The news is by your side.

Advertisement

دیمکوں کی ملکہ سے ایک ملاقات

معروف مزاح نگار مجتبیٰ حسین کے شگفتہ مضمون سے انتخاب

ایک زمانہ تھا جب میرا زیادہ تر وقت لائبریریوں میں گزرتا تھا، لیکن جب میں نے دیکھا کہ کسی نے سچ کہا ہے کہ علم کی دولت آدمی کے پاس ایک بار آجاتی ہے تو پھر کبھی نہیں جاتی۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ اپنے اندر یہ جو علم کا افلاس ہے اسے کسی طرح باہر نکالوں اور اس کی جگہ جہالت کی دولت سے اپنے سارے وجود کو مالا مال کردوں، مگر یہ کام نہ ہوسکا۔

یہ اور بات ہے کہ ایک عرصہ تک علم سے لگاتار اور مسلسل دور رہنے کی وجہ سے میں نے تھوڑی بہت ترقی کر لی ہے، مگر پچھلے دنوں بات کچھ یوں ہوئی کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کہیں جارہا تھا۔ راستہ میں اسے اچانک ایک ضروری کام یاد آگیا۔ اس نے کہا کہ وہ دو گھنٹوں میں واپس آجائے گا۔ تب تک میں یہیں اس کا انتظار کروں۔

سامنے ایک پارک تھا۔ سوچا کہ یہاں وقت گزار لوں، لیکن اس عمر میں نوجوانوں کی خوش گوار مصروفیتوں اور ناخوش گوار حرکتوں میں مخل ہونا پسند نہ آیا۔ سامنے ایک ہوٹل تھا جہاں نہایت اونچی آواز میں موسیقی کو بجا کر گاہکوں کو ہوٹل کے اندر آنے سے روکا جا رہا تھا۔ اب وہ پرانی لائبریری ہی برابر میں رہ گئی تھی جس میں، مَیں اپنے زمانہ جاہلیت میں نہایت پابندی سے جایا کرتا تھا۔

خیال آیا کہ چلو آج لائبریری میں چل کر دیکھتے ہیں کہ کس حال میں ہیں یارانِ وطن۔افسوس ہوا کہ اب بھی وہاں کچھ لوگ علم کی دولت کو سمیٹنے میں مصروف تھے۔ چوں کہ علم کی دولت چرائی نہیں جاسکتی۔ اسی لیے ایک صاحب ضروری علم کو حاصل کرنے کے بعد اپنے سارے گھوڑے بیچ کر کتاب پر سَر رکھ کر سو رہے تھے۔ چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ بہت دنوں بعد لسانُ العصر حضرت شیکسپئیر، مصورِ فطرت علامہ ورڈ سورتھ، شمس العلماء تھامس ہارڈی، مصورِغم جان کیٹس وغیرہ کی کتابوں کا دیدار کرنے کا موقع ملا۔

میں نے سوچا کہ ان کتابوں میں اب میرے لیے کیا رکھا ہے۔ کیوں نہ اردو کتابوں کی ورق گردانی کی جائے۔ چناں چہ جب میں لائبریری کے اردو سیکشن میں داخل ہوا تو یوں لگا جیسے میں کسی بھوت بنگلہ میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں خوف زدہ سا ہو گیا، لیکن ڈرتے ڈرتے میں نے گرد میں اٹی ہوئی ’کلیاتِ میر‘ کھولی تو دیکھا کہ اس میں سے ایک موٹی تازی دیمک بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں اسے مارنا ہی چاہتا تھا کہ اچانک دیمک نے کہا،

’’خبردار! جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔ میں دیمکوں کی ملکہ ہوں۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار۔ ابھی ابھی محمد حسین آزاد کی ’آبِ حیات‘ کا خاتمہ کر کے یہاں پہنچی ہوں۔ جس نے ’آبِ حیات‘ پی رکھا ہو اسے تم کیا مارو گے۔ قاتل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم۔‘‘

دیمک کے منہ سے اردو کے مصرع کو سن کر میں بھونچکا رہ گیا۔ میں نے حیرت سے کہا،’’تم تو بہت اچّھی اردو بول لیتی ہو بلکہ اردو شعروں پر بھی ہاتھ صاف کر لیتی ہو۔‘‘

بولی، ’’اب تو اردو ادب ہی میرا اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا بن گیا ہے۔‘‘

پوچھا، ’’کیا اردو زبان تمہیں بہت پسند ہے؟‘‘

بولی،’’پسند ناپسند کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ زندگی میں سب سے بڑی اہمیت آرام اور سکون کی ہوتی ہے جو یہاں مجھے مل جاتا ہے۔ تم جس سماج میں رہتے ہو وہاں آرام، سکون اور شانتی کا دور دور تک کہیں کوئی پتہ نہیں ہے۔ امن و امان کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہو۔ اب اگر میں یہاں آرام سے رہنے لگی ہوں تو تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘

میں نے پوچھا،’’لیکن تمہیں یہاں سکون کس طرح مل جاتا ہے؟‘‘

بولی، ’’ان کتابوں کو پڑھنے کے لیے اب یہاں کوئی آتا ہی نہیں ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ ساری کتابیں میرے لیے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مجھے تو یقین ہے کہ تم جو اب یہاں آئے ہو تو تم بھی کتابیں پڑھنے کے لیے نہیں آئے ہو۔ کہیں تم خود مصنّف تو نہیں ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’تم نے کیسے پہچانا کہ میں مصنّف ہوں۔‘‘

بولی،’’میں تمہیں جانتی ہوں۔ ایک رسالہ کی ورق نوشی کرتے ہوئے میں نے تمہاری تصویر دیکھی تھی بلکہ تھوڑی سی تصویر کھائی بھی تھی۔ ایک دم بد ذائقہ اور کڑوی کسیلی نکلی۔ حالاں کہ وہ تمہاری جوانی کی تصویر تھی۔ پھر بھی اتنی کڑوی کہ کئی دنوں تک منہ کا مزہ خراب رہا۔ میں تو بڑی مشکل سے صرف تمہاری آنکھیں ہی کھا سکی تھی کیوں کہ تمہارے چہرے میں کھانے کے لیے ہے ہی کیا۔ تم اردو کے مصنّفوں میں یہی تو خرابی ہے کہ تصویریں ہمیشہ اپنی نوجوانی کی چھپواتے ہو اور تحریریں بچوں کی سی لکھتے ہو۔

اور ہاں خوب یاد آیا تم نے کبھی سرسیّد احمد خان کو بغیر داڑھی کے دیکھا ہے؟ نہیں دیکھا تو ’آثارُالصّنادید‘ کی وہ جلد دیکھ لو جو سامنے پڑی ہے۔ ایک دن خیال آیا کہ سر سیّد داڑھی اور اپنی مخصوص ٹوپی کے بغیر کیسے لگتے ہوں گے۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے بڑے جتن کے ساتھ سر سیّد احمد خان کی ساری داڑھی نہایت احتیاط سے کھالی۔ پھر ٹوپی کا صفایا کیا۔ اب جو سر سیّد احمد خان کی تصویر دیکھی تو معاملہ وہی تھا۔ قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا۔ اب یہ تصویر میرے آرٹ کا ایک نادر نمونہ ہے۔

مجھے تصویروں میں مسکراہٹیں بہت پسند آتی ہیں۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ تو اتنی کھائی کہ کئی بار بد ہضمی ہو گئی۔ زمانے کو اس کی مسکراہٹ آج تک سمجھ میں نہیں آئی۔ مجھے اس کا ذائقہ سمجھ میں نہیں آیا۔ عجیب کھٹ میٹھا سا ذائقہ ہے۔ کھاتے جاؤ تو بس کھاتے ہی چلے جاؤ۔ پیٹ بھلے ہی بھر جائے، لیکن نیّت نہیں بھرتی۔‘‘

میں نے کہا، ’’تم تو آرٹ کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتی ہو۔‘‘

بولی، ’’جب آدمی کا پیٹ بھرا ہو تو وہ آرٹ اور کلچر کی طرف راغب ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کیڑوں مکوڑوں کا پیٹ بھر جائے تو وہ بھی یہی کرتے ہیں۔ تب احساس ہوا کہ انسانوں اور کیڑوں مکوڑوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ خیر اب تو تم لوگ بھی اپنی زندگی حشرات الارض کی طرح ہی گزار رہے ہو۔‘‘

میں نے کہا، ’’اردو ادب پر تو تمہاری گہری نظر ہے۔‘‘

بولی، ’’اب جو کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہی نہیں تو سوچا کہ کیوں نہ میں ہی نظر رکھ لوں۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں