اردو زبان و ادب میں گوپال متل کو بحیثیت شاعر، نقاد اور قابل مدیر یاد کیا جاتا ہے۔ گوپال متل نے شاعری کے ساتھ ساتھ جو تنقید لکھی، اس نے کئی نئے نظریاتی مباحث کو بھی جنم دیا۔ انھیں اپنے عہد کے مشاہیر اور بڑے اہلِ قلم کی رفاقت اور صحبت نصیب ہوئی اور ان سے بہت کچھ سیکھا اور ادبی صحافت میں مقام پایا۔
یہاں ہم گوپال متل کی ایک رسالے میں شایع شدہ خودنوشت اور یادوں پر مبنی تحریر سے چند پارے نقل کررہے ہیں جو ان کی ادبی زندگی سے متعلق ہیں۔ گوپال متل لکھتے ہیں:
ادبی زندگی از سر نو شروع کرنے میں احسان دانش میرے معاون ہوئے۔ انھوں نے میرا تعارف مولانا تاجور نجیب آبادی سے جنھیں بعد میں شمس العلما کا خطاب ملا، کرایا۔ غالباً تیسری یا چوتھی ملاقات میں مولانا تاجور نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ان کے ادبی جریدے شاہکار کی ادارت سنبھال لوں۔ یہ پیشکش میرے لیے نعمت سے کم نہیں تھی اور میں نے اسے شکر گزاری کے ساتھ قبول کر لیا۔
شاہکار میں میری تنخواہ صرف 30 روپے تھی لیکن دفتر میں میرے لیے باقاعدہ حاضری ضروری نہیں تھی۔ میری ذمہ داری صرف اتنی تھی کہ پرچہ مرتب کر کے اسے بر وقت شائع کر دوں۔ شاہکار کے بیشتر لکھنے والے ایسے تھے جن کی تحریروں پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ مجھے ملازم رکھتے وقت مولانا نے یہ وعدہ بھی فرمایا تھا کہ تنخواہ کے علاوہ مجھے منافع میں بھی 25 فیصدی کا شریک رکھا جائے گا لیکن جتنی کی مدت میں وہاں رہا مولانا کے بیان کے مطابق پرچے میں خسارہ ہی ہو تا رہا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے نہ تو ان کے وعدے پر کبھی سنجیدگی سے بھروسا کیا اور نہ کبھی اس کی یاد دہانی ہی
کرائی۔
تنخواہ کی کمی کے مسئلے کا حل جلدی نکل آیا۔ شاہکار کے دفتر کے قریب میں ایک مکان پر جگت لکشمی کا سائن بورڈ نظر آیا۔ یہ ایک ہفت روزه فلمی جریدہ تھا جسے کرن دیوان، جو آگے چل کر فلمی ہیرو بنے، نکال رہے تھے۔ کرن دیوان سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ انھیں کسی ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو ان کے اخبار کے لیے اڈیٹوریل وغیرہ لکھ دیا کرے۔ میں نے 30 روپے ماہوار پر یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ جگت لکشمی باقاعدہ شائع نہیں ہوتا تھا اور کرن دیوان اکثر مالی مشکلات کا شکار رہتے تھے۔ مجھے تںخواہ بھی باقاعدگی سے نہیں ملتی تھی اور اوسطاً پچیس روپے ماہوار ہی ملتے تھے لیکن دفتر کو کرن دیوان خوب سجا کر رکھتے تھے۔ میں اپنا زیادہ وقت وہیں گزارتا اور شاہکار کا کام بھی وہیں بیٹھ کر کرتا تھا۔ ملنے والوں کا بھی جو اکثر شاہکار کے سلسلے میں آتے تھے، وہیں جمگھٹا رہتا تھا۔
مولانا تاجور کا سلوک میرے ساتھ بہت مشفقانہ تھا۔ انھوں نے شاہکار کے قارئین سے میرا تعارف بہت اچھے لفظوں میں کرایا اور میری نثر اور میری شاعری کی دل کھول کر تعریف کی۔ ایک مرتبہ تو انھوں نے میرے ایک شعر پر ایک اچھا خاصا مضمون لکھ دیا۔ شعر تھا:
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آرہی ہے تری سادگی پر
میرا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کی مقبولیت میں مولانا کی تحریر کا بڑا دخل ہے۔ ادارتی معاملات میں بھی مولانا تاجور نے مجھے پوری آزادی دے رکھی تھی۔ میرا نام پرچے پر مدیر معاون کی حیثیت سے چھپتا تھا لیکن مضمون نگاروں کو خطوط میں اپنے ہی نام سے لکھتا تھا اور مضامین کو رد یا قبول کرنے کا بھی مجھے پورا اختیار تھا۔
مولانا تاجور کا دل مذہبی اور علاقائی تعصب سے بالکل پاک تھا۔ پنجاب میں اردو کے فروغ میں ان کا حصہ مولوی محمد حسین آزاد کے بعد غالباً سب سے زیادہ ہے۔ ان کے دوستوں اور نیاز مندوں میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندو اور سکھ تھے اور یوپی والوں سے کہیں زیادہ پنجابی۔
دفتری امور کے سلسلے میں مولانا سے کچھ زیادہ ملنا نہیں ہوتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کے فیضانِ صحبت سے محروم رہا۔ جب بھی کوئی اہم ادیب یا شاعر ان سے ملنے آتا وہ مجھے بھی بلا لیتے۔ شام کے بعد یوں بھی میں اکثر ان سے ملنے چلا جاتا تھا۔ اگر میں یہ اعتراف نہ کروں تو بڑی ناشکر گزاری ہو گی کہ میرے ادبی ذوق کی نشوونما میں ان صحبتوں کا بڑا دخل ہے۔
مولانا دھڑلے کے آدمی تھے اور ظاہر ہے کہ ایسا آدمی دوستوں کے ساتھ دشمن بھی بناتا ہے اور دشمن دوستوں سے زیادہ بااصول اور سرگرم ہوتے ہیں۔ مولانا کے سب سے بڑے حریف حفیظ جالندھری تھے۔ دونوں میں ہمیشہ چپقلش رہی۔ لاہور کے تقریباً سبھی ادیب اور شاعر ان میں سے کسی ایک کے دوست اور دوسرے کے دشمن تھے۔ میں ان معدودے چند لوگوں میں تھا جن کے ان دونوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ یاد پڑتا ہے کہ جب میں نے شاہکار کی ملازمت اختیار کی تو اس کے بعد پہلی ہی ملاقات میں حفیظ نے پوچھا تھا:
تم وہاں بیٹھ کر میری برائی کرتے ہو گے؟ جواب میں میں نے کہا تھا:
کیا کبھی میں نے تمہارے سامنے تاجور کی برائی کی ہے؟ میرے اس جواب نے حفیظ کو مطمئن کر دیا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ میں نے یہ اصول بنائے رکھا کہ ان کی باہمی چپقلش سے الگ رہ کر دونوں ہی کے ساتھ اپنے نیاز مندانہ تعلقات قائم رکھوں۔


