The news is by your side.

Advertisement

اردو کے دو اہم تاریخی اداروں کی تباہی کا وقت آن پہنچا

اردو لغت اورسائنس بورڈز کو ادارہ فروغ قومی زبان میں ضم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سادگی اور اداروں کی اصلاح کے لیے وطنِ عزیز کے دو اداروں کو ادارہ فروغ قومی زبان میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ دونوں ادارے اردو لغت بورڈ اور اردو سائنس بورڈ ہیں اور دونوں ہی قومی زبان کو عالمی زبان بنانے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں قائم کردہ ٹاسک فور س برائے سادگی اور ادارہ جاتی اصلاح نے اردو زبان کے دو اہم ترین اداروں کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں اردو سائنس بورڈ کی سفارشات کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ یا کسی اور نمائندے کو اجلاس میں مدعو کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ہے۔

سوشل میڈیا پر اردو سے وابستہ افراد کی جانب سے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، اہم اسکالرز کا موقف ہے کہ یہ دونوں ادارے انتہائی کم بجٹ میں بیش بہا علمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ایسے اداروں کی خود مختاری ختم کرتے ہوئے انہیں کسی اور ادارے میں ضم کرنا ، انہیں ختم کردینے کے مترادف ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے طے کیا کہ اردو لغت بورڈ اور اردو سائنس بورڈ کی گزشتہ چند برسوں کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تاکہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے کہ آیا یہ حکومتی اقدام دانش مندی پر مبنی ہے، یا پھر سراسر غلط فیصلہ ہے۔

اردو لغت بورڈ – قیام اورخدمات


اردو لغت بورڈ کا قیام سنہ 1958 میں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی سربراہی میں عمل میں آیا اور اس ادارے نےبر صغیر کی اس عظیم زبان جو کہ ہماری قومی زبان بھی ہے، اس کی ایک مفصل لغت مرتب کرنے کا بیڑہ اٹھا یا۔ باون سالہ محنت شاقہ کے نتیجے میں اس ادارے نے تاریخی اصول پر مبنی 22 ہزار صفحات پر مشتمل ایک عظیم الشان لغت مرتب کی ، جس نے اسے دنیا کی تیسری بڑی زبان کا درجہ دیا۔ اس سے پہلے یہ کام صرف انگریزی اور جرمن زبان میں انجام دیا گیا تھا اور دیگر تمام زبانیں تاحال ایسی کسی لغت ےسے محروم ہیں۔

لغت کی تدوین میں آکسفور ڈ ڈکشنری کا ماڈل سامنے رکھا گیا تھا جس نے تما م تر وسائل ہوتے ہوئے اپنا پہلا ایڈیشن 70 سال بعد شائع کیا تھا جو کہ بارہ جلدوں پر مشتمل تھا۔

کام ابھی بھی ختم نہیں ہوا جناب، ادارے کے موجودہ سربراہ عقیل عباس جعفری نے اس ضخیم لغت کو ڈیجیٹل کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور جلد ہی مکمل 22 جلدوں کو آن لائن کردیا گیا۔ دوسرا مرحلہ تلفظ کی درستی تھا جسے تاریخی اصول پر ریکارڈ کرایا گیا اور اپ لوڈ کیا گیا جس سے املا کے مسائل حل ہوگئے۔

ساتھ ہی ساتھ بائیس جلدوں کا خلاصہ عام صارف کے لیے دو جلدوں میں تیار کیا گیا۔میڈیا ہاؤسز کے لیے الفاظ کے درست املا اور تلفظ کا ایک مینوئل بھی تیار کیا گیا ہے جبکہ طلبہ و طالبات کے لیے ایک درسی لغت بھی تیار کی گئی ہے جس میں پاکستان کے تمام سرکاری بورڈز کی کتب، اواوراے لیولز، اور آغا خان بورڈ کی کتابوں کے الفاظ جمع کیے گئے ہیں۔

اردو ادب کے کلاسیکی شعرائے کرام کے کلام کی فرہنگیں بھی تیار کی گئی ہیں جبکہ اردو لغت بورڈ کے رسالے اردو نامہ کا دوبارہ اجرا کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ ڈاک کی مدد سے ادارے کی ساٹھ سالہ اور مرزا غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کے موقع پر یادگاری ٹکٹوں کا اجراء، لغت بورڈ کے دفتر میں دیوار ِ رفتگاں اور گوشہ تبادلہ کتب کا قیام، قدرت نقوی، محسن بھوپالی اور فہمیدہ ریاض کے کتب خانوں کا حصول اور ادارہ کے کتب خانہ میں گوشہ قدرت نقوی، گوشہ محسن بھوپالی اور گوشہ فہمیدہ ریاض کا قیام اور ادارہ کے کتب خانے میں دس ہزار کتابوں کا بلا معاوضہ اضافہ۔ یہ گراں قدر کام لغت بورڈ نے انجام دیے۔

یہ وہ تمام کام ہیں جو اردو لغت بورڈ نے اپنے انتہائی محدود وسائل میں گزشتہ ۳ سال میں انجام دیے ہیں اور لغت کے مدیر اعلیٰ عقیل عباس جعفری کا کہنا ہے کہ یہ تو محض اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں داخل کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے جو کہ طے کرلیا گیا ہے، ابھی تو بہت کام باقی ہے۔

اردو سائنس بورڈ کی خدمات


اب ذرا جائزہ لیتے ہیں اردو سائنس بور ڈ کا جس کاقیام سنہ 1962 میں لاہور میں عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کرنل (ر ) عبد المجید تھے جبکہ موجودہ ڈی جی نیئر عباس ہیں۔ اپنے قیام سے آج تک اردوسائنس بورڈنے اب تک آٹھ سوسے زائد کتابیں ،انسائیکلوپیڈیاز، لغات اورتعلیمی چارٹس شائع کیے ہیں ۔

بورڈنے دس جلدوں پر مشتمل اردوسائنس انسائیکلوپیڈیاتیارکیا۔ اس میں خوبصورت تصاویر، ڈایاگرامزاورسائنسی معلومات شامل ہیں ۔یہ ثانوی اوراعلیٰ ثانوی سطح کے طلبا، اساتذہ اورتحقیق دانوں کے ساتھ ساتھ عام افرادکے لیے بھی یکساں مفید ہے ۔اردوسائنس بورڈسہ ماہی اردوسائنس میگزین بھی باقاعدگی سے شائع کرتاہے۔

حال ہی میں ا س ادارے نے کوئٹہ جیسے پسماندہ علاقے کی ایک طالبہ کتاب اشاعت کےلیے منتخب کی ہے جو کہ نامور ماہر طبعیات اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب’گرینڈ ڈیزائن ‘ کا انتہائی عمدہ اردو ترجمہ ہے۔

اردوسائنس بورڈ کے اغراض ومقاصد


سائنس، ریاضی اورٹیکنالوجیز کے میدان میں اردوزبان میں موجود کمیوں کو دُورکرنا اورابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح کے سکولوں ، خواندگی اوربالغ خواندگی کے مراکز کے علاوہ ٹیکنالوجیزکے اداروں کے لیے تعلیمی موادتیارکرنااورشائع کرنا۔

ملک بھر میں اساتذہ کے تربیتی اداروں میں پڑھائے جانے والے سائنس، ریاضی اورٹیکنیکل مضامین کے لیے تعلیمی مواد تیارکرنااورشائع کرنا۔

قومی مرکزبرائے آلات تعلیم کے لیے تیارکردہ تمام آلات کے لیے اردومیں مواد تیارکرنے میں اس ادارے سے تعاون کرنا۔

ملک میں اردوسائنسی اورفنی تعلیم کی ترقی کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا۔

