The news is by your side.

Advertisement

فانی بدایونی: وکالت کے پیشے سے بیزار شاعر کی کہانی!

شوکت علی خاں نے 1879 میں بدایوں کے ایک گھر میں آنکھ کھولی۔ عربی اور فارسی سیکھنے کے دوران شعروادب سے لگاؤ ہو گیا اور خود بھی شاعری کرنے لگے۔ اس دنیا میں فانیؔ کے تخلص سے شہرت پائی۔

فانی نے بی اے کرنے کے بعد ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اور والد کے اصرار پر وکالت شروع کی، لیکن اس پیشے سے کوئی دل چسپی نہ تھی، اس لیے بیزار ہو کر گھر بیٹھ گئے۔

والد کا انتقال ہوا تو غربت اور تنگ دستی نے آ گھیرا. اسی زمانے میں‌ حیدرآباد دکن سے بلاوا آیا تو وہاں چلے گئے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے۔ ان کا انتقال 1941ء میں ہوا۔

اردو ادب کے نام ور شعرا اور نقادوں نے فانیؔ بدایونی کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔

اِک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مَر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ
آؤ دیکھو نا تماشا مِرے غم خانے کا
ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں
لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا
ہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاں
کہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا
کہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانی
آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا
ہر نَفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
زندگی نام ہے مَر مَر کے جیے جانے کا

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں