ناسخؔ و آتشؔ کے فنی شعور کے متعلق ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسے محض لفظی بازی گری کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے لیے چند تاریخی وجوہ بھی ہیں۔
لکھنؤ اودھی کے سمندر میں اردو کا جزیرہ تھا مگر ایسا جزیرہ جو خود ایک انجمن اور ادارہ بن گیا تھا۔ اس ادارے کو دہلی سے زیادہ فارغ البالی اور رونق ملی تھی۔ اس کے آراستہ کرنے اور سنوارنے میں دہلی کے استادوں کا ہاتھ تھا مگر جب دربار کی قدروں نے اس پر اثر کرنا شروع کیا اور لکھنؤ کو اپنے آزاد، خود مختار اور مستقل وجود کا احساس ہوا تو اس کے لیے دوسروں سے مختلف فکر و فن کے سانچوں کی ضرورت پڑی۔
فکر میں وسعت اور تازگی اسی راہ سے آئی۔ فن میں ہمواری کا بھی یہی راز ہے۔ گو اس ہمواری کی خاطر بہت سی لطافتوں کا خون اسی وجہ سے ہو گیا کہ لکھنؤ کے پیچھے ایک علاقے کی بول چال کا وہ سہارا نہ تھا جو دہلی میں تھا یعنی فن کے جو قواعد ناسخؔ نے بنائے اور جن پر آتشؔ نے عمل کیا اور وہ ایک تاریخی ضرورت کو پورا کرتے تھے مگر ان قواعد کا لکھنؤ کے ماحول میں اردو کے دامن کو وسیع کرنے کے بعد اسے محدود کرنا بھی قدرتی تھا۔ اگر ہم کسی دور کے مخصوص حالات کو سمجھ لیں تو اس کی خوبی اور خامی دونوں کے متعلق زیادہ معروضی نقطۂ نظر پیدا کر سکتے ہیں۔
ناسخؔ کے اثر سے اردو شاعری میں قاموسیت کی جو لے آئی ہے اس کا اثر آتشؔ پر بھی پڑا مگر آتشؔ بڑی حد تک اس اثر سے آزاد رہے۔ ان کے اثر سے بول چال کی زبان اور محاورے کی وہ شان آئی جس نے شوقؔ لکھنوی اور خلیق و انیس کے کلام میں اپنا رنگ دکھایا۔ آزادؔ نے آب حیات میں وہ لطیفے لکھے ہیں۔ دونوں سے آتشؔ کے چلن کی سمت کا علم معلوم ہوتا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے،
دختر رز مری مونس ہے مری ہمدم ہے
میں جہاں گیر ہوں وہ نور جہاں بیگم ہے
اعتراض یہ کیا گیا کہ بیگم ترکی لفظ ہے اور اس کا تلفظ گاف کے پیش کے ساتھ ہے۔ آتشؔ نے جواب دیا کہ اردو میں بیگم ہی مستعمل ہے۔ جب ہم ترکی میں لکھیں گے تو بیگم کہیں گے۔
دوسرا لطیفہ دبیر کے ساتھ ہوا۔ دبیرؔ نے ایک مرثیہ پڑھا جس میں ایک شامی پہلوان کی آمد بڑی دھوم دھام سے بیان کی تھی۔ مجلس میں خوب واہ واہ ہوئی مگر جب دبیرؔ آتشؔ سے داد لینے آئے تو آتشؔ نے کہا کہ یہ مرثیہ تھا یا لندھور بن سعدان کی داستان۔
ان دونوں مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باوجود ناسخؔ کی اصلاحوں سے متاثر ہونے کے آتشؔ نے اردو پن کو عزیز رکھا اور ہر صنفِ سخن کے تقاضوں کو برتا۔
(آل احمد سرور کے تنقیدی مضمون سے اقتباس)


