The news is by your side.

Advertisement

کالا پانی اور اردو ادب کے مشہور زنداں‌ نامے!

برطانوی راج اور انگریزوں کے ہندوستان پر تسلط کے خلاف تحاریک اور قلم کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کا پرچار کرنے کی پاداش میں اس زمانے کی کئی اہم اور نابغۂ روزگار شخصیات نے قید و بند کا بھی سامنا کیا اور اس کی روداد رقم کی۔

اردو ادب میں اس دور میں لکھے گئے متعدد زنداں نامے مشہور ہیں۔ قید و بند کی یہ داستانیں نہ صرف دل کش اور پُرلطف ہیں بلکہ یہ سامانِ عبرت بھی ہیں۔ ایسی ہی چند مشہور اور لائقِ مطالعہ کتب کا یہ تذکرہ آپ کی توجہ اور دل چسپی کا باعث بنے گا۔

اردو ادب کا ادنیٰ قاری بھی ‘‘کالا پانی’’ سے ضرور واقف ہو گا جہاں انگریز دور کے باغیوں اور مخالفین کو سزا کے طور پر بھیج دیا جاتا تھا۔ اس موضوع پر پہلی کتاب مولانا محمد جعفر تھانیسری نے لکھی تھی۔ اس کا نام ہی کالا پانی تھا۔ یہ کتاب انھوں نے 1885 میں لکھی تھی۔ وہ فرنگی اقتدار کے خلاف لڑی گئی جنگ کا ایک اہم کردار بھی تھے۔ انھوں نے اس کتاب میں انگریز کے جبرو استبداد کی داستان رقم کی ہے اور مجاہدینِ حرّیت اور آزادی کے لیے قربانیوں کا نقشہ کھینچا ہے۔

اس زمانے میں کالا پانی خوف ناک اور بدترین مقام کے طور پر مشہور تھا اور اسی نام سے زیادہ تر کتب مشہور ہیں۔

ہندو مہا سبھائی لیڈر بھائی پر مانند نے بھی جزیرہ انڈمان میں قید و بند کے حالات اسی نام سے رقم کیے ہیں۔ اس کتاب میں بھی فرنگی دور کے مظالم اور ہندوستانی قیادت کی تحریک اور قربانیوں کے تذکرے پڑھنے کو ملتے ہیں۔

مولانا حسرت موہانی ایک باکمال نثر نگار، شاعر اور جید صحافی اور ہندوستان میں اس دور کا ایک متحرک نام بھی ہے جنھوں نے 1908 میں الہٰ آباد جیل میں اپنے شب و روز کی وارداتوں کو رہائی کے بعد رقم کیا۔ ان کی کتاب ‘‘مشاہداتِ زنداں’’ کے نام سے سامنے آئی۔

مولانا محمود حسن دیو بندی کو گرفتار کر کے انگریزوں نے جزیرہ مالٹا میں قید کیا تو وہاں ان کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی بھی موجود تھے۔ انھوں نے‘‘سفرنامۂ اسیرِ مالٹا’’ کے عنوان سے قید کی مصیبت اور آفات کو تحریری شکل دی۔ اسے بھی اردو ادب کا اہم زنداں نامہ شمار کیا جاتا ہے۔

زعیم الاحرار چوہدری افضل حق نے اپنی آپ بیتی ‘‘میرا افسانہ’’ کے نام سے لکھی ہے جس میں جیل سے متعلق تاثرات بھی ناقابلِ فراموش اور عبرت ناک ہیں۔ اس کے علاوہ انہی کی ایک اور کتاب ‘‘دنیا میں دوزخ’’ بھی جیل سے متعلق ہے۔

ممتاز صحافی اور طنز نگار ابراہیم جلیس نے قیامِ پاکستان کے ابتدائی زمانے میں کراچی سینٹرل جیل میں اسیری کاٹی۔ اس کی روداد انھوں نے ‘‘جیل کے دن اور جیل کی راتیں’’ کے عنوان سے رقم کی ہے۔
اسی طرح حمید اختر کی ‘‘کال کوٹھڑی’’ اور عنایت اللہ کی کتاب ‘‘اس بستی میں’’ اسیری کے دنوں کے مشاہدات پر مبنی ہیں۔

معروف شاعر اور لازوال گیتوں کے خالق ریاض الرحمٰن ساغر نے اسیری سے متعلق کتاب ‘‘سرکاری مہمان خانہ’’ لکھی۔

مجلسِ احرارِ اسلام کے آغا شورش کاشمیری جنگِ آزادی کے جیالوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ زندگی کے مختلف ادوار میں پسِ زنداں رہے۔ اسی قید کی روداد ‘‘پسِ دیوار زنداں’’ کے نام سے ان کےبلاشبہ ایک وقیع اور باوقار کتاب ہے جسے پوری دل چسپی کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔

پروفیسر خورشید احمد کی کتاب ‘‘تذکرۂ زنداں’’ ایک دل چسپ اور پُر لطف کاوش ہے جو قید و بند سے متعلق ہے۔

نعیم صدیقی کی ‘‘جیل کی ڈائری’’ دل کش اور دل آویز ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں