غالباً ۱۸۹۲ء یا ۹۳ء کا ذکر ہے جب میں مدرسۃ العلوم مسلمانانِ علی گڑھ میں طالبِ علم تھا۔ مولانا حالیؔ اس زمانے میں یونین کی پاس کی بنگلیا میں مقیم تھے۔ میں اس سال تعطیلوں کے زمانہ میں وطن نہیں گیا تھا تو بورڈنگ ہاؤس ہی میں رہا۔ اکثر مغرب کے بعد کچھ دیر کے لیے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔
مولوی صاحب اس زمانے میں ‘‘حیاتِ جاوید’’ کی تالیف میں مصروف تھے اور ساتھ ہی ساتھ ‘‘یادگارِ غالب’’ کو بھی ترتیب دے رہے تھے۔ انہیں دنوں میں میرے ایک عزیز میرے ہاں مہمان تھے، میں جو ایک دن مولانا کے ہاں جانے لگا تو وہ بھی میرے ساتھ ہو لیے۔ کچھ دیر مولانا سے بات چیت ہوتی رہی۔ لوٹتے وقت رستے میں عزیز مہمان فرمانے لگے کہ ملنے سے اور باتوں سے تو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ وہی مولوی حالیؔ ہیں جنھوں نے ‘‘مسدس’’ لکھا ہے۔ یہ مولانا کی فطری سادگی تھی جو اس خیال کا باعث ہوئی۔
ایک دوسرا واقعہ جو میری آنکھوں کے سامنے پیش آیا اور جس کا ذکر میں نے کسی دوسرے موقع پر کیا ہے۔ یہ ۱۹۰۵ء کا ذکر ہے، جب غفران مآب اعلیٰ حضرت مرحوم کی جوبلی بلدۂ حیدرآباد (دکن) اور تمام ریاست میں بڑے جوش اور شوق سے منائی جارہی تھی۔ مولانا حالیؔ بھی اس حویلی میں سرکار کی طرف سے مدعو کیے گئے تھے اور نظام کلب کے ایک حصے میں ٹھہرائے گئے۔ زمانۂ قیام میں اکثر لوگ صبح سے شام تک ان سے ملنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ ایک صاحب جو علی گڑھ کالج کے گریجویٹ اور حیدرآباد (دکن) میں ایک معزز عہدے پر فائز تھے، مولانا سے ملنے آئے، ٹم ٹم پر سوار تھے۔ زینے کے قریب اترنا چاہتے تھے۔ سائیس کی شامت آئی تو اس نے گاڑی دو قدم آگے جاکر کھڑی کی۔ یہ حضرت اس ذرا سی چوک پر آپے سے باہر ہوگئے اور ساڑ ساڑ کئی ہنٹر غریب کے رسید کردیے۔ مولانا یہ نظارہ اوپر برآمدہ میں کھڑے دیکھ رہے تھے، اس کے بعد وہ کھٹ کھٹ کرکے سیڑھیوں پر سے چڑھ کر اوپر آئے۔ مولانا سے ملے۔ مزاج پُرسی کی اور کچھ دیر باتیں کرکے رخصت ہوگئے۔
میں دیکھ رہا تھا۔ مولانا کا چہرہ بالکل متغیر تھا، وہ برآمدے میں ٹہلتے جاتے تھے اور کہتے تھے ‘‘ہائے ظالم نے کیا کیا۔’’ اس روز کھانا بھی اچھی طرح نہ کھا سکے، کھانے کے بعد قیلولے کی عادت تھی۔ وہ بھی نصیب نہ ہوا۔ فرماتے تھے ‘‘یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ ہنٹر کسی نے میری پیٹھ پر مارے ہیں۔’’ اس کیفیت سے جو کرب اور درد مولانا کو تھا شاید اس بدنصیب سائیس کو بھی نہ ہوا ہوگا۔
مولانا کی سیرت میں یہ دو ممتاز خصوصیتیں تھیں۔ ایک سادگی اور دوسری درد دلی۔ اور یہی شان ان کے کلام میں ہے۔ ان کی سیرت اور ان کا کلام ایک ہے یا یوں سمجھیے کہ ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ مجھے اپنے زمانے کے نامور اصحاب اور اپنی قوم کے اکثر بڑے شخصوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن مولانا حالیؔ جیسا پاک سیرت اور خصائل کا بزرگ مجھے ابھی تک کوئی نہیں ملا۔ نواب عماد الملک فرمایا کرتے تھے کہ سرسید کی جماعت میں بحیثیت انسان کے مولانا حالیؔ کا پایہ بہت بلند تھا، اس بات میں سرسید بھی انہیں نہیں پہنچتے تھے۔ جن لوگوں نے انہیں دیکھا ہے یا جو ان سے ملے ہیں وہ ضرور اس قول کی تصدیق کریں گے۔
خاکساری اور فروتنی خلقی تھی، اس قدر بڑے ہونے پر بھی چھوٹے بڑے سب سے جھک کر اور خلوص سے ملتے تھے۔ جو کوئی ان سے ملنے آتا خوش ہوکر جاتا اور پھر عمر بھر ان کے حسنِ اخلاق کا مداح رہتا تھا۔ ان کا رتبہ بڑا تھا مگر انہوں نے کبھی اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھا۔ بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت تو وہ کرتے ہی تھے لیکن بعض اوقات وہ اپنے چھوٹوں کا بھی ادب کرتے تھے۔ طالبِ علمی کے زمانہ میں ایک بار جب وہ علی گڑھ میں مقیم تھے، میں اور مولوی حمید الدین مرحوم ان سے ملنے گئے تو وہ سرو قد تعظیم کے لیے کھڑے ہوگئے۔ ہم اپنے دل میں بہت شرمند ہوئے۔ مولوی حمید الدین نے کہا بھی کہ آپ ہمیں تعظیم دے کر محجوب کرتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ آپ لوگوں کی تعظیم نہ کروں تو کس کی کروں، آئندہ آپ ہی تو قوم کے ناخدا ہونے والے ہیں۔
(بابائے اردو مولوی عبدالحق کے ایک مضمون سے اقتباس)


