تھا کہ میں نہیں سمجھا۔ اس لیے بولا۔
”دوسرے لفظوں میں آپ مجھے یہ سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ کسی بھی صنف کو اپنی ازدواجی زندگی نہیں گزارنی چاہئے۔ بس اپنی صنف کو بھول جانے کے لیے رب رب کرتا رہے، یوں انسانیت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ کیا بات کرتے ہیں دادا آپ…. کیا عورتوں کو اور مردوں کو ہندوبرہمچاریوں کی طرح ہو جانا چاہئے۔ پھر چل چکا قدرت کا نظام….“
”یہی تو میں تجھے سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ رب کی ذات سے غافل ہونے کا نام حیوانیت ہے۔ اس کے ساتھ ہر حالت میں لو لگانے کا نام ہی انسانیت ہے۔ ازدواجی زندگی بھی رب کے حکم سے نبھائی جائے۔ کھانا پینا تک…. اپنا عورت ہونابھی اسی کے تابع کر دے، اپنے عورت پن پر غرور نہ کرے۔ اپنی ہوس، اپنی بدن کی پکار لذت کے لیے نہ ہو، رب کی منشاءکے مطابق ہو۔ بالکل ایسے ہی مرد کے لیے ہو، اب اس میں برہمچاری پن کہاں سے آگیا؟ پیدا ہونے سے لے کرموت کے سفر تک میں رب ہی کے تابعداری کی جائے۔ یہی انسانیت ہے“۔ دادا نے بڑے تحمل سے مجھے سمجھایا۔
”تو بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے کہ امرت کو رکو کیا ملا“۔ میں نے پھر سے بات چھیڑ دی۔
”چل تُو بتا، تُو کہنا کیا چاہتا ہے۔ جس کے لیے تم نے اتنی بحث چھیڑی ہوئی ہے“۔ دادا نے میرا اصل مقصد بھانپتے ہوئے کہا تو میں چند لمحے خود میں ہمت جمع کرتا رہا۔ پھر اعتماد سے کہا۔
”دادا جی، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ امرت کور سے شادی کرلیں“۔ یہ کہہ میں نے تیزی سے کہا۔ ”نہ…. نہ…. نہ…. ابھی ہاں یا نہیں میں جواب نہیں دینا دلواجی…. پہلے میری پوری بات سننی ہے“۔
”چلو سناؤ….! “ دادانے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے سکون سے کہا۔
”دیکھیں….! اب نہ تو وہ ماحول رہا اور نہ ہی حالات…. وقت بیت گیا۔ مگر آپ دونوں موجود ہیں اور اﷲ کرے آپ ہمارے سر پر سلامت رہیں۔ وہ آپ کو نہ ملتی۔ یہ الگ بات تھی۔ وہ آپ کو ملی، اس کے سارے حالات آپ پر واضح ہو گئے۔ اب تک جوآپ نے گفتگو کی ہے۔ اس کے مطابق، آپ بھی مانتے ہیں کہ اس کی توجہ آپ ہی کی طرف لگی ہوئی ہے اور وہ آپ ہی کی ہو کر رہی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اب بھی آپ کو ویسے ہی چاہتی ہے۔ جیسے ان دنوں چاہتی تھی۔ میں آپ کی اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ممکن ہے ماضی میں اسے محبت کا شعور ہی نہ ہو۔ وہ بدن کی پکار ہی کو محبت سمجھ رہی تھی، لیکن اب تو ایسا نہیں ہے۔ بدن کی پکار بھی تھی تووہ آپ کے لیے تھی، ورنہ وہ کسی کو بھی شریک زندگی بنا سکتی تھی۔ میں فقط یہ چاہتا ہوں کہ اب اسے اپنی محبت کا، اتنی زندگی کی ریاضت کا تپسیا کا پھل ملنا چاہئے۔ اسے سرخرو کر دیں، اس کی تکمیل کر دیں، وہ ناکام محبت کی حسرت لے کر اس دنیا سے نہ جائے“۔
جس قدر میں نے جذبات میں کیا،دادا جی نے اس قدر غیر جذباتی انداز میں پوچھا۔
”یہی کہنا ہے یا ابھی کچھ اور باقی ہے؟“
ان کے اس طرح کہنے سے مجھے یوں لگا، جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ یہ ہی بکواس تھی یا ابھی کچھ اور جھک مارنا چاہتے ہو۔ اس لیے میں تلملا کر بولا۔
”دادا….! آپ کے نزدیک میری ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟“
”ہاں، کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ تم نے مجھے اپنی بات سنانے کے لیے کہا ہے اور وہ میں سن رہا ہوں“۔
”ٹھیک ہے دادا جی، جب میری کسی بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے تو پھر کوئی بات سنانے کا فائدہ، جارہا ہوں میں….“ میں نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بولے۔
”مگر اپنی بات مکمل تو کر لو، اگر تمہاری کوئی دلیل رہتی ہے تو وہ بھی کہہ دو“۔
”نہیں، میری کوئی دلیل نہیں ہے“۔ میں نے غصے اور ناراضی میں کہا۔ اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ میں نے پوری طرح انہیں غصہ دکھایا۔ میرا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ فوراً کوئی جواب نہ دیں۔ بلکہ میری بات پر پوری توجہ …. اور دھیان سے سوچیں۔ تبھی وہ کسی فیصلے تک پہنچ پائیں گے۔ اس لیے میں اپنے کمرے میں آ کر سکون سے سو گیا۔ کیونکہ اب جو کرنا تھا، وہ دادا کے اسی کے فیصلے کی بنا پر ہونا تھا۔
تقریبا تین چار دن میں دادا جی کے قریب نہیں گیا۔ انہیں موڈدکھایا۔ ان سے کسی بھی قسم کی بات نہیں کی۔ اگر ان سے آمنا سامنا بھی ہو جاتا تو میں انہیں طرح دے جاتا۔میرا مقصد ان پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا۔ بلکہ میں یہ چاہتا تھا کہ وہ جذباتی ہو کر بھلے سوچیں، مگر سوچیں ضرور۔ میں نے اپنے طور پر بہت کچھ سوچ لیا تھا۔ ان دنوں میری پریت کور اور بھان سنگھ سے طویل باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے دادا سے ہونے والی گفتگو انہیں بتا دی۔ اس کے ساتھ میں نے ان کے لیے بھی سوالیہ نشان چھوڑ دیا کہ انہوں نے امرت کور سے بات کی؟ اس کا عندیہ کیا ہے؟ اس وقت میری پوزیشن یہ تھی کہ اگر داداجی مان جاتے اور وہ مجھے ہاں کہہ دیتے ہیں، تب امرت کور انکار کر دیتی ہے تو کیا ہو گا؟ امرت کور مان جاتی ہے اور دادا نہیں مانتے یہ صورت حال تو پہلے ہی تھی، اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پریت کور نے وعدہ کر لیا تھا کہ وہ ایک دو دن میں امرت کور سے بات کرے گی۔ ان دنوں میں اسی کی طرف سے کسی اطلاع کا منتظر تھا۔
اس دن میں اپنے آفس میں تھا۔ میں نیٹ پر آن لائن تھا۔ زویا تو ہمیشہ ہی آن لائن رہتی تھی۔ میں گاہے بگائے اس سے بات کرتا رہتا تھا۔ کبھی کبھار تو لنچ کا پروگرام یونہی آن لائن ہی بن جاتا۔ عین وقت پر میں دفتر سے نکل جاتا اور وہاں پہنچ جاتا، جہاں زویا میرا انتظار کرر ہی ہوتی۔ ایسے ہی پریت کور آن لائن ہو گئی۔ اس وقت میں اتنا مصروف بھی نہیں تھا، سو حال احوال کے بعد اس نے بتایا۔
”میری آج صبح صبح امرت کور سے بات ہوئی تھی۔ میں نے براہِ راست شادی کی بات تو نہیں کی، لیکن ایسے ہی باتوں ہی باتوں میں اس سے پوچھا تھا“۔
”کیا پوچھا تھا؟“
”میں نے ان سے سوال کیا کہ پاکستان ٹور میں انہیں نور محمد کو ملنے کا موقعہ ملا۔ ظاہر ہے وہ آپ کی محبت ہے۔ آپ کا جذباتی پن ہم سب نے دیکھا، کیا آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی کہ آپ وہیں نور محمد کے پاس رہ جاتیں“۔
”پھر کیا جواب ملا؟“
”اس نے کہا کہ میرا تو دل کرتا تھا، مگر مجھے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اگر کوئی روک لیتا تو میں کیوں نہ رکتی“۔
”مطلب ، وہ خواہش مند ہے کہ دادا اُسے روک لیتے“۔
”بالکل….! میں نے اسی بات کی بنیاد پر مزید پوچھا کہ باالفرض محال وہ آپ کو روک لیتے تو پھر آپ وہاں کس حیثیت سے رہتیں“۔
”ہاں….! یہ سوال ٹھیک تھا“۔
”تب اس نے کہا کہ یہ تو نور محمد نے مجھے حیثیت دینی ہے، وہ چاہے نوکرانی بنا دے یا مہارانی ، دلہن وہی جوپیا من چاہے….“
”گڈ….! اب تم نے اتنا پوچھا لیا تو شادی کے بارے میں بھی پوچھ لیتی“۔
”نہیں اگر میں ایسی بات کرتی تو یہ بالکل واضح ہو جاتا کہ میں اسی مقصد کے پوچھ رہی ہوں۔ کوئی بات نہیں میں ایک دو دن میں یہ بھی پوچھ لوں گی، اب وہ ہمارے ہاں آجاتی ہے اور دادی کے ساتھ بہت دیر تک باتیں کرتی رہتی ہے“۔
”بالکل….! ایسے ہی کرنا، کسی دن دادی کے سامنے ہی یہ بات کرنا، پھر میں خود دادی سے بات کر لوں گا۔ یا پھر بھان کرے گا“۔
”نا تو میں اب تک یونہی جھک مار رہی ہوں۔ اگر تم لوگوں ہی نے بات کرنا تھی تو مجھے کیوں کہا، کیا میں نہیں کر سکتی بات“۔
”اوہ….! تم تو ناراض ہو گئی…. سوری…. سوری…. تم بات کر سکتی ہو۔ بلکہ تم بہترین سفیر ہو“۔
”اچھا اب آپ خواہ مخواہ کی تعریف نہ کریں۔ میں ایک ہفتے میں ساری بات کلیئر کرلوں گی“۔
”اوکے…. ! گڈ لک…. مجھے انتظار رہے گا“۔
”پر تم نے بات کی مزید کوئی؟“
”ابھی نہیں، اب کرلوں گا“۔
”چلیں ٹھیک ہے“۔ اس نے کہا اور پھر کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ لگانے کے بعد وہ آف لائن ہو گئی۔ تب میں نے چند لمحے سوچ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ دادا جی سے بات کر ہی لی جائے۔ مگر اس سے پہلے میں زویا سے گپ شپ کرلینا چاہتا تھا، وہ مجھے کوئی بہتر مشورہ دے سکتی تھی۔ تبھی میں نے اس سے ایک ریستوران میں ملنے کا پروگرام طے کر لیا۔
اسی شام جب دادا جی عشاءکی نماز پڑھنے کے لیے گئے تو میں ان کے کمرے میں جا کر ان کے بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔ میرادھیان اسکرین پر کم اور زویا کی باتوں کی طرف زیادہ تھا۔ اس نے چند باتیں بہت خوب کہیں تھیں۔ تاہم ایک بات مجھے حوصلہ دے رہی تھی اور وہ یہ کہ جس طرح عورت گریز پا ہوتی ہے، اسی طرح مرد بھی ہوتا ہے ۔ جس عمر اور مقام پر وہ ہیں، وہ اپنے منہ سے یہ کیسے کہہ دیں کہ ہاں، میں امرت کور کو چاہتا ہوں اور میری اس سے شادی کر دی جائے۔ انہیں تو مجبور ہی کیا جائے گا، ہاں، وہ اپنی گفتگو میں کچھ اشارے دے دیں، انہی اشاروں کو سمجھ کر آگے بات کی جا سکتی ہے۔ میں انہی سوچوں میں کھویا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا کہ داد ا جی آگئے مجھے یوں دیکھ کر وہ ایک دم خوش ہو گئے۔ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
”اوئے پتندرا….! آگیا ہے تو آج“۔
”آنا تو تھا میں نے…. آپ سے بات نہیں کرتی تھی کہ پھر کیا سوچا آپ نے “۔ میں نے جان بوجھ کر تمہید نہیں باندھی، بات ہی وہیں سے شروع کی۔ تب انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
”اوئے میں نے کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا، تو خواہ مخواہ فضول کاموں میں پڑ گیا ہے۔ تم اگر کوشش بھی کر لو تو بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی، کیوں وقت ضائع کرتا ہے“۔
”آپ ہاں کریں، باقی کام میرا ہے“۔
”میں ہاں بھی کر دوں۔ پھر بھی یہ نہیں ہو گا جو تم چاہتے ہو، دیکھو پتر….! وقت کی قید ہمیشہ لگی رہتی ہے، جو ایک بار وقت کا قیدی ہو جائے، پھر اسے رہائی نہیں ملتی، اچھا، اس بات کو چھوڑ، اپنے اس پراجیکٹ کے بارے میں سوچ، جو تجھے الگ سے لگانا ہے، کیونکہ ممکن ہے، اسی مہینے میں تمہاری زویا کے ساتھ منگنی ہو جائے“۔
دادا جی نے کچھ اس طرح کیا کہ میں سب کچھ بھول گیا۔ سچ کہوں تو اس وقت میری حالت ہونقوں کی مانند تھی جسے اچانک اندھیرے میں پڑا ہوا خزانہ مل جائے۔ میں ساکت سا ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔
چند لمحوں بعد جب مجھے ان کے لفظوں کا یقین ہوا تو میں نے پوچھا۔
”دادا جی…. یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“
”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں، تم سے مذاق تھوڑی کروں گا۔ تمہاری ماما نے کھانا لگا دیا ہو گا، وہ مل کر کھاتے ہیں۔ وہیں تیرے پاپا کو بھی یہ بتانا ہے، ایک ہی بار سب سن لو“۔ یہ کہہ کر وہ اٹھ گئے اور میں حیران سا ان کے پیچھے لپکا۔
اگرچہ کھانا معمول ہی کے مطابق کھانے لگے تھے لیکن میں بہت الجھا ہوا تھا، مجھے دادا جی کی بات پر سو فیصدی یقین تھا۔ مگر سوچنے والی بات یہ تھی کہ اچانک یہ کیسے ہو گیا۔ میں شدت سے ان کی طرف سے کچھ کہنے کا انتظار کر رہا تھا۔ بے چینی تھی کہ حد سے بڑھی جارہی تھی۔ انہوں نے اطمینان سے کھانا کھایا اور ماما سے بولے۔
”ملازمہ سے کہو کہ وہ چائے بنا کر یہیں لے آئے اور برتن اٹھا لے، تم دونوں آؤ، میری بات سنو“۔
”جی ، ابا جی“۔ ماما نے کہا تو ہم سب ڈرائننگ روم میں آگئے۔ کچھ دیر بعد ماما آگئیں۔ اطمینان سے بیٹھنے کے بعد انہوں نے کہا۔
”میرا ایک دوست ہے فضل دین رضوی، بہت اچھا بندہ ہے۔ مجھے اپنے بلال اور زویا کے بارے میں جب معلوم ہوا تو فطری طور پر میں نے زویا کے والدین بارے پتہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ کون ہیں کیسے ہیں، کس طرح کے لوگ ہیں؟ میں نے رضوی سے اس معاملے بارے بات کی۔ وہ شاہ صاحب کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہے اور کافی حد تک ان کے دوستانہ مراسم ہیں“۔
”کیا کہا انہوں نے شاہ صاحب کے بارے میں؟“ پاپا نے تیزی سے پوچھا۔
”وہی جیسے عام جاگیردار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی ہے زویا۔ شاہ صاحب کا خیال ہے کہ اس کی شادی خاندان ہی میں ہو۔ ایسے لوگوں میں بچے کی پسندناپسند، جوڑ بنتا ہے یا نہیں، ان پڑھ ہے یا پڑھ لکھا۔ یہ نہیں دیکھا جاتا، بنیادی چیز جو ہوتی ہے، وہ زمین ہوتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ زمین خاندان سے باہر جائے ۔ خیر….! میں نے اس کے ذریعے سے بات چلانے کا فیصلہ کیا“۔
”مطلب، آپ نے بیک ڈور چینل استعمال کیا“۔ اس بار پاپا نے کافی حد تک اطمینان سے کہا۔
”اُو بس یہی سمجھ لو، بات چلتی رہی۔ مسز شاہ کا موقف یہ تھا کہ ہم نے بچی کی مرضی دیکھنی ہے۔ کیونکہ زویا اس سے اپنی دل کی بات کہہ چکی تھی۔ زویا بذات خود اپنے خاندان والوں سے متنفر ہے۔ سو ہماری بات چیت سے زیادہ، ان کے گھر میں بحث چلتی رہی، یہاں تک کہ امرت کور اور دوسرے یہاں آئے، ان کے ہاں جو ڈنر تھا، اس نے کافی حد تک تیزی سے بات کو آگے بڑھایا۔ شاہ اور مسز شاہ کو بھی بلال پسند ہے، وہ بھی چاہتے ہیں کہ بلال سے زویا کی شادی ہو جائے لیکن“۔
”لیکن کیا….“۔ ماما نے یوں پوچھا جیسے ان کا دل دھک سے رہ گیا ہو ۔
”وہ یہ کہ انہوں دو طرح سے خدشات ہیں۔ ایک تو انہیں اپنے خاندان کی بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، ظاہر ہے جائیداد باہر جاتی ہوئی دیکھ کر خاندان نے مخالفت تو کرنی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ان کے لیے غیر ہیں، ظاہر ہے رشتے ناطے کے لیے اور خصوصاً بیٹی دیتے ہوئے بندہ بہت محتاط ہوتا ہے“۔ دادا جی نے کہا تو پاپا نے سوالیہ انداز سے پوچھا۔
”تو پھر اس کا حل کیا ہے، خاندان کی مخالفت بارے ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ وہ تو ہمارے بس کی بات نہیں، یہ تو شاہ صاحب کو خود سوچنا ہو گا، جبکہ دوسری بات بارے سوچا جا سکتا ہے، انہیں اطمینان دلانے کی ہم ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں، جیسا وہ چاہیں“۔
”نہیں، اصل میں دونوں کام ہی ہو سکتے ہیں اور وہ ایک کام کرنے سے ہو جائیں گے“۔ دادا جی نے سکون سے کہا۔
”وہ کیا ابا جی“۔ مامانے پوچھا۔ ان کے لہجے میں حددرجہ تجسس تھا۔
”انہیں صرف یہ اطمینان ہو جائے کہ زویا کی پسند کوئی عام سی چیز نہیں ہے۔ وہ ایک بااعتماد اور ذمہ دار شخصیت رکھتا ہے۔ اسے زویا کی جائیداد سے کوئی غرض نہیں، وہ خود زور ِ بازو رکھتا ہے۔ اس معاملے میں غیرت مند ہے اور اس قابل ہے کہ وہ بہت زیادہ ترقی کر سکتا ہے“۔ دادا نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”یہ ساری باتیں اپنے بلال میں ہے“۔ ماما نے تیزی سے کہا۔
”بس اس کا احساس دینا ہے انہیں، یہ اپنا بزنس شروع کرے، اپنے باپ کی دولت پر نہیں، اپنی دنیا آپ پیدا کرے، شاہ صاحب خود بزنس میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ دلچسپی انہیں زویا کی وجہ سے ملی ہے“۔
”وہ تو ہو جائے گا ابا جی، لیکن میں یہ بات نہیں سمجھا کہ بلال الگ سے بزنس کیوں کرے، ایک چلتا ہوا بزنس ہے۔ اس کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔ شادی سے پہلے ہی الگ ہو جانے کی بات مجھے سمجھ میں نہیں آئی؟“
”میں سمجھاتا ہوں، جس وسعت کی بات تو کررہا ہے، وہ بلال کرے، اس کے پراجیکٹ دکھائی دیں، وہ کہاں سے الگ ہو رہا ہے۔ تمہاری زیر سایہ ہی وہ اپنے کا روبار کو بڑھائے۔ میری اور رضوی کی روزانہ بات ہوتی ہے۔ قریب ترین ہے کہ زویا اور بلال کی منگنی ہو جائے“۔ دادا نے سکون سے بات کی تو پاپا سمجھ گئے۔
”میں سمجھ گیا اباجی، ایسا ہی ہو گا، بلال پہلے ہی سب کر رہا ہے“۔ پاپا نے خوشدلی سے کہا۔
”تو بس پھر ٹھیک ہے“۔ داداجی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تومیں نے سکون کی سانس لی، زویا جو کبھی بہت دور کی منزل دکھائی دیتی تھی اب بہت قریب دکھائی دے رہی تھی۔ وہ رات میں بہت مسرور رہا۔
میں تقریباً ایک ہفتہ بہت زیادہ مصروفیت میں رہا۔ میں جو پراجیکٹ بنا چکا تھا۔ پاپا نے وہی میرے ذمے لگا دیا اور میں دن رات اس میں لگا رہا۔ اس دوران میرا بھان سنگھ سے مسلسل رابطہ رہا تھا۔ یہ رابطہ صرف اور صرف کاروباری تھا۔ یہاں سے جانے کے بعد وہ پوری سنجیدگی سے اپنے کاروبار کے بارے میں سوچنے لگا۔ میرا اور بھان سنگھ کا مشترکہ دوست اسد جعفری تھا۔ اس نے لندن کے نواح ہی میں رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میرا اس سے مسلسل رابطہ نہیں تھا، لیکن بھان نے رکھا۔ ہماری تکون بن گئی۔ فوڈ پراڈکٹ اور اس کے ساتھ ایسی ہی بہت ساری چیزوں کی امپورٹ ایکسپورٹ کے لیے ہم تینوں کی بات ہو گئی۔ کانفرنس کال روز ہی رہنے لگی۔ ہم نے سب کچھ طے کر لیا۔ یوں بھان امرتسر میں ہی اپنا سیٹ اپ بنانے لگا۔ میرا تو پہلے تھا ہی۔ اتنی مصروفیت اور الجھن والے دنوں میں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ میرے ذہن میں تھا کہ میں نے دادا سے بات کرنی ہے مگر وقت تھا کہ مل ہی نہیں رہا تھا۔ پھر ایک دن مجھے وقت مل ہی گیا۔
اس دن میں صبح جاگا تو دن اچھا خاصا نکل آیا تھا۔ رات دیر سے سونے کی وجہ سے آنکھ وقت پر کھل ہی نہیں سکی تھی۔ میں جلدی جلدی آفس جانے کے لیے تیار ہو کر ناشتے کی میز پر آیا تو دادا جی وہیں موجود تھے۔ مجھے دیکھتے ہی پیار، خلوص اور محبت سے اونچی آواز میں بولے۔
”او کیا حال ہے تیراپتندرا!“
”بس دادا، نئے پراجیکٹ میں پھنسا دیا ہے نا، تو دن رات ایک ہو گیا ہے“۔
”اُو،پتندرا میں نے تجھے نہیں پھنسایا، تو خود پھنسا پھنسایا بریڈ فورڈ سے آیا ہے۔ رانجھے نے تو ہیر کی بھینسیں چرائی تھیں۔ تو اپنے اجڑ (ریوڑ) کو بھی نہیں چرا سکتا“۔
”چل ٹھیک ہے دادا جی، بس دو تین دن اور ہیں، پھر میں نے آپ سے حتمی بات کرنی ہے“۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔ اتنے میں ملازمہ کے ساتھ ماما ناشتہ لے کر آگئیں تو ہم میں خاموشی چھا گئی۔
میں نے جلدی میں ناشتہ کیا اور باہر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔
”اوئے بلال ! ابھی بیٹھ میرے پاس، کچھ دیر ٹھہر کر آفس چلے جانا“۔ ان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ میں وہیں بیٹھ گیا۔تب انہوں نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔”یہ تو کیا فضول ضد کر رہا ہے“۔
”کون سی ضد….“ ایک لمحے کو مجھے خیال ہی نہیں آیا تھا کہ وہ کس ضد کی بات کر رہے ہیں۔
”وہی امرت کوروالی….“ انہوں نے سنجیدگی سے کہا تو میں ایک دم سے خوش ہوتے ہوئے بولا۔
”ویسے دادا جی….!دل میں لڈو تو پھوٹ رہے ہوں گے…. ایک ایسی خاتون سے شادی، جو آپ سے شدید محبت کرتی ہے۔ بس ایک بار بیاہ کر آگئی تو پھر واپس میکے نہیں جائے گی۔ ایک بار زندگی میں بہار آ….“
”بکواس بند کر….“ دادا جی نے کافی حد تک سختی سے کہا تو میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا، میں کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے خاموش رہا تو وہ کہنے لگے۔ ”دیکھ کاکا…. تو جو کچھ سوچ رہا ہے نا، وہ انتہائی فضول ہے، میری جو تھوڑی بہت عزت ہے نا…. تم اسے بھی خاک میں ملا دو گے۔ لوگ کیا کہیں گے کہ اس عمر میں مجھے شادی کروانے کی آخر کیا ضرورت ہے، لوگ نہ صرف باتیں بنائیں گے۔ بلکہ ہنسیں گے بھی ہم پر….“
”تو جائیں بھاڑ میں دادا جی، یہاں کوئی مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھنے بھی عین وقت پر آتے ہیں کہ سوئی پر سوئی چڑھی ہو، ایک منٹ آگے پیچھے ہو جائے تو باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں لوگوں سے کیا لینا دینا اور پھر امرت کور کا واقعہ کوئی عام سا اور معمولی سا واقعہ نہیں ہے۔ ایک زندگی کا سوال ہے….“ میں نے دلیل دی۔
”اگر شادی نہ ہوتی تو کیاوہ مرجائے گی، ہاں میں یہ تمہاری بات مانتا ہوں کہ یہ کوئی عام سا اور معمولی واقعہ نہیں ہو گا، کیونکہ میرے اور امرت کور کے درمیان بہت ساری رکاوٹیں ہیں“۔ انہوں نے کافی حد تک گہری سنجیدگی سے کہا۔
”مثلاً….! کسی رکاوٹیں؟“ میں نے بھی صوفے پر پہلو بدلتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔
”دیکھ، میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں ایسی باتیں عزت ووقار پر دھبہ بن جاتی ہیں۔ لوگوں کی زبانیں نہیں پکڑی جا سکتی۔ ہم نے اس سوسائٹی میں رہنا ہے۔ یہ فضول بات ہے کہ ہمیں لوگوں کی پروا نہیں“۔
”چلیں مان لیتے ہیں، یہی ایک رکاوٹ ہے، اگر صرف یہی رکاوٹ ہے تو میں باقاعدہ طور پر آپ کے دوستوں کو اپنے اردگرد لوگوں کو مطمئن کر لیتا ہوں۔ اگر ان کی رائے ہوئی تو…. پھر آپ کو یہ فیصلہ قبول کرنا ہو گا“۔
”اور مجھے یقین ہے کہ تم اس میں کامیاب نہیں ہو پاؤ گے“۔ انہوں نے سکون سے کہا۔
”تو آپ کا مطلب ہے، پہلے میں اس شادی کے لیے راہ ہموار کروں اور ….“ میں نے مسکراتے ہوئے کہنا چاہا تو انہوں نے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”نہیں بیٹے ….!یہ تو ایسی بات ہو گی کہ گناہ بھی نہیں کیا اور سزا بھی مل گئی، بنا شادی کئے ہی میں لوگوں میں زیر بحث آجاؤں گا۔کیونکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے“۔ انہوں نے اس اطمینان سے کہا کہ میں نے تحمل سے پوچھا۔
”وہی تو میں پوچھ رہا ہوں دادا جی….! آپ وہ بات کیوں نہیں بتا دیتے، جو آپ کے دل میں ہے“۔
”دیکھو….! وہ ایک سکھ عورت ہے اور میں مسلمان، ہم دونوں کا مذہب الگ ہے، وہ کوئی عام مسلمان خاتون ہوتی تو شاید اتنی باتیں نہ بنتی ، لیکن سکھ عورت اور وہ بھی دوسرے ملک سے یہ ایک ایسی بات ہو گی، جس کا کم از کم میں جواب نہیں پاؤں گا“۔ یہ کہہ کر انہوں نے سکون کا سانس لیا ۔
”تو بات یہ ہے کہ وہ ایک سکھ خاتون ہے، اس کا سکھ ہونا ہی اس کی ایسی خامی ہے کہ آپ کے تمام تر معیارات سے گر گئی۔ اس کی محبت اور اس کا آپ سے لگاؤ اور آپ کے لیے اس کی تپسیا، کسی کام کی نہیں، وہ سب فضول تھا اور آپ کی نظر میں بھی فضول ہے۔ آپ اسے ایک انسان کی حیثیت سے کیوں نہیں دیکھتے دادا جی، اس نے آپ کی یاد میں ساری زندگی گزار دی، اسے کوئی مجبوری تھی ناتو آپ سے محبت کی، ورنہ وہ اپنی زندگی میں خوش رہتی، ایک معافی کی خواہش پر قائم رہی وہ تمام عمر، اسے یہ معلوم بھی تھا کہ آپ اسے نہیں مل سکتے؟ لیکن وہ ساری عمر اپنے رب سے آپ ہی کو مانگتی رہی اور آپ اسے صرف یہ کہہ کر کہ وہ ایک سکھ خاتون ہے اس کی ساری تپسیا پر لکیر پھیر رہے ہیں اور …. اگر وہ مسلمان ہو جاتی ہے تو پھر قبول کر لیں گے“۔
”ٹھیک ہے بلال….! میں ایک سکھ خاتون کو قبول نہیں کر سکتا، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتی ہے۔ تو پھر بہت کچھ سوچا جا سکتا ہے“۔ داداجی نے میری طرف دیکھ کر کہا۔
”بات تو پھر وہی رہی نا، اس کا مسلمان ہونا آپ کے لیے اہم ہے، ایک ایسی عورت کا نہیں جو آپ سے محبت کرتی ہے، محبت آپ کے نزدیک اہم نہیں“۔ میں نے انتہائی افسردگی سے کہا۔
”ٹھیک ہے، تو پھر مجھے سکھ ہو جانے کی اجازت دو…. کر لو بات سب سے، میں اس کی محبت کا، اس کی تپسیا کا عوضانہ دے دیتا ہوں۔ میں سکھ مذہب اختیار کر لیتا ہوں اور ہجرت کر کے آنے والے ان معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے غداری کرلیتا ہوں جو اس راہ میں مارے گئے، جن کا کوئی قصور نہیں تھا، ہاں ، ہاں وہ میرے لیے شہید نہیں رہے، مارے جانے والے لوگ ہو جائیں گے، پھر نیزے کی اَنّیوں پر ٹنگے بچے مجھ سے سوال نہیں کریں گے“۔ وہ انتہائی جذباتی انداز میں بولے۔
”تو کیا وہ سب امرت کور نے کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”میں اسے جب بھی دیکھوں گا، مجھے سکھ قوم یاد آئے گی، وہ لوگ ساری دنیا میں پھرتے رہیں مجھے اس سے غرض نہیں، میں اس سے شادی کر لوں گا تو اسے اپنا لوں گا…. نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا، ہاں، مجھے سکھ ہو جانے دو، میں اس کا عوضانہ دے دوں گا“۔ انہوں نے حتمی انداز میں کہا اور میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے ایک طویل سرد آہ بھری اور بے بسی سے کہا۔
”آپ نے یہ جو مذہب کا دریا درمیان میں لا کر رکھ دیا ہے نا، میں اسے کیسے عبور کروں، ٹھیک ہے۔ داداجی یہاں پر میں ہار گیا، میں اپنی ساری دلیلیں واپس لیتا ہوں، آپ سے اس موضوع پر کبھی بات نہیں کروں گا“۔ میں نے کہا اور اٹھ کر اندر کی جانب جانے لگا۔
”یہ کیا، تم تو آفس جانے والے تھے، اندر کیا کرنے جارہے ہو، جاؤ آفس اور بھول جاؤ، اس سارے معاملے کو“۔ دادا جی نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”نہیں دادا جی، میں شاید اب ایک دو دن آفس نہ جا سکوں، مجھے اس شرمندگی سے نکلنے کے لیے کچھ تو وقت لگے گا کہ میں نے آپ سے غلط بات کی، آپ کو تنگ کیا۔ یہاں تک کہ آپ کے مذہبی خیالات پر ضرب لگادی، مجھے معاف کر دیں دادا جی“۔ میں نے کہا اور اندر کی جانب چلا گیا۔ داداجی مجھے پکارتے رہے مگر میں نے ان کی بات ہی نہیں سنی۔
میں نے کپڑے اور جوتے اتارے اور اپنے بیڈ پر لیٹ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ دادا میرے کمرے میں نہیں آئیں گے، لیکن ماما ضرور آئے گی۔ وہ مجھ سے آفس نہ جانے کی وجہ ضرور پوچھیں گی اور میرے پاس بہانہ تھا کہ میری طبیعت خراب ہو گئی ہے، لیکن دوپہر گزر گئی کوئی بھی میرے کمرے میں نہیں آیا اور میری نہ جانے کب آنکھ لگ گئی تھی۔ میں جو بیدار ہوا تو دوپہر گزر چکی تھی۔ میں نے کپڑے تبدیل کیے اور یونہی آوارگی کے لیے باہر نکل گیا۔
رات گئے میں واپس پلٹا تو ڈرائنگ روم میں ماما کے ساتھ پاپا بیٹھے ہوئے تھے۔ خلاف معمول ان کے چہروں پر سختی دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے ضرور ناراض ہوں گے۔ میں پُرسکون سے انداز میں انہیں سلام کر کے ان کے قریب سے گزرنے لگا تو پاپا بولے۔
”کدھر گئے تھے؟“
”ایویں یونہی باہر گھومنے پھیرنے گیا تھا“۔
”تم آفس کیوں نہیں گے، تمہیں معلوم نہیں تھا کہ آج تمہارا آفس جانا کتنا ضروری تھا اور تم نے اپنا سیل فون بھی بند کر دیا ہوا تھا“۔ انہوں نے دبے دبے غصے میں کہا۔
”پاپا، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی“۔ میں نے بہانہ بنا دیا۔
”کیا ہوا طبیعت کو، ڈاکٹر کودکھایا؟“ پاپا نے جلدی سے پوچھا۔
”ٹھیک ہوں…. اور معذرت چاہوں گا پاپا، آپ کو بتایا نہیں، میں نے سوچا آپ خواہ مخواہ پریشان ہوں گے، میں تھوڑا مزید آرام کروں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا“۔ میں نے کہا اور اندر جانے لگا تو ماما نے حیرت سے کہا۔
”بلال….! تم نے کتنی دیر آرام کرنا ہے، سارا دن سوئے رہے ہو، میں دوبار تمہیں دیکھ کر آئی ہوں، کھایا پیا کچھ نہیں، اب پھر آرام، بات کیا ہے کیوں پریشان ہو؟“ انہوں نے پوچھا تو میں دھیرے سے بولا۔
”کچھ نہیں، میں ٹھیک ہوں، آپ پریشان نہ ہوں، میرا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا“۔
”او کے ….! جاؤ آرام کرو“۔ پاپا نے اچانک کہا تو میں اندر چلا گیا۔ جاتے ہی میںنے لیپ ٹاپ آن کیا، امید تھی کہ بھان، پریت یا زویا میں سے کوئی آن لائن ہو گا تو اس سے گپ شپ کروں گا۔ مجھے تینوں ہی آن لائن مل گئے اور چند لمحوں ہی میں ان کے پیغام بھی آگئے کہ میں سارا دن کدھر تھا؟ میں نے تینوں ہی کو بتایا کہ میری دادا جی سے کیا بات ہوئی ہے۔ میں نے ساری لگی لپٹی ان سے کہہ دی، کچھ بھی ان سے نہیں چھپایا۔
”تو پھر تم ہار گئے؟“ زویا نے فقرہ پھینکا۔
”یہی کہہ سکتی ہو، جو دریا دادا جی نے درمیان میں لارکھا ہے، میں نے خود تو عبور نہیں کرنا، کیسے کروں“۔ میں نے جواب دیا۔ تبھی پریت کور کا پیغام آگیا۔
”چلو شکر ہے ، ابھی میں نے امرت کور سے کوئی حتمی بات نہیں کی تھی۔ ورنہ وہ مجھ پر کبھی راضی نہ ہوتی“۔
”لیکن بات سوچنے کی ہے کہ دادا کے دماغ میں اب تک سکھ قوم کے بارے میں نفرت ہے یا وہ یونہی بہانہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا۔ اگر نفرت والی کوئی بات ہوتی تو وہ ہمیں لاہور میں خوش آمدید نہ کہتے، اپنے ہاں مہمان نہ رکھتے، اگر مجبوری میں رکھنا ہی پڑ جاتا تو وہ ہمیں پذیرائی نہ دیتے۔ میں نہیں مانتا، ان کا صرف بہانہ ہے“۔ بھان سنگھ نے کہا۔
”ممکن ہے ایسا ہی ہو، بہر حال انہوں نے مجھے دیوار سے لگا دیا ہے، اب میں ان سے بات نہیں کرسکتا“۔ میں نے پیغام بھیج دیا۔
”چلو، اس کہانی کو یہاں ختم کرتے ہیں“۔ پریت کور نے کہا۔
”ہاں….! کون سی ایسی بات ہے کہ یہ رشتہ نہیں ہوا تو دو ملکوں کے تعلقات پر کوئی حرف آجائے گا۔ کسی حد تک ان کی بات بھی ٹھیک ہے“۔ زویا نے دلیل دی۔
”ویسے اگر یہ ہو جاتا تو ہماری دوستی مزید مضبوط ہو جاتی ہے“۔ بھان سنگھ نے افسردہ سا جملہ بھیجا۔
”اب کون سا ٹوٹ رہی ہے، واہ گرو مہر کرے، خیر ہو سب کی، کاروبار کا آغاز کررہے ہو، اپنی توجہ اس پر لگاؤ، دنوں میں ترقی کرکے دکھاؤ“۔ پریت کور نے کہا۔
”وہ تو سب ٹھیک ہے، تم لوگ شادی کب کررہے ہو؟“ زویا نے جان بوجھ کر بات کو پلٹتے ہوئے موضوع بدل دیا۔
”جب بھی بلال یہ محسوس کرے کہ وہ جھتوال آسکتا ہے، گھر کی بات ہے، شادی رکھ لیں گے“۔ بھان سنگھنے جلدی سے کہا۔
”ویسے میرا خیال کچھ اور کہتا ہے؟“ پریت کور نے پیغام بھیجا۔
”وہ کیا!“ آگے پیچھے ہم تینوں ہی کا سوال تھا۔
”میری اور بھان کی شادی تب ہو، جب زویا بھی جھتوال آسکے تو سمجھو ہماری خوشی دوبالا ہو گئی“۔
”تمہارا یہ خیال تو بہت خوبصورت ہے“۔ زویا نے کہا۔
”پریتوچَسّ آجائے یار“۔ بھان نے کہا تو میں نے لکھا۔
”پھر شاید میرے ساتھ دادا نہ آسکیں…. جبکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ انہیں جھتوال ضرورلے کر جانا ہے۔ خیر….! دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے“۔
”تم اس وقت سو جاﺅ اور کل مجھ سے ملنا۔ مجھے اس وقت لگ رہا ہے کہ تم شاید ڈپریشن میں ہو“۔ زویا نے کہا تو ان دونوں نے بھی تائید کر دی۔ پھر کچھ ہی دیر بعد آف لائن ہو گئے اور میں سو نے کی کوشش کرنے لگا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ مجھے شدید ڈپریشن ہو گیا تھا۔
وہ دوسرے دن کی شام تھی۔ میں گھر واپس آیا تو دادا جی کے ساتھ ماما اور پاپا لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دنوں فرحانہ اپنے کالج ٹور پر گئی ہوئی تھی میں فیکٹری سائیٹ سے آیا تھا اور کافی تھکا ہوا تھا۔ تاہم انہیں سلام کرنے تو جانا تھا ۔میں نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور ان کے پاس چلا گیا۔ انہیں سلام کیا اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
”کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو؟“ ماما نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”ماما، سائیٹ پر کام ہو رہا ہے نا، سارا دن ان کے ساتھ لگارہا“۔ میں نے آہستگی سے کہا۔
”تیری حالت سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے تم ان کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے رہے ہو“۔ دادا جی نے ہنستے ہوئے کہا۔
”نہیں دادا جی، میں نے اینٹیں کیا ڈھونی ہیں، فیکٹری کی بنیادیں ہیں، اس پر توجہ دینا پڑتی ہے، آپ کو تو معلوم ہے“۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔
”اچھا، وہ ٹھیک ہے، تم جاؤ، جا کر تیار ہو جاؤ، شاہ صاحب اور مسز شاہ آج یہاں آرہے ہیں“۔
دادا جی نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو ماما بھی خوشی سے لبریز لہجے میں بولیں۔
”اور تمہارے لیے خوشخبری یہ ہے کہ وہ آج تمہاری اور زویا کی بات کرنے آرہے ہیں۔ میں تو اسی ہفتے منگنی کر دوں گی۔ پھر شادی میں تودیر ہی نہیں لگانی“۔
ایک دم سے خوشی کی لہر میرے اندر سرایت کر گئی۔ کس قدر آسان ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ سلسلہ جسے میں بہت مشکل تصور کررہا تھا۔ انہی لمحوں میں اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح چمکا۔ میں نے اس پر چند لمحے سوچا اور پھر رسک لے لیا۔
”ماما….! شاہ صاحب آئیں، مسز شاہ آئیں، آپ انہیں بہت اچھے طریقے سے خوش آمدید کہیں، انہیں بہت عزت اور مان دیں، لیکن میری شادی کی بات مت کیجئے گا“۔
”یہ کیا کہہ رہے ہو تم….“ پاپا نے حیرت بھرے انداز میں یوں میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،جیسے انہیں میری دماغی حالت پر شک ہو گیا۔ ماما اور داداجی بھی کچھ ایسی ہی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔
”میں نے وہی کہا ہے، جو آپ سن رہے ہیں۔ مجھے زویا سے شادی نہیں کرنی، پلیز“۔ میں نے سکون سے کہا اور اٹھ گیا۔ تبھی دادا نے تڑپ کر کہا۔
”اوئے ادھر بیٹھ….! بیٹھ ادھر….“ ان کے لہجے میں کافی حد تک سختی تھی۔ میں بیٹھ گیا تو انہوں نے سختی ہی سے پوچھا۔ ”اوئے تیرے لیے، نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیل کر شاہ صاحب کو منایا اور انہیں اس سطح پر لے آئیں ہیں کہ وہ زویا بیٹی کو ہمارے گھر کی بہو بنادیں، اب جبکہ وہ راضی ہو گئے ہیں تو تم یہ کیا احمق پن دکھا رہے ہو؟ ہوا کیا ہے تمہیں؟“
”دادا جی….! مجھے سمجھ آگئی ہے، میں غیر ذات کی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا۔ اپنی ذات برادری میں ہی کروں گا۔ اس لیے میں انکار کر رہا ہوں“۔ میں نے پھر اسی سکون ہی سے جواب دیا تووہ تینوں یوں خاموش ہو گئے جیسے چند لمحوں کے لیے وہ لاجواب ہو گئے ہوں۔ کچھ دیر بعد پاپا نے پوچھا۔
”یہ ٹھیک نہیں بیٹا….! اب جبکہ معاملہ طے ہو جانا ہے، ایسے لمحات میں تمہارا انکار…. جو بات ہے وہ مجھے کھل کر بتاؤ، مسئلہ کیا ہے؟“
”پاپا، آپ پریشان نہ ہوں، میں زویا کو سمجھا لوں گا، وہ خود انکار کر دے گی تو شاہ صاحب اتنا محسوس نہیں کریں گے…. آپ بھی آج ان سے کوئی بات مت کیجئے گا“۔ میں نے کہا اور اٹھ گیا۔ مجھے یہ اچھی طرح علم تھا کہ دادا جی مجھ سے پوچھنے ضرور میرے پاس آئیں گے۔
میں اس وقت فریش ہو کر اپنے بیڈپر تھا کہ دادا میرے کمرے میں آگئے۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، بلکہ خاموشی سے آ کر صوفے پر بیٹھ گئے اور میری طرف غور سے دیکھنے لگے۔ میں ان کی آمد پر اٹھ کر بیٹھ گیا مگر خاموش رہا۔ کچھ دیر یونہی گزر گئی تو دادا نے میری طرف دیکھ کر کہا۔
”بلال ….! تم خواہ مخواہ کی ضد کر کے میرا دل دکھا رہے ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ تم اپنی بے جا ضد منوانے کے لیے اس حد تک چلے جاؤ گے“۔
”دیکھیں دادا جی، یہ میرا اور میری زندگی کا فیصلہ ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے غیر برادری میں شادی کرلی“۔ میں نے بڑے سکون سے کہا تو دادا تلملا کر بولے۔
”لو….“ یہ کہتے ہوئے اچانک وہ سوچ میں پڑ گئے، انہیں میری دلیل یاد آگئی۔ انہوں نے تو ہی کہنا تھا کہ لوگ کون ہوتے ہیں ہمارے معاملات میں دخل دینے والے…. اور یہی بات میں انہیں سمجھاناچاہ رہا تھا۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتے رہے اور بولے۔ ”اب اگر میں یہ کہوں گا کہ زویا تمہاری محبت ہے تو پھر وہی بات مجھ پر لوٹادو گے۔ نہیں پتر….! ایسے مت کرو، اب جبکہ ہر بات طے ہو چکی ہے تو کم از کم زویا کو اپنی بے جا ضد کی بھینٹ مت چڑھاؤ“۔
”وہ تو میں نے فیصلہ کر لیا ہے دادا جی، میں اب غیر برادری میں، غیر ذات میں شادی نہیں کروں گا۔ظاہر ہے وہ سید ہے، وہ آرائیں نہیں ہو سکتی اور میں آ رائیں ہوں، میں سید نہیں ہو سکتا“۔ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔
”اسلام میں یہ ذات برادری، کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ سب برابر ہیں، صرف فوقیت اس کو حاصل ہے۔ جومتقی ہے۔ کسی کالے کو گورے اور کسی گورے کو کالے پر یا عربی عجمی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے“۔ انہوں نے پیار سے کہا۔
”دادا جی، یہ متقی ہونا کیا ہوتا ہے، یہ صرف سوچنے کی حد تک بات ہے یا اس کا کوئی عملی پہلو بھی ہے“۔ میں نے پوچھا تو وہ چند لمحے سوچ کر بولے۔
”ظاہر ہے پتر، باکردار اور باعمل انسان بھی متقی ہوتا ہے بعض اس کا تقوی اس کے کردار سے ظاہر ہو“۔
”یعنی یہ انسان کاکردار ہی ہے، جس کی و جہ سے وہ دوسروں پر مثبت یا منفی اثر ڈال سکتا ہے“۔ میں نے پوچھا۔
’تم جو کہنا چاہتے ہو، وہ کہو“۔ دادا نے میری طرف دیکھتے ہوئے صاف لہجے میں کہا۔
”دادا جی ….! متقی میرے خیال میں وہ ہوتا ہے ، جو اپنا ویسا کردار بنا لے جو اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے۔ ویسا کردار بن گیا تو یہی کردار خود دوسروں کو متاثر کرتا ہے اور دوسرے ویسا ہی کردار بنانے کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔ اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تفاد ہے۔ ہم متقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن منافقت کی انتہا پر ہوتے ہیں ۔ نماز پڑھ کر آتے ہیں اور آ کر ملاوٹ والی چیزیں بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر ہم سے کسی نے متاثر کیا ہونا، ہم اپنے مقصد کے لیے اسلام کے ان اصولوں کو اپنا لیتے ہیں جن سے ہم کو فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ لہٰذا….! ان باتوں کو چھوڑیں اور وہی کریں جو ہمارا ماحول اور ہمارا یہ معاشرہ بتا رہا ہے“۔ میں نے تلخی سے کہا تو دادا جی اچانک بولے۔
”اچھا، اب تم یہ بتاؤ، کہ تمہارا فیصلہ حتمی ہے؟“
”جی“۔ میں نے دل کڑا کرتے ہوے کہا تو وہ اٹھ گئے۔ پھر بغیر کچھ کہے باہر نکل گئے۔
ایک لمحے کے لیے میرے دل میں آیا کہ میں زویا کو اعتماد میں لے لوں۔ اسے بتا دوں کہ میں یہ کس لیے کر رہا ہوں۔ کہیں وہ کچھ اور ہی نہ سوچنے لگ جائے۔ میں نے فون اٹھایا اور اسے کال کرنے لگا، پھر ایک دم سے خیال آیا کہ نہیں، میں نہیں کروں گا اسے کال، اسے میری ذات پر اعتماد ہونا چاہئے کہ میں اس کے بغیر کسی اور کو نہیں سوچ سکتا، میں اس کا ردعمل دیکھوں، وہ کیا چاہتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ جو بھی حالات ہوں گے، میں انہیں دیکھوں گا۔ ان کا سامنا کروں گا۔

جاری ہے
*********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں