ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

اے آر خاتون: مقبول ناول نگار

اشتہار

حیرت انگیز

اے آر خاتون وہ ناول نگار تھیں جنھوں نے برصغیر کے مسلم معاشرے کی بنتی بگڑتی تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو کرداروں کے ذریعے بیان کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد فاطمہ ثریا بجیا نے ان کے ناولوں کی ڈرامے کے قالب میں ڈھال کر لازوال بنا دیا۔

ناقدین جہاں اے آر خاتون کی قلمی کاوشوں کو سراہتے ہیں، وہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے ناولوں کی کہانی اور کرداروں میں یکسانیت موجود ہے، اس کے باوجود یہ ناول اس زمانہ کی تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج کا خوب صورت عکس ہیں۔ اے آر خاتون کا یہ تذکرہ ان کی برسی کی مناسبت سے کیا جارہا ہے۔ وہ 24 فروری 1965ء کو انتقال کرگئی تھیں۔

اپنے وقت کی مقبول ناول نگار اے آر خاتون کا اصل نام امت الرّحمٰن خاتون تھا۔ وہ بنیادی طور پر سماجی اور رومانی ناولوں کی مصنفہ تھیں اور ان کی کہانیوں میں مشرقی روایات، خاندانی اقدار اور جذباتی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے ناولوں کی ڈرامائی تشکیل نے انھیں پاکستان بھر میں مشہور کیا۔ یہ ڈرامے پاکستان ہی نہیں‌ بھارت میں بھی مقبول ہوئے۔ اے آر خاتون کے نالوں کے متعدد ایڈیشن اشاعت کے مرحلے سے گزرے اور ڈائجسٹوں میں قسط وار شایع ہوئے جنھیں بہت پسند کیا گیا۔

دہلی میں اے آر خاتون نے سنہ 1900ء میں آنکھ کھولی۔ انھیں ابتدائی عمر ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا اور گھر پر ہی اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مضمون نگاری کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ ان کے مضامین اس وقت کے معروف رسالے "عصمت” میں شایع ہونے لگے جس سے اے آر خاتون میں اعتماد پیدا ہوا اور اس ضمن میں حوصلہ افزائی نے انھیں ناول تحریر کرنے پر آمادہ کیا۔ 1929ء میں اے آر خاتون کا پہلا ناول شمع منظرِ عام پر آیا تھا اور یہ بھی برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیب اور اقدار کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس ناول کی مقبولیت کے بعد تصویر کے نام سے ان کی کہانی شائع ہوئی اور پھر اے آر خاتون نے افشاں، چشمہ، ہالا جیسے ناول لکھے اور ہر طرف ان کی دھوم مچ گئی۔ ان کے ناولوں کی سب سے بڑی خوبی سادہ مگر دل کش اسلوب ہے، جو قاری کو گرفت میں‌ لے لیتا ہے۔ ان کی کہانیوں کی بنیاد خواتین کے جذبات، کنبے کی محبت، زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ خاندانی تعلقات پر رکھی گئی ہے۔

افشاں وہ ناول تھا جس کی ڈرامائی تشکیل کا بہت شہرہ ہوا۔ اسی طرح شمع بھی مقبول ترین ثابت ہوا۔ اس زمانہ میں ٹی وی ڈراموں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ نشر ہونے کے اوقات میں سڑکیں‌ سنسان ہوجایا کرتی تھیں۔ کیا عورتیں اور مرد اے آر خاتون کی کہانیوں پر مبنی یہ ڈرامے سبھی میں یکساں مقبول تھے۔ ہندوستانی معاشرے کی جھلک دکھاتے ہوئے اے آر خاتون نے اپنے تمام ناولوں میں مقصدیت اور تعمیری پہلوؤں کو اہمیت دی ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد اے آر خاتون ہجرت کرکے پاکستان آگئی تھیں۔ انھوں نے لاہور میں وفات پائی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں