اردو کے بعض قلم کاروں کے ہاں یہ رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب وہ علمی موضوعات پر قلم اٹھاتے میں تو ان کے لیے بیچ میں انگریزی الفاظ کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ بعض مقامات پر انگریزی الفاظ استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہ ہو، دوسری یہ کہ قلم کار کو خود اپنی زبان پر اس درجہ عبور حاصل نہ ہو کہ ایسے انگریزی الفاظ جو روزانہ گفتگو یا انگریزی اخبارات اور خبروں کے ذریعے اپنے مفاہیم ہم پر براہ راست انگریزی ہی میں منکشف کرتے رہتے ہیں ان کے اردو متبادل قلم کار کی گرفت میں نہ آسکیں اور تیسری اور قدرے قابل افسوس وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قلم کار اپنے قاری پر انگریزی دانی کا رعب جمانا چاہتا ہو۔
اس اعتبار سے پہلی صورت تو قابلِ معافی ہے۔ دوسری یا تیسری نہیں۔ نیشنل یورنی ورسٹی آف ماڈرن لنگویجز، اسلام آباد کے جریدے دریافت میں محمد شہزاد او اور ڈاکٹر ممتاز کلیانی کا ایک مشترکہ مضمون اردو اخبارات میں مستعمل انگریزی و علاقائی زبانوں کی لفظیات کے موزوں متبادل کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں خصوصاً پاکستان کے حوالے سے اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ عصر حاضر کے اردو اخباروں میں انگریزی، پنجابی، سرائیکی اور دوسری مقامی زبانوں کے الفاظ کی غیر ضروری آمیزش نظر آتی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ آج کے دور میں خبروں کی تعداد اور رفتار دونوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ادبی اور صحافتی زبان کے درمیان جو ایک خفیف سا تفاوت ہوا کرتا تھا اس کی نوبت اب کہیں کہیں از کجا تا بہ کجا است تک پہنچ گئی ہے۔ بہرحال ہم یہاں صحافتی زبان کے معیار اور اس میں انگریزی الفاظ کی آمیزش کے معاملے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اس مضمون میں کہا گیا ہے۔
ابتدائی اردو اخبارات کی زبان مقفّٰی اور مسجع ہوا کرتی تھی۔ انداز بیان شاعرانہ ہوتا تھا۔ زبان و بیان پر عبور رکھنے والے شخص ہی صحافت کے میدان میں داخل ہو سکتے تھے۔ جب کہ موجودہ دور میں خبر نگاروں کے لیے زبان سے اس قدر واقفیت لازمی نہیں سمجھی جاتی۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ گرامر کے قواعد اور ترکیبیں اور اصطلاحات بنانے کے اصولوں کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔
صحافتی زبان کو آسان بنانے کا مقصد یہ تھا کہ مطلب اور مفہوم کو واضح، آسان اور سادہ بنا کر پیش کیا جائے تاکہ کم پڑھے لکھے قارئین بھی خبر کو بغیر کسی دقت کے سمجھ سکیں۔ لیکن اس مشق کا نتیجہ الٹ نکلا۔ صحافیوں نے آسان زبان کے چکر میں غیر معیاری الفاظ اور وقت بے وقت انگریزی زبان کے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں جو کسی بھی صورت میں قابل ستائش بات نہیں۔
اس مضمون کے جس اقتباس سے ہم ابھی گزرے اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں، ایک تو یہ کہ ابتدائی اردو اخبارات کی زبان مسجّع اور مقفّیٰ ہوا کرتی تھی، زبان و بیان پر صحافیوں کو عبور حاصل تھا اور وہ زبان کے قواعد سے آگاہ اور اس کے پابند تھے۔ دوسری خاص بات موجود ہ صحافت کے تناظر میں یہ کہی گئی کہ موجودہ دور میں خبر نگاروں کے لیے زبان سے اس قدر واقفیت لازمی نہیں سمجھی جاتی اور خاص طور پر یہ کہ صحافیوں نے وقت بے وقت انگریزی زبان کے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے۔ جہاں تک زبان کے اسلوب کا تعلق ہے وہ وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ مسجع اور مقفّٰی اور شاعرانہ زبان کا رواج ادبی تحریروں سے کب کا ختم ہو چکا۔ اس کی جگہ انفرادی اسلوب نے لے لی ہے۔ اس لیے صحافیوں سے مسجّع مقفّیٰ اور شاعرانہ زبان کی توقع بے وقت کی راگنی ہوگی۔ لیکن جہاں تک وقت اور بے وقت عبارت کے بیچ میں انگریزی زبان کے الفاظ استعمال کرنے کا تعلق ہے اس پر یقیناً روک ہونی چاہیے۔ چنانچہ انگریزی الفاظ کے بے جا استعمال پر اس مضمون میں بجا طور پر یہ بات کہی گئی ہے:
تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ اردو اخبارات میں کام کرنے والے صحافی مغربی ذرائع ابلاغ سے موصول شدہ خبروں کا ترجمہ کرتے وقت بعض انگریزی الفاظ کو جوں کا توں اردو میں استعمال کرتے ہیں جب کہ ان الفاظ و اصطلاحات کے آسان اردو تراجم موجود ہوتے ہیں، مثال کے طور پر پبلک سیکٹر، کورٹ فیس، ایڈوانس جیسے الفاظ کو سرکاری شعبہ، عدالتی فیس اور پیشگی لکھا جاسکتا ہے۔ ایسے انگریزی الفاظ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جن کے مترادف موجود نہیں ہیں یا جن کا چلن عام ہو چکا ہے۔ اردو اخبارات میں یہ میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض تراکیب اردو میں اس طرح مستعمل ہو گئی ہیں جن میں ایک لفظ انگریزی کا ہوتا ہے، اور ایک اردو کا۔ مثال کے طور فزیکل معائنہ بجائے طبّی معائنہ، ووٹ شماری بجائے رائے شماری، ڈائریکٹر تعلیم بجائے ناظمِ تعلیم، سپلائی مرکز بجائے مرکزِ رسد وغیرہ۔ اخبارات میں انگریزی زبان کے الفاظ بہت زیادہ استعمال ہونے کی وجہ گلوبلائزیشن یا عالم گیریت ہے۔ انگریزوں کے دور کی مرتّبہ سید احمد دہلوی کی فرہنگ میں انگریزی کے الفاظ ۵۰۰ تھے جب کہ فرہنگ کے کل الفاظ کی تعداد چون ہزار نو (۵۴۰۰۹) تھی۔ آج اردو زبان میں اُن انگریزی الفاظ کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ چکی ہے جو اردو زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔
(کتاب سہ ماہی اردو ادب کے منتخب اداریے سے لیا گیا ایک پارہ، جو اسلم پرویز کا تحریر کردہ ہے)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


