The news is by your side.

Advertisement

مقام و مرتبہ گر چاہیے تو!

دنیا بھر میں مشہور دانا اور مفکّر ارسطو سے یہ قول منسوب ہے کہ’’اگر تم عظیم بننا چاہتے ہو تو اپنی فرصت کے اوقات ضائع نہ کرو۔‘‘

جدید دور میں جہاں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ویڈیو، آڈیو اور تحریری مواد کی شکل میں بہت سی معلومات کا حصول ہر عمر کے طلبا یا نوجوانوں کے لیے آسان ہوگیا ہے اور انھیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے مواقع حاصل ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد فرصت کے اوقات بھی ضایع نہیں کرنا چاہتی جو کہ بہت اچھی بات ہے اور کتابیں بھی ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

بدقسمتی سے کتاب کلچر کو کچھ دہائیوں کے دوران خاصا نقصان پہنچا ہے اور نئی کتب کی طباعت و اشاعت کے مسائل کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ گم ہوتا ہوا قاری ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور دانش ور یہ اصرار کرتے رہے ہیں کہ طلبہ اور نوجوانوں کے کردار کی تشکیل و تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنی تاریخ، تہذیب و تمدن، ملّی ورثے، مذہبی اقدار اور جدید علوم سے آشنا کیا جائے جس کے لیے جدید علوم سے متعلق نئی کتابوں کا ذخیرہ بھی درکار ہے اور فی الوقت اس جانب کوئی توجہ نہیں‌ دی جارہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور صاحب ثروت طبقہ مل کر ایسے ادارے قائم کریں جن میں پرانی کتابوں سے معلومات یکجا کرنے کے ساتھ دور جدید کے علوم کی کتابوں کا ترجمہ کیا جائے اور ان کی اشاعت یقینی بنائے جائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ اہم کتب خانوں کو ایسی کتابیں مفت تقسیم کی جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ملکی اور ثقافتی تاریخ سے متعلق اتنی کتابیں دستیاب نہیں ہیں، جتنی کہ ضرورت ہے اور جب طلبہ اور نوجوان اپنے مذہب اور ملکی و ثقافتی تاریخ سے پوری طرح واقف نہیں ہوں گے اور اپنے اسلاف کے کارناموں اور اوصاف کا علم نہیں ہوسکے گا تو قوم و ملک کا درست سمت میں سفر بھی ممکن نہیں ہو گا۔

اس حوالے سے ملک کے دانش وروں، ماہرین تعلیم اور صاحبانِ علم و فضل کی مدد لے کر حکومت تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کرسکتی ہے۔ اس طرح ہمارے طلبہ اور نوجوان نسل تک وہ کتابیں پہنچا کر ان کے فرصت کے اوقات کو فضول مشاغل کی نذر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

لو، جان بیچ کر بھی جو علم و ہنر ملے
جس سے ملے، جہاں سے ملے، جس قدر ملے

(از خدیجہ احمد علی)

Comments

یہ بھی پڑھیں