The news is by your side.

Advertisement

جذبات کی وارفتگی کے ساتھ دھیما پن اسد رضا سحر کی شاعری کا وصف ہے

احمد پور سیال کے اسد رضا سحر کو غزل کہنے کا سلیقہ بھی آتا ہے اور خیال آفرینی کے ساتھ ان کے اشعار میں تازگی، لطافت اور روایت و جدّت کا حسین امتزاج بھی ملتا ہے۔ غزل جیسی مقبول صنفِ سخن کے علاوہ انھوں نے نظم کو بھی اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔

اسد رضا سحر پنجاب کے ضلع جھنگ کے علاقے احمد پور سیال سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تاریخِ پیدائش 15 دسمبر 1986ء ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے شہر سے حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ وہ ڈویلپمنٹ سپروائزر کی حیثیت سے لوکل گورنمنٹ سے وابستہ ہیں۔

اسد رضا سحر نے زمانۂ طالبِ علمی میں شاعری کا آغاز کیا۔ غزل کے علاوہ ان کے لکھے ہوئے نوحے اور منقبتیں بھی منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں۔ اسد کا ایک مجموعۂ کلام “ہمیں کر گئے تنہا” 2011 میں شایع ہوا تھا جب کہ دوسرا مجموعہ “یادوں کے مقتل” کے عنوان سے زیرِ طبع ہے۔

اسد رضا سحر کی شاعری میں ان کے مشاہدات اور تجربات کی جھلک اور فنّی پختگی نظر آتی ہے۔ ان کا لہجہ دھیما، اشعار میں روانی کے ساتھ جذبات کی وارفتگی لائقِ توجہ ہے۔ ان کے کلام سے انتخاب پیشِ خدمت ہے۔

غزل
مشکل سہی وجود سے باہر نکل کے آ
زندان کی حدود سے باہر نکل کے آ

مجھ پر یہ لفظ ہُو بھی ابھی تک نہیں کھلا
واعظ ذرا سجود سے باہر نکل کے آ

پہنے ہوئے ہیں سب نے یہاں پر سیہ لباس
مطرب تُو اب سرود سے باہر نکل کے آ

کرتا ہے خود کو کس لیے روپوش سائیاں
اک بار اس جمود سے باہر نکل کے آ

حر سا مقام تجھ کو ملے گا اے جنگجو
باطل کے تو جنود سے باہر نکل کے آ

ایک اور غزل دیکھیے

جب ابلتا ہے کسی یاد کا لاوا سائیں
روتا رہتا ہوں کہیں بیٹھ کے تنہا سائیں

پہلا فاقہ ہے چلو آج گزر جائے گا
کھا رہا ہے مجھے اندیشۂ فردا سائیں

دل کی دہلیز پہ رقصاں ہے کئی روز سے یہ
آج کرتا ہوں تری یاد کو اِغوا سائیں

موجزن تجھ میں بظاہر تو تجلّی ہے مگر
خشک آنکھیں تری کہلاتی ہیں دریا سائیں

نام لکھے گا مؤرخ بھی مرا قیس کے ساتھ
اتنا دن رات تجھے دشت میں ڈھونڈا سائیں

تیری بستی کے جو پتّھر ہیں وہ زرقون عقیق
تیرے کوچے کی جو مٹی ہے وہ سونا سائیں

یہ کلام ملاحظہ کیجیے

زخمی ہیں پاؤں پاؤں کے چھالوں کی خیر ہو
اے خطۂ جنوں ترے رستوں کی خیر ہو

گا کر کسی وجود کا نغمہ تمام رات
جلتے ہیں جو ہوا میں چراغوں کی خیر ہو

دیتے ہیں روز مجھ کو نئے ذائقوں کے زخم
اے شہرِ بے اماں ترے بندوں کی خیر ہو

ہجرت کا کہہ رہے تھے پرندے تمام تر
گاؤں میں جو کھڑے ہیں درختوں کی خیر ہو

دیتے ہیں تجربہ بھی دعاؤں کےساتھ ساتھ
ملت کے سارے بوڑھے بزرگوں کی خیر ہو

غصے میں جا رہے تھے شکاری شکار کو
یا رب مری دعا ہے پرندوں کی خیر ہو

کرتے ہیں جو بھی شاہ کا ماتم مرے خدا
سارے ہی بے مثال ہیں ساروں کی خیر ہو

Comments

یہ بھی پڑھیں