The news is by your side.

Advertisement

“بجلی بچانے کے طریقے”

وفاقی وزیرِ “قلتِ آب و بند بجلی” پرویز اشرف نے کچھ دنوں پہلے عوام کو، بہ الفاظِ دیگر، یہ کہتے ہوئے ڈانٹا تھا، ”اوئے! رولا نہ پاؤ، بجلی بچاؤ۔“ اب انھوں نے یہی بات بڑے پیار سے کہی ہے۔ ساتھ ہی عوام کو یہ کہتے ہوئے ڈرانے کی کوشش بھی کی ہے کہ تین ہفتوں تک بجلی کی صورتِ حال بدترین رہے گی۔

اس جملے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ وزیر موصوف موجودہ صورتِ حال کو محض بد یا بدتر سجھتے ہیں۔ ایسا نہیں، مسئلہ دراصل اردو کی تنگ دامنی کا ہے۔ اس بیچاری کے پاس وہ لفظ ہی نہیں جو ”بد ترین“ سے آگے کی صورتِ حال کا نقشہ دکھا سکے۔ بس یہی ہو سکتا ہے کہ ”بد“ کے آگے بہت سارے ”تر“ لگا کر آخر میں ”ترین“ لگا دیا جائے۔

وزیرِ محترم کا حکم سر آنکھوں پر، مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ عوام کس وقت بجلی بچائیں؟ کہ بجلی نے تو خود ہی اپنے آپ کو عوام سے بچا کر رکھا ہوا ہے۔ آئی، جھلک دکھائی اور یہ جا وہ جا۔

بہ ہر حال، جمہوری حکم رانوں کا حکم ہے، سو ماننا تو ہوگا، ورنہ نافرمانی جمہوریت کے خلاف سازش گردانی جائے گی، چناں چہ عوام کی آسانی کے لیے ہم بچی کُھچی بجلی بچانے کے کچھ نسخے پیش کردیتے ہیں:

٭ ٹی وی ہمیشہ بند کر کے دیکھیں۔ یوں بجلی کے ساتھ آئینے کا خرچ بھی بچے گا۔

٭ استری ہندی کی ہو یا اردو کی، بیکار چیز ہے۔ البتہ ہندی والی استری بجلی سے نہیں چلتی، ویسے ہی کرنٹ مارتی ہے، اس لیے اسے گھر میں پڑا رہنے دیں۔ لیکن اردو والی استری فی الفور کباڑیے کو بیچ دیں اور ان پیسوں سے موم بتیاں خرید لیں۔

٭ استری بِک گئی! اب کپڑے نہ استری ہوں گے نہ ہینگر میں ٹنگیں گے۔ تو اب فریج کو الماری بنالیں اور کپڑے اس میں تہ کر کے رکھ دیں۔

٭ فریج الماری بن گیا، اب خالی الماری کیا یوں ہی بھائیں بھائیں کرتی رہے گی؟ اسے استعمال میں لائیں۔ کمپیوٹر ڈبے میں بند کریں اور اسے الماری کو سونپ دیں۔

٭ کمپیوٹر ٹرالی خالی خالی کتنی بُری لگ رہی ہے۔ چلیے! ایئر کنڈینشر اُکھاڑیے اور لاکر اس پر رکھ دیجیے۔

٭ اب گھر میں نہ کوئی شور ہے نہ مشغولیت، لہٰذا آپ با آسانی دستک سُن سکتے ہیں۔ پھر ڈور بیل کیوں لگا رکھی ہے؟ نکال پھینکیے۔

٭ ان بَلبوں اور ٹیوب لائٹوں کا آخر فائدہ کیا ہے؟ آپ نہ اپنا گھر پہلی بار دیکھ رہے ہیں اور نہ گھر والوں کو۔ یہ روشنی خواہ مخواہ ہی ہوئی نا۔ تو یہ تمام روشنیاں گُل کردیجیے۔

(معروف صحافی، مزاح نگار اور شاعر محمد عثمان جامعی کی کتاب “کہے بغیر” سے انتخاب، مصنف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے اُس وقت کے وزیرِ‌اعظم کے ایک بیان پر یہ شگفتہ تبصرہ سپردِ قلم کیا تھا)

Comments

یہ بھی پڑھیں