ایک پرانا لطیفہ ہے، ایک بار کسی نے ایک بچّے سے پوچھا، ’’تمہارے شہر میں کون کون سے بڑے آدمی پیدا ہوئے ہیں؟‘‘ بچّے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا، ’’ہمارے یہاں کوئی شخص بڑا نہیں پیدا ہوتا، سب بچّے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے اور اسے سن کر سب ہنس بھی دیتے ہیں، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ کوئی آدمی ’بڑا‘ نہیں پیدا ہوتا، کچھ لوگ تو خود بڑا بننے کی کوشش کر کے بڑے بن جاتے ہیں۔ کچھ کو کچھ لوگ مل کر بڑا بنا دیتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑا بننا کوئی خاص مشکل نہیں۔ ہم اور آپ بھی کوشش کر کے بڑے بن سکتے ہیں۔ اگر واقعی آپ بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں تو ذیل کے اصولوں کو کام میں لائیے، اور وہ دن دور نہیں جب کہ آپ کا شمار بھی بڑے لوگوں میں ہونے لگے گا۔
بڑا آدمی بننے کے لئے سب سے پہلے آپ یہ یاد رکھیے کہ آپ کہیں بھی وقت پر نہ پہنچیں، کیوں کہ اس کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ وہ کہیں بھی وقت پر نہیں پہنچتا، چاہے اسے تقریر کرنی ہو، افتتاح کرنا ہو، صدارت کرنی ہو، اپنی کہانی یا کلام سنانا ہو، انتظار کرانا اس کا پہلا اصول ہے، بے شمار لوگوں کو اپنا چشم براہ دیکھ کر آپ بھی اگر جذبۂ تفاخر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وقت پر پہنچنے والی گھٹیا حرکت ہر گز نہ کیجئے۔
کسی بھی بڑے آدمی کی چال ڈھال، رہن سہن، اٹھنے بیٹھنے کی عادتوں کو اپنا لینا بھی کبھی کبھی بڑا کام دیتا ہے۔ اگر بڑائی میں اس ہستی تک نہ پہنچ سکے تو غم نہیں، اس کے عادات و اطوار اپنا لئے تو سمجھ لیجئے کہ آپ آدھے بڑے آدمی تو ہو ہی گئے۔ ہزاروں نوجوان ہیرو بننے کی آرزو میں ہیروؤں جیسی چال ڈھال بنا لیتے ہیں، ہم نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ سگار محض اس لئے پیتے ہیں کہ چہرے پر چرچل جیسی مدبرانہ شان پیدا ہو سکے، شیروانی اس لئے پہنتے ہیں کہ جواہر لعل پہنتے تھے۔
آپ اپنے گھروں کی بالکل پروا نہ کیجئے۔ چھوٹے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کی زیادہ فکر کرتے ہیں اور اپنے چھوٹے سے گھر اور خاندان کو اچھے سے اچھا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اگر اس میں کامیاب ہوگئے، تو سکھ اور چین کی بنسی بجاتے ہیں، لیکن بڑا آدمی کبھی ان چھوٹی باتوں میں نہیں پڑتا، اسے سدا ایک بڑی الجھن چاہیے تو بس آپ بھی آج ہی سے گھر سے بے پروا ہو جائیے۔ گھر میں کیا ہورہا ہے، کون مرا؟ کون جیا؟ اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ بچّہ اگر امتحان میں فیل ہوتا ہے تو ہوا کرے، بیوی اگر بیمار پڑتی ہے تو پڑا کرے، ویسے بھی یہ ایک اچھی نشانی ہے کیونکہ بڑے آدمی کی بیویاں زیادہ تر بیمار ہی رہا کرتی ہیں۔ آپ کا کام صرف بڑی باتوں پر دھیان دینا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لئے بڑا تاجر بننا، سماجی کاموں میں لگ کر بڑا مصلح بننا، بڑا لیڈر یا بڑا فن کار بننا، ملک اور قوم کی خدمت کرتے آپ یہ بالکل بھول جائیے کہ آپ کے گھر والے بھی اس قوم اور ملک کی گنتی میں آتے ہیں۔
گھر بار کی فکر تو دور کی بات، آپ کو تو اپنے آپ کو بھی بھول جانا پڑے گا، کھانے پینے کی کوئی فکر نہ کیجئے، رات کو دیر سے گھر پہنچئے، ہر کھانا مقررہ وقت سے تین چار گھنٹے بعد کھائیے، یعنی صبح کا ناشتہ دوپہر میں، دوپہر کا کھانا رات کو اور رات کا کھانا صبح، اگر آپ کہیں کھانے یا ٹی پارٹی میں مدعو ہیں، تو اشتہار اور بھوک کے باوجود کھانے کی چیزوں کو محض چکھتے رہیے، تاکہ کھانے والوں اور کھلانے والوں دونوں کی توجہ کا مرکز بنے رہیے۔ یاد رکھیے، بے تکلف کھانے پینے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔
اس طرح ہر ایک کی کوشش یہی ہوگی کہ باری باری آپ کی پلیٹ میں کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز ڈالتا چلا جائے اور وہ چیزیں پہاڑ کی شکل اختیار کرتی چلی جائیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ دھیرے دھیرے ان میں سے بہت سی چیزیں کھا لینے کے بعد بھی پہاڑ اپنی جگہ اور آپ کی بات اپنی جگہ پر قائم رہے گی، کہ آپ کچھ نہیں کھاتے صرف ہوا کھا کر رہتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں، آپ کو بھلکڑ پن کی عادت بھی اپنانا پڑے گی۔ خدا نخواستہ اگر آپ میں یہ عادت نہیں تو ڈال لیجئے۔ مثلاً یہ کہ جان بوجھ کر اپنی چھوٹی موٹی چیزیں (بڑی نہیں) رومال، قلم، عینک، چابی (اگر اس کی ڈبلی کیٹ آپ کے گھر میں ہے) چھتری وغیرہ کہیں نہ کہیں بھول کر چھوڑتے رہیے۔ اس کے بدلے آپ کسی کی کوئی بڑی اور بیش قیمت چیز اپنے ہاتھ یا جیب میں ڈال کر آسانی سے گھر جاسکتے ہیں، اس سے آپ کی بڑائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ آپ بھلکڑ جو ٹھہرے۔
اگر آپ کوئی بڑا فن کار بننا چاہتے ہیں تو فن کے پیچھے تو بعد میں بھاگئے، پہلے اپنی زندگی کو بے ڈھنگے پن اور بے اصولی کے سانچے میں ڈھالیے۔ آپ کے رہنے کے کمرے اور مطالعے کے کمرے میں ہر وقت ایک بے ڈھنگا پن اور گندگی پھیلی ہو، اگر آپ کے جوتے میز پر، موزے پلنگ پر، تولیے زمین پر اور ملبوسات مسہری کے ڈنڈے اور کرسیوں پر رکھے ہوں اور میلے کپڑے الماری میں ہوں یا شیلف پر، ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوں۔ قلم کھلے اور دوات الٹی پڑی ہو۔ اگر آپ کے اندر یہ سب باتیں ہیں تو بس سمجھ لیجئے، کہ آپ کے اندر فن کار بننے کے جراثیم موجود ہیں۔ بس اب ضرورت فن کی ہے، تو کوشش سے وہ بھی مل جائے گا۔
عام طور سے بڑا آدمی بہت کم ہنستا ہے اور بہت بڑا آدمی تو بالکل نہیں ہنستا۔ ہمارا دانشور سنجیدگی کو زیادہ پسند کرتا ہے، اس لئے آپ بھی اپنے چہرے پر سنجیدگی ہی کا نہیں، بلکہ رنجیدگی کا ایک خول چڑھا لیجئے۔ قہقہہ لگا کر ہنسنا تو آپ کے لئے سمِ قاتل ہے، اگر چھوٹے لوگ خوب زور زور سے ہنس رہے ہوں تو ان کے قہقہوں پر مت جائیے، ان کا آخر کام ہی کیا ہے، بے تکی اور بیوقوفی کی باتوں پر دل کھول کر ہنسنا، اور خوش ہونا۔ آپ تو بس اپنی عادت ایسی بنالیں کہ جب آپ کسی بات پر مسکرائیں، تو وہ سند بن جائے اس بات کی، کہ واقعی یہ بات تھی قہقہہ آور، کہ فلاں بڑا آدمی بھی اس بات پر مسکرا دیا تھا۔
آپ کسی کام کو کر دینے یا کرا دینے کا وعدہ تو ضرور کیجئے لیکن ایفا ہرگز نہ کیجئے۔ کسی بھی وعدے کو پورا کرنے کے لئے وعدہ کئے گئے شخص کو آپ اپنے بھلکڑ پن کو کوستے ہوئے بار بار دوڑا سکتے ہیں اور اس کے بدلے میں اس سے بہت سے کام لے سکتے ہیں۔ بعد میں تمام تفصیلات نوٹ بک میں لکھ لینے کے بعد وہ نوٹ بک ہی کہیں رکھ کر بھول جانے کا بہانہ بہت آسانی سے کرسکتے ہیں، کیوں کہ بھول جانا آپ کی عادت جو ٹھہری، اس طرح اپنے نام آئے ہوئے ضروری خط، یہاں تک کہ تارتک کا جواب نہ دیں۔
کسی بھی چیز پر جھٹ سے اپنی پسند یا ناپسندیدگی کا اظہار مت کیجئے۔ بڑائی اسی میں ہے کہ زیادہ چیزوں کو ناپسند کیجئے۔ اس بات کا پورا دھیان رکھیے، کہ جب کوئی شخص آپ سے ملنے آئے، تو پہلی ہی بار میں نہ مل لیجئے۔ دو چار بار اسے دوڑا لینا ضروری ہوگا۔ ہو سکے تو اپائنٹمنٹ ہو جانے کے بعد بھی دو چار چکر اپنے گھر کے لگوا لیجئے۔ اچانک اور پہلی ہی بار مل لینا آپ کی شان کے خلاف ہوگا، اس لئے تو زیادہ تر بڑے آدمیوں کے گھر میں ایک پھاٹک، ایک لان، ایک برآمدہ، تب ڈرائنگ روم یا ملاقاتی کمرہ ہوتا ہے۔ ڈرائنگ روم تک پہنچنے کے لئے ہر چھوٹے آدمی کو کئی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کی سب سے پہلی ملاقات دربان یا کتے سے ہوتی ہے، دوسری چپڑاسی یا کال بیل سے، پھر ملاقاتی کمرے کے فرنیچر یا رسائل و اخبارات سے ہوتی ہے، تب کہیں جا کر وہ اس بڑے آدمی سے شرفِ ملاقات حاصل کرسکتا ہے۔ اب یہ اس شخص کی قسمت جانے کہ ایک ہی جست میں وہ تمام منزلیں طے کرے یا اسے پار کرنے میں ہفتے، مہینے یا سال لگ جائیں۔ آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ آپ کے گھر میں یہ منزل نہیں ہیں، آپ کو تو ضرورت مندوں کو محض دوڑانا ہے اس لئے کسی نہ کسی بہانے انہیں دوڑاتے رہیے۔
تو یہ ہیں وہ چند ’زریں اصول‘ جن پر چل کر آپ ’بڑا آدمی‘ بن سکتے ہیں، بس کوشش و ہمت شرط ہے۔
(طنز و مزاح نگار سرور جمال کی ایک تحریر)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