دنیا کہاں جارہی ہے؟


ہمارا پڑوسی ملک ایران جسے اپنی زبان کی قدامت اور استقامت پر بے پناہ ناز ہے، اس کی اب تک کی سب سے مستند لغت کا نام ’لغت نامہ دھخدا‘ ہے جسے علی اکبر دھخدا نے تشکیل دیا تھا ۔ اپنی زبان سے محبت کرنے والےایرانی اس شخص اوراس کے ادارے کے اس حد تک شکرگزار ہیں کہ ایران میں کئی مقامات پر ان کے مجسمے نصب کیےگئے ہیں اور ان کے نام پر تحقیقاتی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ اس پر بھی بس نہیں کی گئی بلکہ جدید خطوط پر فارسی لغت کی تدوین مسلسل جاری ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری جسے تاریخی اصول پر مرتب کیا گیا ہے، اس نے اپنے کام کا آغاز سنہ 1857 میں کیا اور دس جلدوں پر مشتمل پہلی لغت سنہ 1928 میں شائع کی اور اس کے بعد اس کا اگلا ایڈیشن 1989 میں نکالا گیا جبکہ تیسرے ایڈیشن پر کام جاری ہے۔ جس وقت ادارے نے کام شروع کیا ، آج کی نسبت اس کے پاس محدود وسائل اور اختیارات تھے( حالانکہ وہ پاکستان سے کہیں زیادہ تھے) اور آج ادارہ بے شمار وسائل اور اختیارات کا حامل ہے اور اپنے کام کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔

جرمن زبان میں لغت سازی کا ابتدائی کام آٹھویں صدی میں شروع ہوا اور تاحال یہ کام جاری ہے ، جرمن زبان دنیا کے چھ ممالک کی سرکاری زبان ہے اور اس کے معاملات کونسل آف جرمن آرتھو گرافی کے سپرد ہیں جو کہ ایک غیر سرکاری خود مختار ادارہ ہے ۔

یہی صورتحال اگر سائنس کے میدان میں دیکھی جائے تو ناسا کے قیام کا بنیادی مقصد خلا کی تسخیر تھا، جو کہ جولائی 1969 میں چاند پر پہلے انسان کے قدم رکھتے ہی حاصل ہوگیا تھا۔ اب کیا ناسا کو بند کردیا جائے، نہیں! ان کے سائنسدان ستاروں سے آگے کے نئے جہاں کھوجنے چل پڑے۔

ہم کیا کررہے ہیں؟


دنیا میں کئی بڑے تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو کبھی کسی ادارے کے ماتحت ہوا کرتے تھے اور آج ان کا بجٹ پاکستان جیسے غریب ممالک سے کہیں زیادہ ہے، اور اس کی وجہ یہی ہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک نے اپنی زبان کو عزت اور اہمیت دی اور اس کے فروغ پر کام کیا۔ ہمارے ہاں وہ تمام افراد جو ہر طرح کے نامساعد حالات میں بھی اردو لغت بورڈ اور اردو سائنس بورڈ سے وابستہ رہے، اپنی زندگیوں کا آرام تج کر دن رات جدو جہد میں لگے رہے، آج ان کی خدمات کا یہ صلہ دیا جارہا ہے کہ انہیں ایک ایسے ادارے میں ضم کیا جارہا ہے جس کا براہ راست ان کے کام سے لینا دینا نہیں ہے۔

سادگی ، کفایت شعاری اور اداروں کی اصلاح جیسے تمام نعروں سے صد فیصد متفق لیکن جہاں پہلے ہی بجٹ اتنا کم ہے کہ اس سے زیادہ خرچہ تو وفاقی حکومت کسی غیر ملکی مہمان کی آمد پر ہی کردیتی ہے۔ ایسے شعبہ جات کو بچت کی فہرست میں شامل کرنا سراسر بددیانتی اور بدنیتی کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ فیصلے پہلے لیے جاتے ہیں اور بعد میں عوامی ردعمل کی بنیاد پر انہیں تبدیل کیا جاتا ہے جیسے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں تنخواہوں کے اضافے کی اطلاعات تھیں، پھر وزیر اعظم نے نوٹس لے کر وہ اضافہ رکوایا۔

جناب ِ وزیر اعظم ! آپ جب اپوزیشن میں تھے تو اکثر کہا کرتے تھے کہ ترقی یافتہ اقوام نے تمام تر قی اپنی زبان میں کی اور اپنی زبان ترقی کا واحد راستہ ہے تو ذرا اپنی سادگی ٹاسک فورس کے اس فیصلے پر ایک نظر کیجئے کہ یہ دونوں اداروں ادب اور سائنس سے وابستہ معتبر ناموں کی کئی دہائیوں کی محنت کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں اور اب جب کہ یہ ترقی کی شاہ راہ پر گامزن ہیں تو ان میں کسی بھی طرز کی چھیڑ چھاڑ انہیں تباہ کرنے کے مترادف ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں