احسان دانش کو شاعرِ مزدور کہا جاتا ہے۔ وہ غربت اور تنگ دستی سے تاعمر لڑتے رہے۔ ان کی خود نوشت ‘جہانِ دانش’ کو ایک بہترین سوانح عمری مانا جاتا ہے جس میں احسان دانش نے اپنے والد کے ہاتھوں بڑی عمر میں بھی اپنے ساتھ مار پیٹ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
یہ تحریر ایک طرف تو اس زمانہ کے خاندانی نظام اور والدین کے رعب و دبدبے کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ اور دوسری جانب ایک الم ناک واقعہ بھی بیان کرتی ہے جس کا تعلق احسان دانش کی ذات سے ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
میرے والد صاحب بڑے مذہبی اور زود رنج قسم کے انسان تھے۔ میں صاحبِ اولاد ہو گیا تھا لیکن ان کی مار پیٹ برابر جاری تھی۔ بعض اوقات تو جب وہ مجھے پیٹتے تو ہمسائے آکر چھڑانے لگتے اور میں انھیں منع کرتا۔ آخر یہ میرے والد ہیں، ان کے ہاتھ سے مار کھانا تو میرے لیے سعادت ہے۔ آپ اپنا کام کریں۔ میرے والد کے ایک دست فیروزی لال نامی باغپت کے رہنے والے تھے جو انبالہ چلے آئے تھے، کبھی کبھی والد صاحب اُن کے یہاں بھی چلے جاتے اور وہ اپنے والد کی طرح ان کا ادب کرتے۔ بعض بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ یہاں میری طبیعت خراب ہوئی اور ادھر فیروزی لال کا خط آگیا کہ آپ تشریف لائیں، تو والد صاحب مجھے خدا کے سپرد کر کے خود انبالہ چلے گئے۔ پھر کبھی کبھی تو مہینے مہینے وہاں رہتے۔
فیروزی لال سے میں بھی ملا ہوں، وہ نہایت شریف اور قدر شناس انسان تھے اور مجھ سے وہ بھائی کی طرح برتاؤ روا ر کھتے تھے۔ زندگی کے روز و شب تھے کہ بسر ہوتے جا رہے تھے، بعض وقت جب ماحول کی گرفت سخت ہوتی تو ایسا محسوس ہوتا کہ شام کے ستارے سے صبح کے سورج کا فاصلہ جان لیوا سفر ہے اور جب ہاتھ تنگ نہ ہوتا تو نگاہیں ستاروں اور پھولوں سے زیادہ خدوخال کی طرف لپکتی رہتیں۔ شاید اس لیے کہ میرے اندر کا شاعر حسن کا پیاسا تھا۔
ایک دفعہ میں غالباً بنگلور (میسور) مشاعرے میں گیا ہوا تھا اور والد صاحب کے پاس پندرہ روز تک میری خیریت کا خط نہ جا سکا۔ ایک تو انھیں میری طرف سے پریشانی تھی دوسرے تبدیلیِ موسم سے اُن کی طبیعت بھی اچھی نہیں تھی۔ نہ جانے کسی ظالم نے ان سے جا کے کہہ دیا کہ احسان تو بھوپال کے مشاعرے سے واپس آتے ہوئے ریل گاڑی میں فوت ہو گیا اور اس کی لاش کو لوگوں نے جھانسی کے اسٹیشن پہ ہی دفنا دیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ ایک دم انہیں پسینہ آیا اور سقوطِ قلب سے راہی عدم ہوگئے۔ جب میں بنگلور سے بجنور کے مشاعرے میں آیا تو اسی دن شام کو مجھے ایک دوست نے والد صاحب کے انتقال کا تار بھیجا اور میں بجنور سے رات کو روانہ ہوکر دوسرے دن دو بجے کاندھلے پہنچ گیا، لیکن اس وقت وہ سپرد خاک کیے جا چکے تھے۔ میں نے اُن کی قبر پر فاتحہ پڑھا اور پہلی بار مجھے اپنی بیکسی اور بے بسی کا احساس ہوا۔ باپ ہونے کے علاوہ وہ استاد اور زندگی کے سفر میں میرے اعلیٰ درجے کے مشیر بھی تھے۔ میں نے اُن کے انتقال سے محسوس کیا کہ جیسے خضر علیہ السلام نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا، میرے سامنے حد نظر تک ایک دشتِ بے جادہ پھیلا ہوا ہے اور چہار دیواری زمین بوس ہو گئی ہے۔


