ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

آل احمد سرور: ادب کی دنیا کے ایک نابغۂ روزگار کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

اردو کے سر بر آوردہ نقاد کے طور پر آل احمد سرور کا نام ادب کی دنیا میں آج بھی زندہ ہے اور ان کی تصانیف اردو زبان کا سرمایہ تصور کی جاتی ہیں۔ آل احمد سرور کے تنقیدی مضامین نے ایک نسل کے ادبی مذاق کو نکھارا اور ان کے شعور کو بلند کیا۔

آل احمد سرور وسیع مطالعہ کے ساتھ فکر کی گہرائی، تخیل کی بلندی، تجزیہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ اپنے طرزِ تحریر کی بدولت ہم عصر نقادوں میں ممتاز ہوئے۔ 9 فروری 2002ء پروفیسر آل احمد سرور اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی ترویج و توسیع میں بھی آل احمد سرور نے اپنا کردار ادا کیا اور جب جدیدیت نے اپنا رنگ جمایا تو وہ اس میں‌ بھی پیش پیش رہے۔ آلِ احمد سرور کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے ترقّی پسند تحریک، حلقۂ اربابِ ذوق اور جدیدیت جیسے تینوں ادوار دیکھے اور اپنی تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی بصیرت کے مطابق ان کو قبول کیا، لیکن وہ کسی ایک تحریک سے بندھے نہیں رہے۔ سرور صاحب کے بارے میں‌ کہا جاتا ہے کہ بلاشبہ انھوں نے اردو زبان میں‌ تنقید کی نئی شمعیں روشن کیں۔ نقاد و مصنّف، شاعر اور ماہرِ اقبالیات ہی نہیں بحیثیت ادبی صحافی بھی انھوں نے خوب کام کیا۔ وہ کئی جرائد اور ادبی رسائل سے وابستہ رہے جن میں اردو ادب، ہماری زبان بھی شامل ہیں۔

آل احمد سرور 9 ستمبر 1911ء کو اتر پردیش کے علاقہ پیلی بھیت کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنے آبائی علاقہ اور وہاں کی ادبی فضا کے بارے میں ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے بتایا تھا: "شاید یہ بات تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ میرا آبائی وطن بدایوں ہے۔ بدایوں ایک تاریخی شہر ہے اور وہاں کے کھنڈر اور ٹوٹی پھوٹی حویلیاں اب بھی اُس کی گزشتہ عظمت کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ بستی قدیم زمانے سے علماء و فضلا، شعرا اور صوفیائے کرام کا مرکز رہی ہے۔ میرے بچپن کا زمانہ وہیں گزرا۔ میں نے جب آنکھ کھولی تو گھر گھر شعر و شاعری کا چرچا تھا۔ آئے دن مشاعرے ہوتے جس میں باہر سے مشہور شعرا شریک ہونے کے لیے آتے اور بدایوں کے چھوٹے بڑے سبھی اپنا کلام سناتے۔”

ان کا بچپن اور نوعمری کا دور پیلی بھیت کے علاوہ بجنور، سیتا پور، گونڈہ اور غازی پور میں گزرا۔ کیونکہ اُن کے والد کرم احمد کو بسلسلۂ ملازمت مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کرتے رہے تھے۔ تاہم ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی اور بعد میں اسکول کی تعلیم مختلف شہروں‌ میں ہوتی رہی۔ غازی پور کے کوئن وکٹوریہ ہائی اسکول سے آل احمد سرور نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ سرور نے اپنی خود نوشت سوانح "خواب باقی ہیں” میں اپنے بچپن کے واقعات بیان کیے ہیں۔ جس سے اُن کے عادات و اطوار اور علمی استعداد و مشاغل کا پتہ چلتا ہے۔ ان کا حافظہ بہت تیز تھا۔ پڑھائی میں آگے رہتے تھے۔ عام بچوں کی طرح ابتداً کھیل کود سے دل چسپی رہی لیکن آہستہ آہستہ مطالعہ کی طرف زیادہ مائل ہوگئے۔ یہ وہ دور تھا جس میں ہر طرف شعر و ادب کا چرچا تھا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے گھروں میں مطالعہ اور بیت بازی کا رواج تھا اور اسی کا شوق سرور صاحب میں بھی پیدا ہوگیا۔ وہ کتب بینی کے عادی ہوگئے۔ ان کے والد کی انگریزی اور اُردو کی کتابیں مطالعہ کا ذوق بڑھاتی رہیں۔ بعد میں وہ اپنے چچا کے گھر آگرہ منتقل ہو گئے۔ سینٹ جانسن کالج میں ایف۔ ایس۔ سی (انٹرمیڈیٹ سائنس) میں داخلہ لیا۔ آگرہ میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کردیا اور کالج میگزین میں اپنی تخلیقات شائع کروانے لگے جس نے انھیں ساتھی طالبِ‌ علموں میں‌ ممتاز کیا اور کالج میں ادبی انجمن کے ذمہ دار بنا دیے گئے۔ انجمن کے سالانہ مشاعرے میں سرور صاحب کی ملاقات فانی بدایونی، یاس یگانہ چنگیزی، میکش اکبر آبادی سیماب اکبر آبادی، مخمورؔ اکبر آبادی اور مانیؔ جائسی جیسے با کمال شعرا سے ہوئی۔ اسی دوران سینٹ جانسن کالج کے زیر اہتمام انعامی مباحثہ ہوا جس میں سرور صاحب نے حصہ لے کر دوسرا انعام اپنے نام کیا۔ یوں حوصلہ افزائی ہوئی اور پھر وہ بی- ایس۔ سی کا امتحان درجہ دوم میں پاس کرکے انگریزی میں ایم۔ اے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے۔ دراصل یہاں ان کے والد کا بھی تبادلہ چکا تھا۔ یہاں سرور نے علمی و ادبی مقابلوں اور مذاکروں سبھی میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ سرور نے جس وقت علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اُس وقت سر راس مسعود یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ اور یونیورسٹی میں اُن کے زیر نگرانی زائد از نصابی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ سرور کے ادبی ذوق کو دیکھتے ہوئے انھیں علی گڑھ میگزین (اُردو ) کا ایڈیٹر مقرر کردیا گیا۔ انگریزی میں‌ بڑی دستگاہ تھی اور یونیورسٹی میں ہونے والے مباحثوں میں وہ انعامات حاصل کرتے رہے۔ اس بارے میں‌ سرور لکھتے ہیں: "ہر سال ایک انگریزی میں اور ایک اردو میں آل انڈیا ڈبیٹ ہوا کرتا تھا۔ 1933ء کے آخر میں جب انعامی مقابلے ہوئے تو سب سے زیادہ مجھے اور میرے بعد خواجہ احمد عباس کو انعام ملے۔”

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔ اے انگریزی کرنے کے بعد آل احمد سرور شعبۂ انگریزی میں بہ حیثیت لکچرر فرائض انجام دینے لگے۔ بعد میں ایم۔ اے اُردو کیا اور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لکچرر ہوگئے۔ اسی زمانے میں انھیں ریڈیو پر تقاریر کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ تقاریر کافی مقبول ہوئیں۔ بعد میں ان کی یہ تقریریں زیور طباعت سے آراستہ کی گئیں۔ شعبۂ اُردو سے سبکدوشی کے بعد آل احمد سرور انجمن ترقی اُردو کی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ پھر انہیں شملہ کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں وزیٹنگ فیلو مقرر کیا گیا۔ وہ بھارت کے کئی شہروں میں ادبی پروگراموں اور مباحثوں کے لیے مدعو کیے جاتے اور ان کی تخلیقات بھی شایع ہوتی رہیں جن کی بدولت وہ ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پر پہچانے گئے۔ تقسیم ہند کے بعد سرور صاحب بھارت ہی میں رہے تھے۔

پروفیسر آل احمد سرور کے مضامین کی کتابی شکل اور ان کی دوسری تصانیف میں پہچان اور پرکھ، خواب باقی ہیں (خود نوشت سوانح)، خواب اور خلش (شعری مجموعہ)، خطبے کچھ، کچھ مقالے، دانشور اقبال، ( مجموعہ تنقیدات، اور افکار کے دیے، نئے اور پرانے نظریے، تنقید کیا ہے، ادب اور نظریہ، مسرت سے بصیرت تک، اقبال کا نظریہ اور شاعری، ذوقِ جنوں (شاعری) شامل ہیں۔

بھارتی حکومت اور ادبی تنظیموں نے آل احمد سرور کی زبان و ادب کے لیے خدمات کے اعتراف میں سند و اعزازات سے نوازا تھا۔ اتر پردیش اُردو اکیڈمی سے چار مرتبہ اور ساہتیہ اکیڈمی سے ایک مرتبہ انعام سے نوازے گئے۔ 1992 میں حکومت نے آل احمد سرور کو پدم بھوشن کا خطاب دیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں