The news is by your side.

Advertisement

گلبرگہ کے فضل گلبرگوی اور روئے گُل کا تذکرہ

فضل گلبرگوی اردو کے اُن شعرا میں‌ سے ایک ہیں‌ جنھوں نے غزل اور نظم کی اصناف میں اپنی انقلابی فکر اور نظریات کو نہایت لطیف اور پُراثر انداز میں اس طرح سمویا کہ ایک طرف یہ کلام اُن کے سیاسی اور سماجی شعور کا آئینہ نظر آتا ہے اور دوسری جانب شاعر کے فن کی پختگی اور جمالیاتی اظہار کی تازگی کا نمونہ ہے۔ فضل گلبرگوی کے اشعار میں ان کا احساسِ درد مندی نمایاں ہے۔

محبوب حسین جگر (جوائنٹ ایڈیٹر، روزنامہ سیاست، حیدرآباد دکن) نے فضل گلبرگوی کے شعری مجموعے روئے گُل پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا تھا،

"حیدر آباد نے زبان و ادب، تہذیب اور تمدن کو بے نہایت آب و تاب بخشی۔ پیار و محبّت کی اس سرزمین کا ایک خطّۂ پاک گلبرگہ بھی ہے، جہاں اردو کا اوّلین نثر نگار مطلعِ ادب پر طلوع ہوا، جس کی تعلیمات سے نگر نگر چاندنی سی پھیل گئی۔ رشد و ہدایت، نیکی اور بھائی چارگی نیز گنگا جمنی روایات کو دکن کی مشترکہ تہذیب کہا جاتا ہے۔

فضل گلبرگوی کا روئے گُل اسی روایت کا صحّت مند، ترقی پذیر اور عصری فکر و دانش کا گل دستہ ہے۔ فضل گلبرگوی کی غزلوں کا لہجہ تیکھا، اور دل میں اترنے والا ہے۔ ان کے اظہار کا اسلوب کلاسیکی اقدار کا حامل ہوتے ہوئے بھی تازگیِ فکر کا خوش گوار امتزاج معلوم ہوتا ہے۔

فضل گلبرگوی نے ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سوچ کر شعر کہے ہیں۔ اس لیے ان کے مجموعہ کو عطر سخن قرار دوں تو بیجا نہ ہو گا۔ انسانی اقدار کی تقدیس، سماجی کشمکش، معاشی الجھنوں اور عوامی احساسات کا شعور ان کی غزلوں اور نظموں کا نمایاں وصف ہے۔

فضل نے حیدر آباد(دکن) کے جاگیردارانہ نظام کے زمانے میں آنکھیں کھولیں۔ مجلس کی تحریک نے بھی انھیں کھینچا، انقلابوں کی گھن گرج سے بھی ان کے کان آشنا رہے۔ پھر یہ پاکستان چلے گئے۔ فکرو نظر کے زاویے بدلے، مگر ان کا ذہن اور سوچنے کا طور طریق وہی رہا جو حیدر آبادیوں اور عثمانین کا رہا ہے۔

فضل کی ابیات میں ہندی کی لطافت اور کوملتا بھی من موہنی سی لگتی ہے۔ غزلوں میں ترنم، سلاست، نیا پن اور پوری شاعری کی مہک اور تازگی ملتی ہے۔”

ادبی ماہ نامہ سب رَس کے مدیر اور متعدد کتابوں کے مصنّف خواجہ حمید الدین شاہد نے فضل گلبرگوی کی شاعری پر یوں تبصرہ کیا:

"اُن کی غزلیں سادگی اور پُرکاری کے علاوہ لطیف احساسات کی ترجمان ہیں۔ شیریں اور مناسب ہندی الفاظ کے بَر موقع استعمال نے ان کی غزلوں کا حسن دوبالا کر دیا ہے۔”

اردو زبان کے اس شاعر کے کلام سے یہ انتخاب حاضر ہے۔

غزل
ذہن پہ بندش، فکر پہ پہرے
کون تمھارے شہر میں ٹھہرے
آپ کی بستی دیکھ لی ہم نے
زخمی روحیں، اترے چہرے
کس کا گلشن، کیسی جنّت
ٹوٹ گئے سب خواب سنہرے
اُف یہ پراسرار کتابیں
پڑھتا ہوں احباب کے چہرے
فضل نہ چھیڑو پیار کے نغمے
لوگ یہاں کے گونگے بہرے

شاعر کا یہ خوب صورت کلام ملاحظہ کیجیے۔

کیوں کسی غیر کی آشفتہ بیانی لکھتے
وقت ملتا تو ہم اپنی ہی کہانی لکھتے
وہ تو یہ کہیے کہ ہم بھی نگراں تھے ورنہ
لوگ آہوں کو دھواں خون کو پانی لکھتے
کون گلشن میں سمجھتا گل و لالہ کی زباں
ہم اگر شرح نہ کرتے، نہ معانی لکھتے
اور دکھ بڑھ گیا رودادِ گلستاں لکھ کر
اس سے اچھا تھا کوئی اور کہانی لکھتے
فضل اک پھول سے چہرے کا خیال آیا تھا
ورنہ ہم دہر کے ہر نقش کو فانی لکھتے

فضل گلبرگوی کا ایک شعر پیشِ‌ خدمت ہے

یہ وقت ہی بتائے گا بازی ہے کس کے ہاتھ
تم خوش ہوا کرو کہ ہمیں مات ہوگئی

یہ غزل دیکھیے

اپنے مسلک سے ہٹ گئے رستے
راستے سے پلٹ گئے رستے
کارواں کو تھی زندگی کی تلاش
اور لاشوں سے پٹ گئے رستے
اہلِ دل جس طرف سے گزرے ہیں
احتراماً سمٹ گئے رستے
شوق کو رہنما بنایا تھا
آپ ہی آپ کٹ گئے رستے
فضل یہ کون سُوئے دار چلا
نقشِ پا سے لپٹ گئے رستے

فضل گلبرگوی 1914ء میں‌ پیدا ہوئے عبدالرّحیم نام تھا، فضل تخلّص کیا اور اپنے آبائی وطن کی نسبت بھی ساتھ ہی جوڑ لی اور فضل گلبرگوی مشہور ہوئے۔ حیدرآباد دکن میں اُن کا کاروبار تھا، لیکن کاروبار سے زیادہ دل چسپی سیاست میں رہی۔ بہادر یار جنگ کے خاصے قریب رہے۔ خاکسار تحریک سے وابستہ ہوئے اور باقاعدہ وردی پہنا کرتے تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہجرت کرکے کراچی آگئے اور یہاں‌ ایک بینک میں ملازم ہوئے۔ فضل گلبرگوی نے اسی شہر میں 1994ء میں‌ وفات پائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں