اردو ادب میں استادی شاگردی کی روایت بہت پرانی ہے۔ غالب کے کئی شاگرد ہوئے جنھوں نے اپنے استاد کی خدمت بھی کی اور ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا۔ غالب کی شخصیت اور ان کے فن پر یادگارِ غالب جیسی کتابیں بھی لکھ گئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھی یہ روایت خوب مضبوط رہی۔ پاکستان میں استاد قمر جلالوی اور راغب مراد آبادی کے علاوہ کئی دوسرے بڑے شعرا کے بھی شاگرد بڑی تعداد میں تھے۔
ابراہیم ذوق کا نام لیں تو ایک افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے جن کے کئی شاگرد ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے اور ذوق جب تک شاہی دربار سے وابستہ رہے، یہ شاگرد ان کا دَم بھرتے رہے، مگر جب ذوق مٹی کا رزق ہوئے تو حالت یہ تھی کہ ان کے مدفن کا نام و نشان مٹنے کو تھا۔ اور کسی شاگرد کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ قبر کے گرد احاطہ ہی بنوا دیتا۔ دوسری جانب مصحفی اور انشاء اللہ خاں انشا کو دیکھیے جن کے درمیان جھگڑا ہوا تو شاگردوں نے تلواریں نکال لی تھیں۔ مشفق خواجہ اردو کے بلند پایہ فکاہیہ نگار، نقّاد اور شاعر گزرے ہیں جن کے طنزیہ اور ظرافت پر مبنی کالم بہت مقبول تھے۔ انھوں نے ادبی موضوعات پر تحقیقی مضامین بھی سپردِ قلم کیے جن میں کئی دل چسپ واقعات بھی پڑنے کو ملتے ہیں۔ ایک کالم میں مشق خواجہ لکھتے ہیں:
پرانے زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ جس طرح کوئی شخص استاد کی جوتیاں سیدھی کیے بغیر بڑھئی یا لوہار نہیں بن سکتا، اسی طرح شاعر بننے کے لیے بھی کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہ کرنا ضروری ہے۔ گویا قلم گھسنا بھی رندہ پھیرنے اور ہتھوڑا چلانے جیسا کام تھا۔
دلّی اور لکھنؤ میں ایک ایک استاد کے سیکڑوں شاگرد تھے، اور پھر فارغ الاصلاح شاگردوں کے بھی شاگرد ہوتے تھے جو اپنے استاد کے استاد کو دادا استاد کہتے تھے۔ اس طرح ہر شاعر کے دو شجرہ ہائے نسب ہوتے تھے جن میں سے ایک کا باپ سے اور دوسرے کا استاد سے تعلق ہوتا تھا۔ باپ والے شجرے کو کوئی نہیں پوچھتا تھا مگر استاد والے شجرۂ نسب کے بغیر مشاعرے میں شرکت کی اجازت نہیں ملتی تھی۔
پرانے استادوں میں مصحفی استاذُ الااساتذہ تھے۔ ان کے شاگردوں، اور پھر شاگردوں کے شاگردوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ جن دنوں وہ لکھنؤ میں مقیم تھے، اس شہر کے آدھے سے زیادہ شاعر انہی کے سلسلۂ سخن سے تعلق رکھتے تھے۔ شہر کے باقی شعرا انشاءُ اللہ خاں انشا کے شاگرد تھے۔ دونوں استادوں میں جب جھگڑا ہوا تو ان کے شاگردوں نے قلم کی جگہ تلواریں سنبھال لیں۔ بعض بااثر لوگوں کے دخل دینے سے بات آگے نہ بڑھی ورنہ اردو ادب کی تاریخ میں ایک باب ”شہیدانِ سخن“ کے عنوان سے کہا جاتا جس میں ان شاعروں کے حالات درج ہوتے جو اس جھگڑے میں کام آتے۔
پرانے زمانے میں بڑے بڑے نوابوں اور امیروں کو بھی شاعری کا شوق تھا کیونکہ اس زمانے میں بٹیر بازی اور مرغ بازی کی طرح شاعری بھی ایک تفریح کا درجہ رکھتی تھی۔ نواب اور امیر عموماً موزوں طبع نہیں ہوتے تھے، اس لیے کسی نامور شاعر کو صیغۂ شاعری میں ملازم رکھ لیتے تھے۔ یہ شاعر استاد کہلاتا تھا جس کا کام اپنے شاگرد یعنی آقائے ولی نعمت کے نام غزلیں لکھنا ہوتا تھا۔ بعض استاد نوکری نہیں کرتے تھے، کھلے بازار میں غزلیں بیچتے تھے۔
مصحفی کے بارے میں مشہور ہے کہ جتنا کلام ان کے نام سے موجود ہے، اس سے کہیں زیادہ انہوں نے فروخت کر دیا تھا۔ اردو کے مشہور شاعر میر سوز نے البتہ دانش مندی سے کام لیا۔ وہ ایک عرصہ تک فرخ آباد میں وہاں کے ایک بڑے عہدے دار مہربان خان رند کے پاس صیغۂ شاعری میں ملازم رہے۔ استاد اور شاگردوں کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں کے دیوانوں میں بہت سی غزلیں مشترک ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ سوز اپنے شاگرد کو جو غزل لکھ کر دیتے، اسے اپنے دیوان میں بھی درج کر لیتے تھے۔
پرانے زمانے میں بڑا شاعر اسے نہیں سمجھا جاتا تھا جس کا کلام سب سے اچھا ہو، بلکہ اسے اچھا شاعر مانا جاتا تھا جس کے شاگردوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔


