پیر, مئی 18, 2026
اشتہار

سلطنتِ نمکو کا واحد وارث "آلو والا سموسہ”

اشتہار

حیرت انگیز

شام کے چائے کے ساتھ دسترخوان کی وسیع و عریض کائنات میں اگر کوئی ایسی ہستی ہے جس نے نسل در نسل اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے، تو وہ بلا شبہ "آلو والا سموسہ” ہے۔

یہ وہ شہنشاہ ہے جس کی کراری قبا (یعنی پرت دار میدہ) کے نیچے ابال کر کچومر کیے گئے آلوؤں کا ایک ایسا جاہ و جلال چھپا ہے جسے دیکھ کر اچھے اچھوں کے منہ سے رال ٹپک جائے۔ لیکن صاحب، اقتدار کی کرسی کبھی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی، اور آج کل ہمارے اس معصوم آلو کے سموسے کی تخت نشینی کو "غیر ملکی طاقتوں” یعنی اسپرنگ رولز، کرسپی رولز، چائنیز رولز، کرمب رولز اور حد تو یہ کہ پراٹھا رول جیسے بد ذاتوں سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ یہ کم بخت رول، جو اپنی لمبوتری جسامت اور "ڈائٹ فرینڈلی” ہونے کا ڈھونگ رچا کر دسترخوان کی سیاست میں نقب لگا رہے ہیں، دراصل آلو کے سموسے کی مثلثی سلطنت کا تختہ الٹنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان رولز نے ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے کہ سموسہ تو پرانے زمانے کا "دیسی” آئٹم ہے، جبکہ وہ خود ماڈرن اور ولایتی اشرافیہ کے نمائندے ہیں۔

اس عظیم الشان جنگ میں نمکو کے کچھ باوفا سپاہی آج بھی اپنے بادشاہ یعنی آلو کے سموسے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ آلوبخارے، ہری مرچ، املی اور سرخ مرچوں کی تیکھی چٹنیاں اور پودینے کا رائتہ سموسے کے وہ جاں نثار محافظ ہیں جن کے بغیر بادشاہ کی شخصیت ہی ادھوری ہے۔ پھر نمک پارے ہیں، جو اپنی چھوٹی قد و قامت کے باوجود ہمیشہ سموسے کے وفادار درباری بن کر پلیٹ کے کونوں میں پہرہ دیتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف، کچھ ایسے حسد کے مارے کردار بھی ہیں جو پیٹھ پیچھے محلاتی سازشوں میں مصروف ہیں۔ جلیبی بیگم کو ہی دیکھ لیں، وہ بظاہر تو سموسے کے ساتھ "میٹھا اور نمکین” کا جوڑ بنا کر بیٹھتی ہیں، لیکن اندر ہی اندر وہ اس بات سے جل کر کوئلہ ہوئی رہتی ہیں کہ لوگ سموسے کو پہلے کیوں ہاتھ لگاتے ہیں۔ اسی طرح یہ تلے ہوئے کاجو اور پستہ بھی خود کو "کلاس” سمجھ کر آلو کے سموسے کی سادگی کا تمسخر اڑاتے ہیں اور پس پردہ ان لمبوترے رولز کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں۔

آلو کے سموسے کا شاہی خاندان بھی کچھ کم وسیع نہیں ہے۔ شہنشاہ کے بڑے بھائی "قیمہ والا سموسہ” اپنی رعب دار شخصیت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور کچوری پھپھو جو اپنی گول مٹول شخصیت کے ساتھ صرف عیدین کے موقع پر نمودار ہوتی ہیں، جبکہ "چکن سموسہ” اور "مٹن سموسہ” اس خاندان کے وہ بگڑے ہوئے شہزادے ہیں جو بڑے ہوٹلوں اور وی آئی پی تقاریب کے علاوہ کہیں نظر آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس خاندان میں ایک جین زی یعنی "نوڈلز والا سموسہ” بھی آ ٹپکا ہے، جو نئی نسل کی طرح تھوڑا الجھا ہوا اور کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہے۔ خاندان کے بزرگ آلو والے سموسے اس نومولود کو دیکھ کر اکثر ٹھنڈی آہ بھرتے ہیں کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نہ جانے کس رخ جائے گا، کیونکہ اس کے اندر کی "بغاوت” یعنی نوڈلز کسی بھی وقت میدے کی دیواریں توڑ کر باہر نکل سکتے ہیں۔ مگر ان تمام سازشوں، حملوں اور بدلے ہوئے حالات کے باوجود، جب کڑھائی میں تیل کھولتا ہے اور آلو کا سموسہ اپنے مخصوص رنگ و روپ کے ساتھ برآمد ہوتا ہے، تو نئے زمانے کے رولز کی ساری چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے۔ آخر کار، بادشاہ وہی ہوتا ہے جس کے پاس عوام (یعنی بھوکوں) کی بھرپور حمایت ہو، اور اس معاملے میں آلو کے سموسے کا کوئی ثانی نہیں۔

عمران الرحمٰن
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں