تذکرةُ الخواتین اردو ادبیات میں اہمیت کی حامل وہ تصنیف ہے، جس کے ذریعے ہم کلاسیکی دور کی شاعرات سے واقف ہوتے ہیں۔ اس کے مؤلف مصورِ درد مولوی عبد الباری آسی ہیں۔ انھوں نے بڑی محنت اور تحقیق سے ہندوستان اور فارس کی مشہور شاعرات کا تذکرہ مع نمونۂ کلام اکٹھا کیا تھا۔
اس کتاب کے ابتدائیہ میں آسی مرحوم لکھتے ہیں، اتفاق سے جس قدر تذکرے دیکھے گئے ان میں زیادہ تر حصہ مردوں کے کلام کا ہوتا ہے بلکہ زیادہ کیا تمام تذکروں کی بنا اسی پر ہے مگر حقیقتاً یہ ایک قسم کی نا انصافی ہے۔ کوئی سبب نہیں معلوم ہوتا کہ اس دورِ ترقی میں جب ہر شے برابر ترقی پذیر ہے اس خیال کو صرف دماغ تک محدود رکھا جائے۔ یقیناً یہ ایک صریحی ظلم ہو گا۔ آسی صاحب نے اپنی مشکلات اور اس دور کی روایات کے پیشِ نظر لکھا ہے کہ ان(شاعرات) کے صحیح صحیح حالات ملنا دشوار تر ہیں چوں کہ نہ وہ خود بتا سکتی ہیں نہ کوئی اور، نہ دل کے راز معلوم کرنے کا ابھی تک کوئی ایسا آلہ دریافت ہوا جو گھر بیٹھے ہر شاعرہ کا حال ہم پر آئینہ کر دے اور اگر فی المثل کوئی راز معلوم ہو بھی جائے تو افشائے راز نہایت ہی سفیہانہ حرکت اور بے ہودگی ہے لہٰذا میں اوّل تو صرف نام وغیرہ پر ہی اکتفا کروں گا اور جہاں کہیں ضرورت ہو گی تو معمولی معمولی حالات لکھ دوں گا البتہ جہاں تک ممکن ہو گا ان کے کلام کے انتخاب کی بہترین کوشش کروں گا۔
مولانا آسی کی کتاب سے چند شاعرات کا تذکرہ پیشِ خدمت ہے۔
اچپلؔ
ہینگین جان طوائف کا تخلص تھا جو اپنے زمانہ کی ہم پیشہ عورتوں میں نہایت ہی مشہور تھی۔ موسیقی میں اس کو کامل مہارت تھی یہاں تک کہ جب شب کو تعلیم لیتی تھی تو گویا راستہ چلنے والوں کو عشق و عاشقی کی تعلیم دیتی تھی۔ برآمدہ کے نیچے ایک ہجوم عام ہوتا تھا۔ اکثر عاشقانِ رنگین مزاج اس کے ہاتھ سے تباہی کی حدوں میں جا پہنچے تھے، ہر قسم کے لوگوں کا مجمع رہتا تھا۔ صورت پرست شاعر بھی جاتے تھے، اپنا اپنا کلام اس کو دیتے اور موسیقی کے ساتھ سنتے تھے۔ انھیں کے فیضِ صحبت نے بمصداق کہ رنگ ہمنشیں در من اثر کرد شاعر بھی بنا دیا تھا وگرنہ من ہمان حاکم کہ ہستم کا مضمون تھا، بارہ سو ساٹھ (ہجری) کے بعد انتقال ہوا۔
مصنّف تذکرۂ چمن انداز و تذکرۃُ الشاعرات نے صرف ایک شعر نقل کیا ہے۔
ہے عیش اس کے جی کو اجی غم بہت ہے یاں
شادی وہاں رچائی ہے ماتم بہت ہے یاں
مگر میری معلومات کا ذریعہ اس سے کچھ زیادہ وسیع ہے۔ مجھ سے جن بزرگ نے یہ حالات بیان کیے وہ آج ہزاروں من خاک کے نیچے سو رہے ہیں۔ وہ مدتوں خود اس کے مکان پر گئے، اس کا گانا سنا، اس کا کلام سنا۔ اکثر یاد کیا کرتے تھے، کبھی ہنس ہنس کر یہ شعر بھی پڑھتے تھے اور آپ ہی آپ مزہ لیتے تھے۔
آپ سے بات بھی کرے کوئی
یہ بھلا کیا مجال ہے صاحب
جان کوئی خوش سے دیتا ہے
کیا نِرالا سوال ہے صاحب
خاک سے ٹُک اٹھائیے اُس کو
دل مرا پائمال ہے صاحب
احمدیؔ
سونی پت جو نواح دہلی میں مشہور و معروف مردم خیز قصبہ ہے اس میں یہ شاعرۂ نادرہ پیدا ہوئی۔ اولاً تعلیم و تعلم کی طرف طبیعت راغب رہی۔ اس کے بعد شعر و شاعری کی طرف طبیعت کھنچ آئی۔ ایک شریف گھرانے سے تھی اور ایک تعلیم یافتہ امیر زادہ کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔ پورا دیوان مرتب کر لیا تھا مگر چونکہ ان کے شوہر کو شاعری کی طرف میلان نہ تھا، نہ اس زمانہ میں شریف مستورات کی شاعری کچھ استحسانی نظر سے دیکھی جاتی تھی، اس واسطے سنا گیا ہے کہ ان کا دیوان غائب کر دیا گیا اور اسی غم میں احمدی بیگم بیمار ہوئیں، غم کی فراوانی سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہمیشہ تپ رہنے لگی۔ ہوتے ہوتے انجام وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ دِق ہوئی اور انتقال کر گئیں۔ دو شعر موجود ہیں جو لکھے دیتا ہوں۔
اُسے اس خطا پر پشیماں کیا
محبت نے انساں کو انساں کیا
چمن میں بھی مجنون نے احمدی
گلوں کی طرح چاک داماں کیا
آرائشؔ
دہلی کی ایک شاندار بازاری تھی مگر پردہ نشینوں کو بھی مات کر دیا کہ مصنف تذکرۂ چمن انداز کو اس کا حال اس کا نام اس کے زمانے میں بھی معلوم نہ ہو سکا۔ بالفاظ دیگر صرف یہی لکھ کر سبکدوش ہو گئے کہ پہلے بازاری تھیں اب خانہ نشین ہیں۔ کبھی زیبِ بازار تھیں اب آرائش خانہ ہیں۔ صرف ایک شعر مل سکا ہے۔ اسی کو بطریق یادگار یا خانہ پری درج کرتا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ایک شعر کے لکھنے سے نہ تسلی ہوئی اور نہ شعر لکھنے کے قابل تھا مگر پھر بھی سچی اور دل کو لگنے والی بات کہی ہے مجبوراً سنیے۔
جوانی میں بھلی معلوم ہوتی تھی یہ آرایش
بڑھاپے میں تو منہدی مسی کی ہے خاک زیبایش
اسیرؔ
امیر بیگم نام تھا۔ شاہ فخر الدین صاحب قدس سّرہ (جو دلّی کے ایک مشہور و معروف بزرگ تھے) کی شاگرد تھیں، بیگم چغتائیہ میں تھیں۔ حاضر جواب، بذلہ سنج، لطیفہ گو، خوش مذاق شاعرہ تھیں۔
کسی دن ایک شخص نے ان کو یہ مصرع سنایا ع
بیقراری قرار ہے اپنا
اس حاضر جواب شوخ مزاج نے فوراً اس پر یہ مصرع لگایا اور سنایا۔ بدقسمتی سے اس وقت میں صرف وہی دو شعر پیش کر سکتا ہوں جو فی البدیہہ کہے گئے تھے۔
عشق دار و مدار ہے اپنا
بیقراری قرار ہے اپنا
خاک میں مل گئی ہوں جس پہ اسیرؔ
اسی دل میں غبار ہے اپنا
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو ہوا چلتی ہے اس کے اثر سے کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ پردہ نشین ہیں مگر یہ بھی صنعت مراعات النظیر کے جال میں الجھی ہوئی ہیں۔ دوسرا شعر صاف اس کی گواہی دیتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


