The news is by your side.

Advertisement

” تمہارا بیٹا بڑا پکا Flirt ہے…”

ٹریننگ کالج، علی گڑھ
24 جولائی 1945

میرے اپنے اختر

پچھلا میرا خط تمہیں مل گیا ہوگا۔ تم خود پریشان ہو، اس پر میں بھی تمہاری فکروں میں دانستہ اضافہ کرتی رہتی ہوں، مگر کیا کروں ساجن! تمہارے سوا کوئی اور دکھائی بھی تو نہیں پڑتا۔ میرا تو اب کوئی نہیں ہے سوا تمہارے۔ اگر تمہیں اس احساس سے کچھ تسکین ممکن ہے تو اِسی کو بہت سمجھو۔ میں تمہارے ہی سہارے جیتی ہوں اختر!

خط کل ہی لکھتی مگر سلیبس خریدنا تھا۔ دنیا کے اس سِرے پر رہتی ہوں کہ نہ مجھے کسی کی کوئی خبر نہ کسی کو میری۔ کل شام بد دقّت ہزار تانگہ حاصل کیا، شمشاد بلڈنگ پہنچ کر سلیبس لائی۔ زیدی وقت وقت پر آتے ہیں، باقی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ کوئی کام نہیں نکل سکتا۔ پھر آج کل تو ان کی بیگم صاحبہ میرٹھ گئی ہوئی ہیں، کوئی ایک ہفتے کے لیے اپنی بہن کے گھر، وہ کوئی میری طرح پابند تو نہیں۔ اگر نفیس اور اماں جان نہ ہوتیں تو تنہا گھر میں مجھے رہنا ہی پڑتا، مگر حال درست ہوجاتا۔

لکھنؤ سے آج ہی حمیدہ کا خط آیا۔ رحیم قطعی راضی نہیں ہے۔ بہرحال ہر طرف ہاتھ پیر چلاتی ہوں مگر نتیجہ کچھ نہیں۔ اماں جان ویسے دن بھر کام کرتی رہتی ہیں مگر جادو کو کوئی دل چسپی ان سے نہیں، ان کی گود میں پہنچتے ہی چیخنا شروع کرتا ہے۔ نفیس کی مصاحبت البتہ پسند ہے۔ پرسوں گرلز کالج لے کر گئی تھی، ہر استانی سے عشق بازی کی۔ سب کی رائے ہے کہ تمہارا بیٹا بڑا پکا Flirt ہے۔ کیوں نہ ہو ”باپ پر پوت پتا پر گھوڑا۔“

اس کی تندرستی البتہ بہت گرگئی ہے۔ دودھ کے سلسلے میں مجھے جن الجھنوں سے دوچار ہونا پڑا ہے ان کا علم تمہیں نہیں۔ بمشکل ایک گوالہ گائے کا دودھ دینے پر راضی ہوا تھا۔ کل اس قدر شوخ بسنتی رنگ کا دودھ لے کر آیا کہ عقل دنگ رہ گئی۔ ڈانٹ پھٹکار ہوئی، دھمکی دی گئی، پتا چلا کہ موذی بھینس کے دودھ میں رنگ ملاکر لاتا رہا ہے اور میری معصوم جان کو مستقل زہر پلاتا رہا ہے۔

رات بھر ایسی ذہنی کوفت رہی کہ اپنی آسائش کی خاطر میں اس غریب کو کس قدر تکلیف میں مبتلا کیے ہوئے ہوں۔ بس جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ٹھکرا کر اپنے بچے کی ہو کر رہوں؛ مگر دنیا کو میں ٹھکراتی ہوں تو جواب میں کیا وہ مجھے نہ ٹھکرائے گی اختر؟ غرض کہ دماغی کشمکش سے کسی لحظہ مجھے فرصت نہیں ہوتی۔

سوچتی ہوں کہ کل مشن اسکول چلی جاؤں، شاید ادھر کے علاقے میں کوئی عیسائی عورت رضامند ہوجائے بچے کی پرورش پر۔ ٹریننگ کالج کا کام چل نکلا ہے۔ مصروفیت بڑھ گئی ہے۔ ادھر ماجد کبھی کبھی آجاتے ہیں۔ جذبی رشید صاحب کے مہمان ہیں، کبھی وہ آ نکلتے ہیں۔ مجھے فرصت ہوئی تو برآمدہ میں کھڑی ہوکر بات کرلیتی ہوں۔

نفیس کا داخلہ ہوسٹل میں نہیں ہوسکا ہے اب تک۔ ممکن ہے کہ داخلہ نہ ہونے کی صورت میں اس وقت تک وہ میرے ہی پاس قیام کرے جب تک آپا کو فراغت ہو۔ پھر گھر درست ہو۔

تم خط لکھ دیا کرو اختر۔ اگر میری زندگی میں کبھی وہ منحوس لمحہ بھی آجائے کہ تمہیں میرا واقعی خیال نہ رہے تو بھی میں تم سے یہی چاہوں گی کہ تم مجھے فریب دیتے رہنا۔ کیا اتنا بھی نہ کر سکو گے میرے ساتھ؟

نثار (پرویز) کا سلیبس اور ایوب (مرزا وجد چغتائی) کا بھی بھیج رہی ہوں۔ ایوب کے لیے بقیہ تفصیلات پھر لکھوں گی۔ ایوب کا کارڈ بھی کل ہی ملا۔
اپنی شاعری ہر رنگ میں برقرار رکھتے ہو، دوسروں کو نشانہ بناکر خود ہی مظلوم بنتے ہو! خیر تمہیں ہر طرح کی آزادی ہے، شاعر ہو۔
جاوید تمہیں بہت پیار کرتا ہے۔ اب تو وہ باقاعدہ پیار کرنا سیکھ گیا ہے۔
Believe it or not
زیادہ پیار
تمہاری اپنی
صفیہ

(نوٹ: ممتاز شاعر جاں نثار اختر کے نام ان کی بیگم صفیہ اختر کا خط۔ اس خط میں‌ انھوں‌ نے اپنے بیٹے جاوید اختر کا ذکر “جادو” کی عرفیت سے کیا ہے، جو ہندوستان کے مقبول شاعر اور اپنی گیت نگاری‌ کے لیے مشہور ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں