The news is by your side.

Advertisement

مشاعرے کے منتظم کو شاعرِ مزدور کا جواب

احسان دانش اردو زبان کے مقبول شاعر تھے جنھوں نے معاش کی سختیوں‌ اور زندگی کی تلخیوں‌ کو اپنے کلام میں یوں‌ سمویا کہ وہ ہر خاص و عام کے قریب ہوگئے۔ ان کے تجربات اور مشاہدات اصنافِ سخن کے جس سانچے میں‌ ڈھلے مقبول ہوئے۔

احسان دانش مڈل پاس تھے اور ساری زندگی معمولی نوکری اور مزدوری کرتے گزری۔ کبھی چوکیداری کی تو کہیں‌ مالی رہے، کسی کا بوجھ ڈھو کر روٹی کا انتظام کیا تو کبھی صفائی ستھرائی کا کام کرلیا۔ اسی لیے انھیں‌ “شاعرِ مزدور” بھی کہا جاتا ہے۔

مختلف ادبی تذکروں‌ میں‌ اس نام وَر شاعر کے حالات اور ان کی زندگی کے مختلف واقعات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں‌ سے ایک دل چسپ واقعہ ہم آپ کے مطالعے کے لیے یہاں‌ نقل کررہے ہیں۔

مشہور ہے کہ کسی مشاعرہ کے منتظم نے احسان دانش سے درخواست کی کہ ہم ایک مشاعرہ کررہے ہیں، اس میں شامل ہوکر ممنون فرمائیے۔

احسان نے دریافت کیا، ’’معاوضہ کتنا ملے گا؟‘‘

منتظم نے نہایت انکساری سے جواب دیا۔ ’’آپ اس مشاعرہ میں معاوضہ کے بغیر شمولیت فرماکر کم ترین کو شکر گزار فرمائیں۔‘‘

احسان دانش اس کی انکساری سے قطعاً متاثر نہ ہوئے اور خاصا کاروباری انداز اپناتے ہوئے کہا۔

’’بندہ نواز! آپ کو ممنون فرمانے میں مجھے کوئی اعتراض نہ تھا اور میں بغیر معاوضہ کے آپ کے مشاعرہ میں چلا آتا، لیکن اُس وقت جب میرے شعروں سے میرے بچوں کا پیٹ بھرسکتا۔ آپ خود ہی غور فرمائیے قبلہ کہ گھوڑا گھاس سے محبت کرے گا تو کیا آپ کے شکریہ پر زندہ رہ سکے گا؟‘‘

احسان دانش کے اس جواب نے یقینا منتظم کو ناراض اور ان سے متعلق بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہو گا، لیکن جو لوگ ان سے واقف تھے، وہ جانتے تھے کہ احسان دانش نے ایسا جواب کیوں‌ دیا‌۔

Comments

یہ بھی پڑھیں