پانچویں کلاس میں میرا ایک ہم جماعت تھا جس کو مستقل اور بے جا بولنے کی عادت تھی۔ ہمارے ریاضی کے استاد کو اس بات سے شدید چڑ تھی کہ ان کی کلاس میں بلاضرورت کوئی بچہ زبان ہلائے۔ ایک روز انہوں نے سب کے سامنے اس عادت کو میرے ہم جماعت کے "بولنے کا مرض” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو اس کا علاج ممکن نہیں، البتہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ شادی کے بعد تمہاری بیوی تمہاری بولتی بند کرنے میں کام یاب ہو جائے۔
جب میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے زمانے کے تھپیڑے کھانے نکلا، تو علم ہوا کہ ریاضی کے وہ استاد کتنے بڑے نباض تھے۔ آدھے سے زیادہ پاکستان اسی مرض میں مبتلا ہے اور جیسے جیسے انسانی زندگی میں جدت آ رہی ہے، پاکستانیوں کے اس مرض کی شدت اور مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ چوبیس گھنٹے مشورہ دینا، بلکہ سامنے والے کے حلق میں مشورہ ٹھونسنا کب ہمارے نصاب کا حصہ بنا، ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ اب یہ عالم ہے کہ ہر مرد و زن انہی اقسام کے فروعی علوم پر "جامعہ واٹس ایپ، جامعہ یوٹیوب یا پھر کالج آف فیس بک” کا سند یافتہ ہے۔
فارغ گھومتے پھرتے جہاں چار لوگوں کو جمع دیکھنا، وہیں مشوروں کی دکان سجا لینا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ آپ کبھی آزما کر دیکھ لیں، کہیں سڑک پر دو کاروں میں معمولی ٹکر ہو جائے اور ان کاروں کے مالکان نیچے اتر کر شرافت کے ساتھ اور ایک دوسرے سے تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کر رہے ہوں، وہاں تین چار سڑک چھاپ دانشور فوراً ہی اپنا راگ الاپنا شروع کر دیں گے۔ ایک صاحب بنا پوچھے نقصان کا تخمینہ لگانے بیٹھ جائیں گے، اور وہیں دوسرے صاحب جس کو کمزور سمجھیں گے، اس پر غلطی کا سارا ملبا ڈال دیں گے اور تیسرا سستا فلسفی فوراً ہی حرام کی کمائی یا باپ کے پیسے پر عیاشی کا خطبہ شروع کر دے گا۔
آپ کسی ڈھابے یا ہوٹل پر چائے پراٹھا آرڈر کریں اور وقت کی کمی کے باعث پراٹھے کو رول بنا کر کھانا شروع کر دیں، تو یقین مانیں کسی نہ کسی کونے سے "روٹی کو دانتوں سے کاٹ کر کھانے کی ممانعت کا فتویٰ” آوے ہی آوے۔ گلی محلّے میں اگر دو پڑوسیوں کی لڑائی ہو جائے تو ایک آواز آپ لازماً سنیں گے، "کیا لڑائی جھگڑا لگا رکھا ہے، یہ شریفوں کا محلہ ہے بھئی!” اور آپ یقین مانیں، اکثر و بیشتر یہ آواز اس آدمی کی ہوتی ہے جس کے سامنے سے گزرتے وقت خواجہ سرا بھی حیا سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کر لیتے ہیں۔
اس کے بعد باری آتی ہے اس "حرام کے فتوے” کی، جو ہر خاص و عام زبان کی نوک پر لیے پھرتا ہے اور ہر راہ چلتے انسان کو تیر کی طرح چبھونے سے باز نہیں آتا۔ گناہ و ثواب کا ایک ڈیجیٹل کیلکولیٹر ہم ہر وقت جیب میں لیے پھر رہے ہیں۔ آپ نے فی منٹ کتنے گناہ کیے اور آپ کس درجے کے جہنمی ہیں، اس کا مفت حساب آپ کو چلتے پھرتے کسی بھی سڑک چھاپ عالم سے باآسانی مل سکتا ہے۔
باقی رہا کم تولنا، گلا سڑا سامان بیچ کر مکر جانا، پھلوں اور سبزیوں کو گٹر کے پانی سے اگانا، یا جیسا کہ ہم سنتے ہیں تربوز اور خربوزوں کو کوئی خاص انجیکشن لگا کر میٹھا کرنا، تو ان جیسے جرائم کی ہمیں قومی سطح پر کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ لگتا ہے ہم نے یہ مان لیا ہے کہ ان چھوٹے موٹے معاملات پر نہ دنیا میں کوئی حساب ہوگا اور نہ آخرت میں۔ بس زبان چلتی رہنی چاہیے، فتوے بٹتے رہنے چاہییں اور مشوروں کی دکان چمکتی رہنی چاہیے۔


