The news is by your side.

Advertisement

اردو زبان و ادب، پنجاب اور آج کا نوجوان

خطۂ پنجاب تہذیبی، تاریخی اور ادبی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامِل ہے۔ پنجاب ایک مشترکہ تہذیب و کلچر کی علامت ہے۔

اس مشترکہ کلچر( تقسیم سے قبل خطّۂ پنجاب) میں صوفیوں، سنتوں اور سِکھ گورو صاحبان نے اہم کردار نبھایا ہے جیسے بابا فرید، بُلھے شاہ، شاہ حسین وغیرہ۔ یہ وہ صوفی بزرگ تھے جنھوں نے اپنے کلام میں وحدت، اخوّت، بھائی چارگی، ہمدردی، انسانیت جیسی عظیم صفات کا درس دیا۔ سِکھ مذہب کی مقدس کتاب گورو گرنتھ صاحب میں جن شعرا کا کلام موجود ہے ان میں مسلمان بزرگ بابا فرید، ہندو سنت کبیر اور نام دیو بھی شامل ہیں۔ یہ صوفی سنت، درویش گورو صاحبان سر زمینِ پنجاب میں اتنے ہر دل عزیز ہوئے کہ ان سب کے پیغامات پنجاب کی شناخت بن گئے۔

ڈاکٹر جسبیر سنگھ اہلووالیہ کہتے ہیں: ”سرزمینِ پنجاب کو گیان اور دھیان کی دھرتی کہا جاتا ہے۔ یہاں کے منفرد کلچر، یہاں کے گیت اور سنگیت یہاں زندگی کو جی بھر کے جینے کی خواہش اور یہاں چونکا دینے والی فکر و نظر پنجاب کے لیے ہی نہیں پورے ہندوستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔”

اردو اور پنجاب(مشرقی اور مغربی) کا گہرا رشتہ شروع ہی سے رہا ہے۔ علم و ادب اور تہذیب کے ارتقاء میں بھی اس علاقے نے اہم رول ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ اردو ادب کی تاریخ کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے ارتقائی پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ پنجاب کے قلم کاروں کا ذکر کیے بغیر اردو ادب کی تاریخ کسی طرح مکمل نہیں ہوسکتی۔ پنجاب(پاک و ہند کے مختلف علاقے) نے اردو شاعری اور نثر کے حوالے سے ادب کو ایسے معتبر شاعر اور ادیب دیے جنھوں نے اردو ادب کے حوالے سے مختلف اصناف میں گراں قدر کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ اقبال، فیض، حفیظ جالندھری، ساحر لدھیانوی وغیرہ اور نثر کے حوالے سے الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، سرسید احمد خاں، ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

تقسیم سے قبل پنجاب کا ماحول اردو کے لیے نہایت ہی سازگار تھا۔ پنجاب اردو زبان کا و ادب کا اہم مرکز تھا۔ اردو کی محفلیں سجتی تھیں، مشاعرے ہوتے تھے۔ شعرا ان میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے تھے اور اپنی تخلیقات کا جادو جگاتے تھے۔ ایک سچائی ہے کہ تقسیم کے بعد اردو کو صرف مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا جب کہ زبانیں مذہبوں کی نہیں تہذیبوں کی علامت ہوتی ہیں۔

اردو نے پنجاب کی تہذیب یہاں کے رسم و رواج، یہاں کے عوامی مزاج، ان کی متنوع زندگی کی ترجمانی بھی کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پنجاب کے جوہر ایک طرف توخود کو پنجابی زبان میں اور دوسری طرف اُردو زبان میں منعکس کیا ہے۔ آزاد گلاٹی کچھ اس طرح ذکر کرتے ہیں:

”سچ تو یہ ہے کہ پنجاب اپنی تمام تر ثقافتی توانائی اور برنائی کے ساتھ اُردو کی رگ رگ میں جاری و ساری ہے۔”

اُردو زبان و ادب اور اس کا لب و لہجہ ہر آدمی کی شخصیت کو نکھار دیتا ہے۔ گفتگو میں دل کشی پیدا کر دیتا ہے۔ اردو کی اس خوب صورتی اور اس کے کشادہ دامن کو دیکھتے ہوئے ہمیں اب یہ سوچنا ہے کہ اس زبان کو کیسے ہر شعبے کے ساتھ جوڑا جائے۔ آج ہمیں نئی نسل کو اردو زبان اور ادب کی طرف راغب کرنے اور سکھانے پڑھانے کے لیے موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد لینے کی ضرورت ہے اور اس بات پر غور کرنا ہے کہ نئی نسل کو اس زبان سے کیسے جوڑ کر رکھا جائے جو اب بدلتے ہوئے دور میں اردو لکھنا پڑھنا چھوڑ رہی ہے یا اسے سمجھنے میں دشواری محسوس کرتی ہے۔

(محمد عرفان کے علمی و تحقیقی مضمون سے ماخوذ)

Comments

یہ بھی پڑھیں