The news is by your side.

Advertisement

ملکہ برطانیہ کا وائلن اور ممبئی کا چور بازار

آزادیِ ہند سے قبل ملکہ برطانیہ کی آمد پر اس کے استقبال کے لیے گیٹ وے آف انڈیا بمبئی کے ساحل پر تعمیر کیا گیا جہاں اس کا جہاز لنگرانداز ہوا۔ ملکہ کو جہاز سے فوری طور پر محل لے جایا گیا۔ محل غالباً آج کا ہوٹل تاج تھا جو گیٹ وے آف انڈیا کے روبرو قائم ہے۔

ملکہ کے ساتھ آئے سازو سامان میں ایک وائلن بھی تھا۔ جب ملکہ نے سمندر کی پُر شور لہروں پر ایک نغمہ چھیڑنے کی غرض سے وائلن طلب کیا تو معلوم ہوا کہ وہ غائب ہے۔ گیٹ وے آف انڈیا سے محل کے درمیان میں وائلن غائب کر دیا گیا تھا۔

ایک غلام ملک کے غلام شہری نے آزادیِ کردار کا وہ مظاہرہ کیا کہ ایک فاتح ملکہ کو اس کی تفریح سے محروم کر دیا۔ ملکہ جس کی سلطنت پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا!

ملکہ برطانیہ کا وائلن چوری ہوجانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ سارا علاقہ چھان مارنے کے بعد وہ وائلن موجودہ مولانا شوکت علی روڈ پر فروخت ہوتا ہوا پایا گیا۔ ملکہ کو وائلن کی بازیابی کی اطلاع ملی تو اس نے اس بازار کو تھیف مارکیٹ یعنی “چور بازار” کہہ کر پکارا۔

ایک اور روایت کا مطابق مولانا شوکت علی روڈ پر پرانے سامان فروخت ہوتے تھے اور علاقے میں بہت شور ہوتا تھا اس لیے اس کا نام “شور بازار” پڑ گیا۔ بازار میں آنے والوں کی اکثریت جہلا کی ہوتی تھی۔ اس لیے شور بازار کثرتِ استعمال سے بگڑ کر “چور بازار” میں تبدیل ہوگیا۔

دوسری روایت کچھ حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ انگریزوں کو دوسروں کو بدنام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا اس لیے انہوں نے شریفانِ اودھ کو پان کھاتے دیکھ کر کہا کہ یہاں تو ہر تیسرا آدمی تپِ دق کا مریض ہے اور خون تھوکتا پھرتا ہے۔

جاہل اور تہذیبی قدروں سے نا آشنا لوگ۔۔۔۔۔!

صدیوں کی تاریخ اور تمدّن کا یک روزہ مشاہدہ کرنے کے لیے چور بازار سے بہتر جگہ کہیں اور نہیں مل سکتی۔ برطانوی دور کی گھڑیاں ہوں رولز رائس کاریں، راجپوتوں کے زیوات ہوں یا ان کے لہو سے غسل کی ہوئی شمشیریں، ایران کے جھومر ہوں یا ان کے ہاتھ کی بنی قالینیں، ملکہ برطانیہ کی سہیلیوں کے وائلن ہوں یا مغلوں پر گولہ باری کرچکی توپوں کے زیراکس، یہاں سب کچھ مل سکتا ہے۔ ستم یہ کہ دکان دار اس چیز کی قدر سے نابلد ہوتا ہے۔

اس دکان دار کے لیے تہذیب و تمدّن بس صرف یہی ہے کہ فی الوقت آپ کی جیبوں میں سبز نوٹ ہیں یا سرخ۔ وہ سرخ انقلاب اور سبز انقلاب سے نا آشنا ہوتا ہے۔

خود راقم نے ایک کتاب “پہاڑوں کا بیٹا” کی تلاش میں بک فیئرز کی شکل میں کتابوں کے کئی پہاڑ سر کیے، لیکن ناکام ہی رہا۔ بالآخر اسی چور بازار سے اس حالت میں ملی کہ کتاب کا نصف حصّہ ایک بوسیدہ سے بار دان پر اور نصف راستے پر تھا جس سے خلقت ہجوم در ہجوم گزر رہی تھی۔

کتاب اٹھا کر بیس روپے کا نوٹ دکان دار کو دیا اور واپس پیسے نہیں مانگے۔ ریزگاری واپس نہ مانگنے والے خریدار سے دکان دار بہت خوش ہوتا ہے اور ادھر خریدار کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ نایاب شے دینے والے دکان دار کا منہ چوم لینا چاہتا ہے، لیکن اس کے (دکان دار کے) منہ میں بھری نسوار آڑے آجاتی ہے۔

(فکاہیہ از حفظ الرحمن، ممبئی)

Comments

یہ بھی پڑھیں