تحریر: صاحبزادہ سید محمد حسنین سعیدی فیضوی الباقری
تصوف کی تاریخ میں کچھ ہستیاں ایسی گزری ہیں جن کے وجود سے زمانے روشن ہوئے، جن کے لمس سے مردہ دلوں میں زندگی آئی، اور جن کی نگاہِ کرم نے گمشدہ روحوں کو ان کی اصل سے آشنا کیا۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک عظیم نام حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کا ہے، جنہوں نے امام علی رضا کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کرکے ولایت کے اس سمندر میں قدم رکھا جہاں سے بے شمار دریا پھوٹے۔
روایت ہے کہ ایک روز آپ ایک یتیم بچے کو ساتھ لے کر ایک دکان پر تشریف لے گئے جہاں پرانے اور ٹوٹے پھوٹے سامان کی خرید و فروخت ہوتی تھی—یعنی ایک کباڑیہ (عربی میں “سقطی”) کی دکان۔ بظاہر یہ ایک معمولی جگہ تھی، مگر حقیقت میں یہی مقام ایک روحانی انقلاب کا نقطۂ آغاز بنا۔ اس دکان کا مالک کوئی عام کباڑیہ نہ تھا، بلکہ وہی ہستی تھی جو آگے چل کر حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے معروف ہوئی۔
حضرت معروف کرخیؒ نے فرمایا: “اس بچّے کو اچھا لباس پہنا دو۔” لباس تو دے دیا گیا، مگر اس ایک نظر نے دکان دار کے باطن کو بدل کر رکھ دیا۔ وہ جو ٹوٹے ہوئے سامان کو سنوارنے کا ہنر رکھتا تھا، خود ایک نگاہِ کامل کے ذریعے سنور گیا، اور یوں کباڑیہ سے دلوں کا مرمت کار بن گیا—ایک ایسا سقطی، جو آگے چل کر روحانیت کے آسمان پر روشن ستارہ ثابت ہوا۔
یہی ہستی آگے چل کر حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ کے مرشدِ کامل بنے جو سلسلہ جنیدیہ کے بانی ہیں اور جو بعد میں حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ کی نسبت سے سلسلہ قادریہ کے نام سے مشہور ہوا۔
سقطیؒ کا ظاہر ایک کباڑیہ کا تھا—ٹوٹا پھوٹا سامان خریدنا، اسے سنوارنا، پھر قابلِ استعمال بنانا۔ مگر باطن میں وہ دلوں کے معمار تھے۔ وہ شکستہ دلوں کو جوڑتے، ویران روحوں کو آباد کرتے، اور مردہ قلوب کو ذکرِ الٰہی سے زندہ کرتے تھے۔ ان کی دکان صرف سامان کی نہیں تھی، بلکہ انسانیت کی مرمت گاہ تھی۔
میرے مرشد پیر سید حاجی محمد سعید فیضوی رحمتہ اللہ علیہ کی ہر مجلس میں حضرت معروف کرخیؒ اور حضرت سری سقطیؒ کا ذکر گویا ایک لازمی جزو تھا۔ یہ ذکر محض تاریخ نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ فیض تھا، ایک روحانی تسلسل، جو آج بھی جاری ہے۔
قارئین! آج کا دور ایک عجیب اضطراب کا شکار ہے۔ انسان بظاہر ترقی یافتہ ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا۔ دل زنگ آلود، روحیں پژمردہ، اور خیالات انتشار کا شکار ہیں۔ ہر طرف ایک خاموش چیخ سنائی دیتی ہے—ایک ایسی صدا جو کسی سقطی کو پکار رہی ہے، کسی ایسے مرمت کرنے والے کو جو دلوں کو چمکا دے، زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
ایسے ہی دور میں بعض شخصیات اللہ کی طرف سے بطورِ رحمت بھیجی جاتی ہیں، جو بغیر دعویٰ کے، بغیر شور کے، خاموشی سے دلوں کی اصلاح میں لگ جاتی ہیں۔ میرے نزدیک موجودہ زمانے میں اگر کوئی اس سقطیانہ فیض کا مظہر نظر آتا ہے تو وہ ڈاکٹر محمد جاوید احمد ہیں۔
ان کی ذات ایک عجیب امتزاج کا نمونہ ہے—علم اور حال کا، حکمت اور محبت کا۔ سورۂ رحمٰن کے ذریعے علاج ان کا ایک پہلو ہے، مگر اصل کمال ان کی “مرمتِ ارواح” ہے۔ ان کے پاس وہ لوگ آتے ہیں جو دنیا سے ٹھکرائے گئے، جن کے مرشد پردہ فرما چکے، یا جنہیں کہیں قبولیت نہیں ملی۔ مگر یہاں آ کر وہ خود کو پھر سے جُڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب گویا ایک روحانی کاریگر ہیں—وہ دلوں کے زنگ کو اتارتے ہیں، روحوں کی دھند کو صاف کرتے ہیں، اور انسان کو اس کی اصل، اس کے “الٰہ” سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں آنے والا صرف ٹھیک نہیں ہوتا، بلکہ ایک نئی روشنی لے کر جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں “سقطیِ زماں” کہنا محض ایک لقب نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ جیسے حضرت سری سقطیؒ نے اپنے وقت میں دلوں کو جوڑا، ویسے ہی آج ڈاکٹر محمد جاوید احمد ٹوٹے ہوئے انسانوں کو سنوار رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ دنیا آج بھی خالی نہیں— ہر دور میں کوئی نہ کوئی سقطی ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی مرمت گرِ دل ہوتا ہے، جو خاموشی سے اللہ کے کام میں لگا رہتا ہے۔ اور شاید یہی لوگ اصل میں زمانے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


