The news is by your side.

Advertisement

سوانح عمری اور آپ بیتی لکھنے کا فن

اردو ادب میں سوانح عمری لکھنے کی روایت پرانی ہے۔ حالی کی یادگارِ غالب، حیاتِ جاوید، شبلی نعمانی کی سیرۃُ النّبی، الفاروق، المامون، النّعمان ،الغزالی، سوانح مولانا روم، مولانا سیّد سلیمان ندوی کی حیاتِ شبلی ، سیرتِ عائشہ سوانحی حالات و کوائف سے بھری ہوئی مکمل سیرتیں ہیں۔

ناقدوں کی رائے ہے کہ خود نوشت سوانح حیات انسانی زندگی کی وہ روداد ہے، جسے وہ خود رقم کرتا ہے اور اس میں سوانح حیات کی کسی دوسری شکل سے زیادہ سچائی ہونا چاہیے، اگر کوئی کسر رہ جائے یا مبالغہ در آئے تو وہ اچھی خود نوشت قرار نہیں پاتی۔

خود نوشت سوانح کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ صرف ناموں کی کتھونی نہ ہو، اس میں تاریخ، سماج اور ادب کی آمیزش بھی نظر آئے، حقیقت دل کش پیرایہ میں بیان ہو، فنِ اظہار ذات کا دوسرا نام ہے، خود نوشت کا تعلق انسان کے گہرے داخلی جذبات سے ہے۔

لہٰذا اسے فن کی اعلیٰ قدروں کا حامل ہونا چاہیے، اسی لیے خود نوشت لکھنا سوانح لکھنے سے زیادہ مشکل فن مانا جاتا ہے۔ ایک معیاری خود نوشت کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف کسی فرد کے بارے میں بیان نہ کرے، اس کے ماحول، عہد، اس دور کے رجحانات و میلانات اور معاشرتی، معاشی، ادبی اور تہذیبی پہلوؤں کو بھی سامنے لائے تاکہ اس عہد کا پورا منظر نامہ سامنے آ جائے جس میں شخص مذکور نے اپنی زندگی گزاری اور اس کی شخصیت تشکیل پائی، اس کے برعکس خود پر توجہ مرکوز کرنے سے بات نہیں بنتی، خود نوشت نگاری کا یہ بڑا نازک مقام ہوتا ہے کہ کوئی فرد اپنی شخصیت کو خود سے جدا کر کے معروضیت سے کام لے اور بے لاگ پیرایہ میں اپنی زندگی کی داستان بیان کر دے۔

یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں خود نوشت یا آپ بیتیاں کم سپردِ قلم کی گئیں اور جو لکھی گئیں ان میں سے بیشتر مذکورہ شرائط پر پوری نہیں اترتیں۔ اردو سے پہلے فارسی میں آپ بیتی کی روایت موجود تھی۔ بادشاہوں کے حالاتِ زندگی اور صوفیائے کرام کے ملفوظات میں آپ بیتی کے ابتدائی نقوش مل جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ شیخ حزیں، میر تقی میر نے بھی فارسی میں آپ بیتی لکھی ہے۔ لیکن اردو میں آپ بیتی کے فن کو 1857ء کے خونی انقلاب کے بعد فروغ ملا۔ جب اس معرکہ کے مجاہدوں اور سپاہیوں نے اپنی یادداشتیں لکھیں، ان کے علاوہ جعفر تھانیسری کی آپ بیتی ‘تواریخِ عجیب’ (کالا پانی)، نواب صدیق حسن خاں کی ‘البقاء لمن بالقا المحن’، ظہیر دہلوی کی ‘داستانِ غدر’ اور عبدالغفور نساخ کی ‘حیات نساخ’ سپردِ قلم کی گئیں۔ جن میں ‘حیات نساخ ‘ کو اردو ادب کی پہلی آپ بیتی تسلیم کیا جاتا ہے۔

آزادی کے بعد حسرت موہانی کی ‘قیدِ فرنگ’ مولانا ابوالکلام آزاد کی ‘تذکرہ’ دیوان سنگھ مفتون کی ‘ناقابلِ فراموش’ معیاری خود نوشتوں میں شمار کرنے کے لائق ہیں۔

‘کاروانِ زندگی’ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی خود نوشت کئی جلدوں پر محیط اور اپنے پورے عہد کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ ‘کاروانِ حیات’ قاضی اطہر مبارکپوری کی خود نوشت مختصر اور کتابی شکل میں غیر مطبوعہ ہے جو ماہنامہ ‘ضیاء الاسلام’ میں شائع ہوئی ہے۔ خواجہ حسن کی نظامی کی ‘آپ بیتی’، چودھری فضلِ حق کی ‘میرا افسانہ، بیگم انیس قدوائی کی ‘نیرنگیٔ بخت’، مولانا حسین احمد مدنی کی ‘نقشِ حیات’، رضا علی کی ‘اعمال نامہ’، کلیم الدین احمد کی ‘اپنی تلاش میں’، یوسف حسین خاں کی ‘یادوں کی دنیا’ بھی قابلِ ذکر خود نوشتیں ہیں۔

رشید احمد صدیقی کے باغ و بہار قلم نے ‘آشفتہ بیانی میری’ میں بچپن کے حالات، ابتدائی تعلیم، خاندان کی معلومات تو کم لکھیں، اپنے وطن جونپور کی تاریخ و تہذیب پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کا نصف سے زیادہ حصہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے زمانۂ تعلیم کی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین، اقبال سہیل، ثاقب صدیقی جیسی شخصیات سے ان کے رشتہ پر روشنی پڑتی ہے۔

ان کے علاوہ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی ‘یادوں کا جشن’ میں ان کے خاندانی احوال، فارغ البالی، رئیسانہ مشاغل کا تفصیلی بیان ہے۔ وزیر آغاز کی ‘شام کی منڈیر سے’ ان کی نجی زندگی کے ساتھ پورے عہد کے اہم واقعات پر محیط ہے۔ رفعت سروش کی ‘ممبئی کی بزم آرائیاں’ میں ان کی زندگی، نوکری اور ترقی پسند تحریک کے حوالے کافی معلومات فراہم کی گئی ہے۔ اخترُ الایمان کی ‘اس آباد خرابے میں’ زندگی کے واقعات و مسائل کے بیان میں جس صداقت سے کام لیا گیا ہے وہ کم خود نوشتوں میں ملتا ہے۔

(عارف عزیز کے مضمون سے چند پارے، مصنّف کا تعلق بھارت کے شہر بھوپال سے ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں