The news is by your side.

Advertisement

تاریخ عندلیب شادانی کا خوابِ جوانی نہ دہرا سکی!

اردو زبان کے نام ور شاعر، ادیب، نقاد، محقق اور مترجم ڈاکٹر عندلیب شادانی 29 جولائی 1969 کو ڈھاکا میں انتقال کر گئے تھے۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ عندلیب شادانی کا تعلق رام پور سے تھا جہاں‌ انھوں نے یکم مارچ 1904 کو آنکھ کھولی تھی۔

ڈاکٹر عندلیب شادانی ڈھاکا یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور فارسی کے سربراہ رہے۔ حکومت پاکستان نے اردو زبان و ادب کے لیے خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر عندلیب شادانی کو ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

ان کا مجموعہ کلام ’’نشاط رفتہ‘‘اور دیگر تصانیف میں نقش بدیع، نوش و نیش، سچی کہانیاں شامل ہیں۔

ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا:

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خوابِ جوانی تھوڑا سا دہرائے تو…..

Comments

یہ بھی پڑھیں