نوشیرواں عادل کا زمانہ محققین کے نزدیک ساسانی سلطنت کا ایک روشن زمانہ تھا۔ 531ء سے 579ء تک نوشیرواں نے بادشاہت کی اور عدل و انصاف اور تدبر میں اسے بے مثال کہا جاتا ہے۔ اپنے عہد میں معاشی خوش حالی، فنِ تعمیرات، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں ترقی اور عسکری کام یابیوں کے لیے اس نے خوب انتظامات کیے تھے۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس کے دورِحکومت میں زراعت نے ایسی ترقی کی تھی کہ اس کے علاقے کے کسی خطے میں اگر کوئی بنجر زمین نظر آجاتی تو اس نوشیرواں اس علاقے کے گورنر کو سولی پر چڑھا دیتا تھا۔
اس پس منظر میں ایک قصّہ یہ مشہور ہے کہ ہندوستان کے ایک راجہ نے اپنا قاصد نوشیرواں کے پاس بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ چوں کہ میں صلاحیت میں تم سے بہتر ہوں تو مجھے خراج دو۔ نوشیرواں نے قاصد کو دو دن بعد طلب کیا اور اربابِ سلطنت کو بھی بلایا۔ اس نے ہندوستان کے بادشاہ کے قاصد کے سامنے ایک صندوق رکھ کر اسے کھولنے کا کہا۔ اس صندوق کے اندر ایک چھوٹا صندوقچہ تھا، جب قاصد نے اسے کھولا تو اس میں ایک سرکنڈا موجود تھا۔ یہ دیکھ کر نوشیرواں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا تمھارے علاقے میں یہ سرکنڈا ہوتا ہے؟ قاصد نے فوراً کہا کہ حضور کثرت سے پایا جاتا ہے۔ تب نوشیراں نے اس سے کہا، "اپنے راجہ سے جا کر کہنا کہ اپنے علاقے کو آباد کرے، کیوں کہ یہ سرکنڈے غیرآباد علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ میری حکومت میں اگر یہ سرکنڈا مل جائے تو پھر خراج کی بات کرنا۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


