منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

محلّہ سدھار کمیٹی

اشتہار

حیرت انگیز

بھائیو، بہنو! تھوڑی سی والداؤ اور بہت سے بچّو!

آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ مجھے محلّہ سدھار کمیٹی کی اس سالانہ میٹنگ کا مہمان خصوصی بنا دیا۔ میں مہمان خصوصی بننے سے ہمیشہ بدکتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایک ایسی عزت ہے جو انسان کو غیرفطری بنا دیتی ہے۔ اور اس سے راست گفتاری چھین لیتی ہے۔ مثلاً اب میں اتنا بھی نہیں کہہ سکتا کہ جس کرسی پر بیٹھا ہوں، اس کی ایک ٹانگ ٹوٹنے کے قریب ہے اور میں پورے وقت ایک پہلو بیٹھ کر اپنے آپ کو سنبھالے رہا ہوں۔

حضرات! کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ پورا محلّہ ایک کرسی ہے۔ جس کی ایک ٹانگ ہمیشہ ٹوٹنے کے قریب رہتی ہے اور ہم سب ایک پہلو بیٹھے اپنے آپ کو سنبھالتے رہتے ہیں۔ اس سنبھالنے پر ہمارا کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے وقت کا یہ انتہائی بھونڈا استعمال ہے لیکن ہمیں اپنے محلّے سے چونکہ بے حد محبت ہے، اس لیے محبت کی خاطر ہمیں یہ بھونڈا پن کرنا ہی پڑتا ہے۔ جناب والا! محبت انسان کی سب سے بڑی بدنصیبی ہے، یہ تو ہماری ذہانت ہے کہ ہم نے اس بدنصیبی کو قربانی کا دل فریب نام دے کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیا ہے۔ ورنہ خدا نے تو ہمیں جذبہ محبت عطا کر کے ہمارے ساتھ کافی بڑا دھوکا کیا تھا۔
میں نے ابھی ابھی آپ سب صاحبان بلکہ ’’صاحبات‘‘ تک کی تقریریں سنیں جو محلّہ سدھار کے عظیم مقصد سے کی گئی ہیں۔ ان تقریروں سے ہی مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ محلّہ بگڑے ہوئے انسانوں کا ایک مجموعہ ہے، اس لیے ہمارا سدھار ہونا چاہیے۔ آہ! یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ خود ہی اپنے آپ کو ذلیل انسان کہہ کر ذلیل کریں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل تسلیم کر لینا بہادری ہے۔ اور ہم بہادر لوگ ہیں۔

صاحبان! اگر ایسا ہے تو میں حیران ہوں کہ آپ بہادر انسانوں کا سدھار کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ وقت کا بھونڈا استعمال نہیں ہے کہ آپ پیغمبروں کو نصیحت کریں کہ آپ کے کپڑے میلے ہیں، انہیں دھویا کیجیے، حالانکہ پیغمبر اگر کپڑے نہیں دھوتا تو اس کی کوئی گہری اور فلسفیانہ وجہ ہوگی، جو اسے خود اچھی طرح معلوم ہوگی۔ اس لیے جناب! میری مانیے تو اس محلّہ کا سدھار مت کیجیے، اگر آپ کے کپڑے میلے ہیں تو صابن سے دھو لیجیے صرف صابن کے پراپیگنڈہ کی خاطر اتنے زیادہ لوگوں کو ایک میٹنگ میں اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت ہے!

چند دن ہوئے اس محلہ کے ایک بزرگ آبدیدہ ہو کر کہنے لگے، ’’فکر صاحب! اس محلہ میں چوہوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ مگر کوئی ان کا تدارک کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ میرا خیال ہے کہ وہ چوہوں کی سینہ زوری پر آبدیدہ نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کی آنکھوں میں ککرے تھے۔ ورنہ چوہے تو چوہے دان کے ذریعے بھی آسانی سے پکڑے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم چوہے دان اور صابن کا استعمال نہیں جانتے تو جناب ہمیں خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ ہمیں اگلے جنم میں انسان نہ بنائے بلکہ چوہے بنادے۔ جو کپڑے نہیں پہنتے اور جنہیں صابن کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ چوہوں نے کبھی چوہا سدھار کمیٹی بنائی ہو اور ککروں کی آڑ میں آنسو بہائے ہوں۔ بھائیو اور بہنو! برا نہ مانیے تو میں کہوں گا کہ چوہے ہم سے زیادہ فطری زندگی گزارتے ہیں۔

آپ شاید مجھ پر شک کر رہے ہوں گے کہ میں محلّہ کا سدھار نہیں چاہتا۔ ایسا ہی شبہ مجھ پر اس محلّہ میں بھی کیا گیا تھا جہاں میں دو سال پہلے رہتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے بھائیو! کہ دنیا کے ہر محلّہ میں رات کو بے تحاشا کتّے بھونکتے ہیں جس سے اہل محلّہ پریشان رہتے ہیں۔ ہر محلہ میں ایک جھگڑالو عورت رہتی ہے جو خلل امن کا باعث بنی رہتی ہے۔ ہر محلہ میں دو چار آوارہ گرد نوجوان لڑکے پیدا ہو جاتے ہیں جن سے محلہ کا اخلاق تلوار کی دھار پر رہتا ہے اور ہر محلہ میں پانچ دس ریٹائر بوڑھے بھی ضرور رہتے ہیں جو نصیحتوں کے چراغ اپنے سرہانے جلا کر بیٹھتے رہتے ہیں۔

اور دوستو! یہ سب خداداد نعمتیں ہیں۔ ان سے ہم بچ نہیں سکتے۔

بھائیو اور بہنو! اپنی تقریر ختم کرنے سے پہلے میں آخری گزارش کروں گا کہ اس محلے کے سدھار کے غم کو اتنا گہرا مت بنائیے۔ بلاشبہ آپ اس میں چند سطحی تبدیلیاں لے آئیے مگر کوئی بنیادی تبدیلی لانے کی مصنوعی کوشش نہ کیجیے۔ بیشک آپ چوہوں کو محلہ بدر کرنے کے لیے بلیاں پالنے کا پلان بنائیے، ان کے ساتھ کچھ بلّے بھی لے آئیے گا تاکہ بلیوں کی زندگی ’’ڈل‘‘ نہ ہو جائے، محلّے کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی مشترکہ فنڈ قائم کر لیجیے (فنڈ اتنا کم نہ ہو کہ اس میں غبن کی گنجائش نہ رہے) چوروں کو ڈرانے کے لیے ایک تنخواہ دار پہرے دار بھی رکھیے (پہرے دار سوفی صدی جفاکش اور احمق ہوتا کہ چوروں سے نہ مل جائے) محلہ میں کسی کا انتقال ہو جائے، کسی کا جنم ہو جائے، کسی کی شادی ہو جائے یا کسی کا لڑکا لڑکی بھاگ جائے تو بیشک سب مل کر آنسو بہائیے یا قہقہے لگائیے (اور یہ سب کچھ اس لیے کیجیے کہ آپ سب کے ساتھ بھی یہ سانحہ ہو سکتا ہے۔)

غرض یہ سب کچھ کیجیے، جس کا آپ کے دل سے کوئی گہرا تعلق نہ ہو۔ جناب! میں یہ تھوڑی سی کڑوی بات اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہم اس سے زائد کچھ کر بھی نہیں سکتے، اور نہ ہم میں سے کوئی فرد محلّہ سدھار کمیٹی کو یہ اجازت دے گا کہ اس کے دل اور روح کی سلطنت پر حملہ کر دے۔ کیا آپ محلہ سدھار کمیٹی کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ آپ کو انڈا کھانے کا حکم دے جبکہ آپ ٹماٹر کاٹ کر کھا رہے ہوں۔

اس لیے جناب! ہم ایک محلے میں رہنے کے باوجود الگ الگ انسان ہیں۔ محلہ سدھار کمیٹی اگر ہم الگ الگ انسانوں کو ایک لاٹھی سے ہانکنا چاہتی ہے تو یہ اس کی سنگ دلی ہے بلکہ ایک غیرفطری حرکت ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ نے مجھے خصوصی مہمان کی عزت دے کر غیرفطری باتیں کہنے پر پابند کر دیا۔ آپ کے ماتھے پر اس وقت جو شکن پڑ رہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ میں نے اس پابندی کو کیوں توڑ دیا ہے اور اس کرسی کے ٹوٹنے والے پائے کا ذکر کیوں کر دیا جو شاید لالہ کانشی رام کے گھر سے لائی گئی ہے اور جو آج کل بلیک کے جرم میں جیل میں بند ہیں۔

(اردو کے مشہور مزاح نگار فکر تونسوی کی ایک شگفتہ تحریر سے اقتباسات)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں