The news is by your side.

Advertisement

تیری یاد آ گئی غم خوشی میں ڈھل گئے…

آج کے دن لازوال گیتوں کے خالق سرور بارہ بنکوی ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ گئے تھے

سعید الرحمن کا تخلص سُرور تھا جو اپنے آبائی علاقے بارہ بنکی کی نسبت قلم نگری میں سُرور بارہ بنکوی مشہور ہوئے۔

لازوال گیتوں کے اس خالق نے فلم کے لیے مکالمے بھی لکھے اور ہدایت کاری بھی کی۔ تاہم ان کی اصل وجہِ شہرت ان کی شاعری ہے۔

سرور بارہ بنکوی کی عملی زندگی کا آغاز فلموں کے مکالمے لکھنے سے ہوا، بعد میں فلم سازی کی طرف آئے۔

3 اپریل 1980 کو بنگلا دیش سے ان کے انتقال کی خبر آئی۔ آج اردو زبان کے اسی خوب صورت اور لازوال نغموں کے خالق کی برسی ہے۔

سرور بارہ بنکوی کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں‌ ہوتا تھا جب کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے بھی ان کی کاوشیں یاد رکھی جائیں گی۔ مشہور پاکستانی فلم “آخری اسٹیشن” انہی کی کاوش تھی۔

“تیری یاد آ گئی غم خوشی میں ڈھل گئے”، “ہمیں کھو کر بہت پچھتاؤ گے جب ہم نہیں ہوں گے”، اور “کبھی میں سوچتا ہوں کچھ نہ کچھ کہوں، پھر یہ سوچتا ہوں کیوں نہ چپ رہوں” جیسے رسیلے اور لافانی گیت سرور بارہ بنکوی کی تخلیق ہیں۔

سُرور بارہ بنکوی کی ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔

 

نہ کسی  کو  فکرِ منزل، نہ  کہیں  سراغِ جادہ
یہ عجیب  کارواں ہے، جو رواں ہے بے ارادہ

یہی لوگ ہیں،ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی  ڈال کر  نقابیں،  کبھی اوڑھ  کر لِبادہ

مِرے روز و شب یہی ہیں، کہ مجھی تک آرہی ہیں
تِرے حُسن کی ضیائیں کبھی کم، کبھی زیادہ

سرِ انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
وہ نِگہ! جو درحقیقت، تھی نِگاہ سے زیادہ

ہو برائے شامِ ہجراں، لبِ ناز سے فروزاں!
کوئی ایک شمعِ پیماں، کوئی اِک چراغِ وعدہ

Comments

یہ بھی پڑھیں